السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: من نذر أن ينحر بغيرها ليتصدق باب: اس شخص کا بیان جس نے مکہ کے علاوہ کسی اور جگہ قربانی کرنے کی نذر مانی تاکہ وہ صدقہ کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗١٤٣⦘ الْمِصْرِيُّ ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ - وَهُوَ ابْنُ ضَبَّةَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ، وَأَنَا مَعَ أَبِي، فَذَكَرَتِ الْحَدِيثَ، قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ أَبِي فِي ذَلِكَ الْمَقَامِ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا قَالَ: خَمْسِينَ شَاةً عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عَلَيْهَا مِنْ هَذِهِ الْأَوْثَانِ شَيْءٌ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَأَوْفِ لِلَّهِ مَا نَذَرْتَ لَهُ " قَالَتْ: فَجَمَعَهَا أَبِي، فَجَعَلَ يَذْبَحُهَا فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ شَاةٌ، فَطَلَبَهَا وَهُوَ يَقُولُ: اللهُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي، حَتَّى أَخَذَهَا فَذَبَحَهَا ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ يَزِيدَ وَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ وُلِدَ لِي وَلَدٌ ذَكَرٌ أَنْ أَنْحَرَ عَلَى رَأْسِ بُوَانَةَ فِي عَقَبَةٍ مِنَ الثَّنَايَا عِدَّةً مِنَ الْغَنَمِ ".سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں دیکھا، وہ اپنی اونٹنی پر تھے اور میں اپنے والد کے ساتھ تھی۔ راوی نے حدیث کو ذکر کیا، اس جگہ میرے والد نے آپ ﷺ سے عرض کیا: میں نے کئی بکریاں ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق انہوں نے یہی کہا: بوانہ کی چوٹی پر پچاس بکریاں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا وہاں ان بتوں میں سے کوئی چیز ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے اپنی نذر پوری کرو۔“ میرے والد نے بکریاں جمع کر کے ذبح کرنی شروع کیں تو ایک بکری بھاگ گئی۔ اس کو پکڑ کر لائے اور کہہ رہے تھے: «اللَّهُمَّ أَوْفِ عَنِّي نَذْرِي» ”اے اللہ! میری نذر کو پورا کرنا۔“ پھر اس کو ذبح کر دیا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ (میرے والد نے) کہا: میں نے نذر مانی کہ اگر میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو بوانہ کی چوٹی پر گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں کئی بکریاں ذبح کروں گا۔