کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے اس میں اعادہ (دہرانے) کا حکم دیا، اور جو حصہ سوار ہو کر طے کیا تھا اس میں پیدل چلنے اور جو حصہ پیدل طے کیا تھا اس میں سوار ہونے کا بیان تاکہ نذر کے مطابق عمل پورا ہو جائے۔
حدیث نمبر: 20128
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أُذَيْنَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ جَدَّةٍ لِي عَلَيْهَا مَشْيٌ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَجَزَتْ فَأَرْسَلَتْ مَوْلًى لَهَا إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ، فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ، ثُمَّ لِتَمْشِ مِنْ حَيْثُ عَجَزَتْ "..
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن اذینہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی دادی کے ساتھ چلا جس نے پیدل چل کر حج کی نذر مانی تھی۔ جب راستے میں پہنچے تو وہ چلنے سے عاجز آگئی۔ اس نے اپنے غلام کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف روانہ کیا تاکہ ان سے سوال کریں۔ میں بھی ساتھ گیا۔ فرمانے لگے: اس کو حکم دو وہ سوار ہو جائے، پھر یہاں سے پیدل چلے جہاں سے وہ عاجز آگئی تھی۔
حدیث نمبر: 20129
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " وَتَنْحَرُ بَدَنَةً ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرح بیان کرتے ہیں، لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ ایک اونٹ قربانی بھی کرے۔
حدیث نمبر: 20130
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السِّمَّرِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ⦗١٤٠⦘ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَمَشَى نِصْفَ الطَّرِيقِ، ثُمَّ رَكِبَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " إِذَا كَانَ عَامُ قَابِلٍ فَلْيَرْكَبْ مَا مَشِيَ، وَيَمْشِي مَا رَكِبَ وَيَنْحَرْ بَدَنَةً ".
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل، عامر شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق سوال ہوا جس نے بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی تھی، وہ آدھا راستہ چلا پھر سوار ہو گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آئندہ سال اتنی سواری کرے جتنا چلا اور اتنا چلے جتنی سواری کی، اور ایک اونٹ ذبح کرے۔
حدیث نمبر: 20131
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ: قَالَ: كَانَ عَلَيَّ مَشْيٌ، فَأَصَابَتْنِي خَاصِرَةٌ فَرَكِبْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَكَّةَ فَسَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرَهُ، فَقَالُوا: عَلَيْكَ هَدْيٌ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ سَأَلْتُ فَأَمَرُونِي أَنْ أَمْشِيَ مِنْ حَيْثُ عَجَزْتُ، فَمَشَيْتُ مَرَّةً أُخْرَى ". وَالَّذِي أَجَازَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ النُّذُورِ مِنْ وُجُوبِ الْمَشْيِ فِيمَا قَدَرَ عَلَيْهِ وَسُقُوطِهِ فِيمَا عَجَزَ عَنْهُ أَشْبَهُ الْأَقَاوِيلِ بِحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَأَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ أَوْلَى بِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ذمہ چلنا تھا، مجھے کوکھ کی بیماری لگ گئی، میں نے سواری کر لی، جب میں مکہ آیا تو عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ وغیرہ سے سوال کیا، انہوں نے کہا: آپ کے ذمہ قربانی ہے، جب میں مدینہ آیا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں اس جگہ سے دوبارہ چلوں جہاں سے چلنے پر عاجز آ گیا تھا، میں دوبارہ وہاں سے چلا۔