السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: الاستثناء في اليمين باب: قسم میں استثناء (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَ: قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: كَانَ أَيُّوبُ يَرْفَعُ هَذَا الْحَدِيثَ، ثُمَّ تَرَكَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: لَعَلَّهُ إِنَّمَا تَرَكَهُ لِشَكٍّ اعْتَرَاهُ فِي رَفْعِهِ، وَهُوَ أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيُّ، وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَحَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، وَكَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَكَادُ يَصِحُّ رَفْعُهُ إِلَّا مِنْ جِهَةِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَأَيُّوبُ يَشُكُّ فِيهِ أَيْضًا، وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ مِنْ أَوْجُهٍ صَحِيحَةٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنْ قَوْلِهِ غَيْرَ مَرْفُوعٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حماد بن زید فرماتے ہیں کہ ایوب اس حدیث کو مرفوع بیان کرتے تھے، پھر انہوں نے اسے (مرفوع بیان کرنا) چھوڑ دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: شاید انہوں نے اسے مرفوع ہونے میں پیش آنے والے شک کی وجہ سے چھوڑا ہو، اور یہ ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی ہیں۔ یہ روایت موسیٰ بن عقبہ، عبداللہ بن عمر، حسان بن عطیہ اور کثیر بن فرقد سے بھی نافع کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، نبی ﷺ سے منقول ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا ایوب سختیانی کے طریق کے سوا صحیح نہیں ہوتا، اور ایوب کو بھی اس میں شک ہے۔ جبکہ ایک جماعت کی روایت صحیح طرق سے نافع کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے، مرفوع نہیں۔ واللہ اعلم۔