کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: ”وہ اپنے میقات سے پیدل چلے گا سوائے اس کے کہ اس نے کسی خاص جگہ کی نیت کی ہو یہاں تک کہ وہ واپس لوٹے“، یہ عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے۔
حدیث نمبر: 20132
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو - يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ عَمَّنْ جَعَلَ عَلَيْهِ الْمَشْيَ إِلَى بَيْتِ اللهِ، مِنْ أَيْنَ يَمْشِي؟ قَالَ: " إِنْ كَانَ نَوَى مَكَانًا فَمِنْ حَيْثُ نَوَى، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَوَى مَكَانًا فَمِنْ مِيقَاتِهِ ". وَأَخْبَرَنِيهِ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ولید بن مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ جس پر بیت اللہ کی طرف چل کر جانا ہو وہ کہاں سے چلے؟ اگر اس نے کسی جگہ کا قصد کیا ہے تو پھر وہاں سے چلے وگرنہ مقررہ میقات سے چلے۔