السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: من نذر أن ينحر بغيرها ليتصدق باب: اس شخص کا بیان جس نے مکہ کے علاوہ کسی اور جگہ قربانی کرنے کی نذر مانی تاکہ وہ صدقہ کرے۔
حدیث نمبر: 20141
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي غَرَائِبِ الشُّيُوخِ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ السَّوَّاقُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِبُوَانَةَ، فَقَالَ: " فِي قَلْبِكَ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " أَوْفِ بِنَذْرِكَ ".حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے نذر مانی کہ بوانہ نامی جگہ پر ذبح کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے دل میں جاہلیت کی کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر۔“