کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس قدر راستہ سواری پر طے کیا اس کے بدلے ہدی (قربانی) دینے اور اس میں روایات کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 20114
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، وَإِنَّهَا لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْيِ أُخْتِكَ، فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی، وہ اس کی طاقت نہ رکھتی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تیری بہن کے پیدل چل کر جانے سے غنی ہے، وہ سواری کرے اور ایک اونٹ کی قربانی دے۔“
حدیث نمبر: 20115
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ، لِتَحُجَّ رَاكِبَةً وَتُهْدِي بَدَنَةً " كَذَا قَالَ: " وَتُهْدِي بَدَنَةً " وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ هَمَّامٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " وَتُهْدِي هَدْيًا " وَخَالَفَهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ فَرَوَاهُ عَنْ قَتَادَةَ دُونَ ذِكْرِ الْهَدْيِ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے کہا کہ اس کی بہن نے بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تیری بہن کی نذر سے بے پروا ہے، وہ سوار ہو کر حج کرے اور اس کے عوض“
حدیث نمبر: 20116
حافظ ثناء اللہ
(ب) ہمام رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ”وہ قربانی دے۔“
حدیث نمبر: 20116
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ عَنْ نَذْرِهَا، فَمُرْهَا فَلْتَرْكَبْ ". ⦗١٣٧⦘ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِكْرِمَةَ دُونَ ذِكْرِ الْهَدْيِ فِيهِ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ فَأَرْسَلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْهَدْيَ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس کی نذر سے بے پروا ہے، اس کو حکم دو کہ وہ سوار ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 20117
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، فَسَأَلَ عُقْبَةُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مُرْهَا أَنْ تَرْكَبَ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ "، أَوْ، " مَشْيِ أُخْتِكَ ". شَكَّ سَعِيدٌ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ، عکرمہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی، تو عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ وہ سوار ہو جائے، اللہ تیری بہن کی نذر یا اس کے چلنے سے بے پروا ہے۔“ سعید کو شک ہے۔
حدیث نمبر: 20118
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بِمَعْنَى هِشَامٍ، لَمْ يَذْكُرِ الْهَدْيَ وَقَالَ فِيهِ: " مُرْ أُخْتَكَ فَلْتَرْكَبْ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ بِمَعْنَاهُ، وَقِيلَ: عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ دُونَ ذِكْرِ الْهَدْيِ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے ہشام رحمہ اللہ کی روایت کے ہم معنیٰ نقل فرماتے ہیں، لیکن اس نے قربانی کا ذکر نہیں کیا۔ اس میں ہے کہ ”اپنی بہن کو سوار ہونے کا حکم دے۔“
حدیث نمبر: 20119
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ لَا يَصْنَعُ بِمَشْيِ أُخْتِكَ إِلَى الْبَيْتِ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میری بہن نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری بہن کے پیدل چلنے سے اللہ کو کیا غرض۔“
حدیث نمبر: 20120
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا، لِتَحُجَّ رَاكِبَةً، ثُمَّ تُكَفِّرَ يَمِينَهَا " تَفَرَّدَ بِهِ شَرِيكٌ الْقَاضِي.
