أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ الْبَشِيرِيُّ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْهَرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ، فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ، فَالْجَرَادُ وَالْحِيتَانُ، وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالطِّحَالُ وَالْكَبِدُ " كَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَخَوَاهُ، عَنْ أَبِيهِمْ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُمْ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ، وَهُوَ الصَّحِيحُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے لیے دو خون اور دو مردار حلال ہیں، دو خون سے مراد جگر اور تلی ہے اور دو مردار سے مراد مچھلی اور ٹڈی ہے۔“
عبدالرحمن اور ان کے دونوں بھائیوں نے اپنے والد سے اسی طرح (مرفوع) روایت کیا ہے، جبکہ دوسروں نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔
عبدالرحمن اور ان کے دونوں بھائیوں نے اپنے والد سے اسی طرح (مرفوع) روایت کیا ہے، جبکہ دوسروں نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبَغْدَادِيِّ الْهَرَوِيُّ، بِهَا أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " إِنِّي لِآكُلُ الطِّحَالَ، وَمَا بِي إِلَيْهِ حَاجَةٌ، إِلَّا لِيَعْلَمَ أَهْلِي أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تلی کھا لیتا تھا حالانکہ مجھے ضرورت نہ ہوتی، صرف اس لیے کہ میرے گھر والے جان لیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُعَاذٌ، ثنا بِشْرٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: " آكُلُ الطِّحَالَ؟ "، قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: إِنَّ عَامَّتَهَا دَمٌ، قَالَ: " إِنَّمَا حُرِّمَ الدَّمُ الْمَسْفُوحُ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: کیا میں تلی کھا لوں؟ فرمایا: ہاں۔ وہ کہنے لگا: اس میں اکثر خون ہوتا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ صرف بہنے والا خون حرام ہے۔