حافظ ثناء اللہ
کریب، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کو تیری بہن کے اس عمل کی کوئی پروا نہیں۔ وہ سوار ہو کر حج کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔“
حدیث نمبر: 20121
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ ⦗١٣٨⦘ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَحُجَّ لِلَّهِ مَاشِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مُرْ أُخْتَكَ فَلْتَخْتَمِرْ وَلِتَرْكَبْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مالک، سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی بہن نے نذر مانی کہ بغیر اوڑھنی پیدل چل کر حج کرے گی۔ کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی بہن کو حکم دو اوڑھنی لے، سواری کرے اور تین دن کے روزے رکھے۔“
حدیث نمبر: 20122
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ: لَا يَصِحُّ فِيهِ الْهَدْيُ يَعْنِي: فِي حَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں قربانی کا تذکرہ درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20123
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي رَكْبٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، إِذَ بَصُرَ بِخَيَالٍ قَدْ نَفَرَتْ مِنْهُ إِبِلُهُمْ، فَأَنْزَلَ رَجُلًا، فَنَظَرَ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ عُرْيَانَةٍ نَاقِضَةٍ شَعْرَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَحُجَّ الْبَيْتَ مَاشِيَةً عُرْيَانَةً نَاقِضَةً شَعْرِي، فَأَنَا أَتَكَمَّنُ بِالنَّهَارِ وَأَتَنَكَّبُ الطَّرِيقَ بِاللَّيْلِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهَا فَمُرْهَا فَلْتَلْبَسْ ثِيَابَهَا وَلْتُهْرِقْ دَمًا " هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُنْقَطِعٍ، دُونَ ذِكْرِ الْهَدْيِ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آدھی رات کے وقت ایک قافلے میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ اچانک ایک قافلہ کو دیکھا، جن کا اونٹ بھاگ گیا تھا۔ ایک آدمی اترا، اس نے دیکھا کہ ایک عورت ننگی، کھلے بال اونٹ پر سوار ہے۔ اس نے کہا: تجھے کیا ہے؟ وہ کہنے لگی: میں نے نذر مانی ہے کہ بیت اللہ کا حج ننگے اور کھلے بالوں کروں گی۔ میں دن کو چھپ جاتی ہوں اور رات کو سفر کرتی ہوں۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو خبر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ وہ کپڑے پہنے اور قربانی دے۔“
حدیث نمبر: 20124
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَانَتْ مِنْهُ نَظْرَةٌ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ نَاشِرَةٍ شَعْرَهَا، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ؟ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً نَاشِرَةً شَعْرَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرُوهَا فَلْتُغَطِّي رَأْسَهَا، وَلْتَرْكَبْ ".
حافظ ثناء اللہ
ایوب عکرمہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نظر ایک بکھرے ہوئے بالوں والی عورت پر پڑی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے نذر مانی ہے کہ پیدل چل کر، بال کھول کر حج کرے گی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ اپنے سر کو ڈھانپے اور سواری کر لے۔“
حدیث نمبر: 20125
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَلَّمَا قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَثَّنَا فِيهِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ، وَقَالَ: " إِنَّ مِنَ الْمُثْلَةِ أَنْ تَنْذِرَ أَنْ تَخْرِمَ أَنْفَهُ، وَمِنَ الْمُثْلَةِ أَنْ تَنْذِرَ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيًا، ⦗١٣٩⦘ فَإِذَا نَذَرَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا فَلْيُهْدِ هَدْيًا وَلْيَرْكَبْ " وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ صَالِحٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ " فَلْيُهْدِ بَدَنَةً وَلْيَرْكَبْ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی نبی ﷺ ہمارے درمیان بیٹھتے یا تو صدقہ کی ترغیب دیتے یا «الْمُثْلَةِ» (مثلہ) سے منع کرتے اور فرمایا: ”مثلہ یہ ہے کہ آپ اپنی ناک کو چھیدیں یا پیدل چل کر حج کریں۔ جب پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی جائے تو اس کے عوض قربانی دیں اور سواری کریں۔“
(ب) حضرت صالح کی حدیث میں ہے کہ وہ اونٹ کی قربانی دے اور سواری کو اختیار کرے۔
(ب) حضرت صالح کی حدیث میں ہے کہ وہ اونٹ کی قربانی دے اور سواری کو اختیار کرے۔
حدیث نمبر: 20126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاه وَقَالَ " فَلْيُهْدِ بَدَنَةً وَلْيَرْكَبْ " وَلَا يَصِحُّ سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ عِمْرَانَ، فَفِيهِ إِرْسَالٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرُوِيَ فِيهِ: عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
صالح بن رستم رحمہ اللہ نے اس کے ہم معنی ذکر کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ وہ اونٹ کی قربانی دیں اور سواری کو اختیار کریں۔
حدیث نمبر: 20127
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يَحْلِفُ: عَلَيْهِ الْمَشْيُ، فَقَالَ: " يَمْشِي، فَإِنْ عَجَزَ رَكِبَ وَأَهْدَى بَدَنَةً.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں، جس نے پیدل چل کر حج کرنے کی قسم کھائی تھی، پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ پیدل چلے اور اگر عاجز آجائے تو اونٹ کی قربانی کرے۔