کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: پنیر میں سے کیا حلال ہے اور کیا حلال نہیں ہے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنْ كُلُوا الْجُبْنَ مِمَّا صَنَعَهُ أَهْلُ الْكِتَابِ " قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ إِبْرَاهِيمُ الْعُقَيْلِيُّ، وَعَمُّهُ ثَوْرُ بْنُ قُدَامَةَ، رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ، بنو عقیل کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں، جو اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط ہمارے سامنے پڑھا گیا، جس میں تحریر تھا کہ اہل کتاب کا بنا ہوا پنیر کھالو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19690
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ⦗١١⦘ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ الْعُقَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي ثَوْرُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ " لَا تَأْكُلُوا مِنَ الْجُبْنِ إِلَّا مَا صَنَعَ أَهْلُ الْكِتَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
ثور بن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ صرف اہل کتاب کا بنا ہوا پنیر کھاؤ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19691
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقديم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَكَنٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ - هُوَ - ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كُلُوا الْجُبْنَ مَا صَنَعَ الْمُسْلِمُونَ وَأَهْلُ الْكِتَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن سکن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسلمان اور اہل کتاب کا بنا ہوا پنیر کھاؤ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19692
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبَّاسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيٍّ الْبَارِقِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْجُبْنِ، فَقَالَ: " كُلْ مَا صَنَعَ الْمُسْلِمُونَ وَأَهْلُ الْكِتَابِ "، وَرُوِّينَا مِثْلَ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَهَذَا لِأَنَّ السِّخَالَ تُذْبَحُ، فَتُؤْخَذُ مِنْهَا الْإِنْفَحَةُ الَّتِي بِهَا يَصْلُحُ الْجُبْنُ، فَإِذَا كَانَتْ مِنْ ذَبَائِحِ الْمَجُوسِ، وَأَهْلِ الْأَوْثَانِ لَمْ يَحِلَّ، وَهَكَذَا إِذَا مَاتَتِ السَّخْلَةُ فَأُخِذَتْ مِنْهَا الْإِنْفَحَةُ لَمْ تَحِلَّ.
حافظ ثناء اللہ
علی بارقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے پنیر کے متعلق سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”جو مسلمان اور اہل کتاب بنائیں کھا لیا کرو۔“ اس طرح کی روایت سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
نوٹ: بکری کا چھوٹا بچہ جو ابھی دودھ پیتا ہو اس کو ذبح کرنے کے بعد پیٹ سے کوئی چیز نکالنا پھر کپڑے میں لت پت کرنے کے بعد وہ پنیر کی طرح ہو جاتی ہے جس کو لوگ پنیر کی طرح کھاتے ہیں۔ اگر یہ ذبح شدہ مجوس اور بت پرستوں کا ہو تو کھانا جائز نہیں۔ اگر بکری کا بچہ مر جائے تو تب بھی اس سے پنیر کی مانند کوئی چیز بنانا جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19693
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْجُبْنِ وَالسَّمْنِ، فَقَالَ: " سَمِّ وَكُلْ "، فَقِيلَ: إِنَّ فِيهِ مَيْتَةً، فَقَالَ: " إِنْ عَلِمْتَ أَنَّ فِيهِ مَيْتَةً، فَلَا تَأْكُلْهُ ". وَقَدْ كَانَ بَعْضُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ لَا يَسْأَلُ عَنْهُ تَغْلِيبًا لِلطَّهَارَةِ، رُوِّينَا ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَغَيْرِهِمَا، وَبَعْضُهُمْ يَسْأَلُ عَنْهُ احْتِيَاطًا وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " لَأَنْ أَخِرَّ مِنْ هَذَا الْقَصْرِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ آكُلَ جُبْنًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ " وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنِ الْجُبْنِ، وَلَا يَسْأَلُونَ عَنِ السَّمْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
جبلہ بن سحیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پنیر اور گھی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔ کہا گیا: اگر وہ مردہ ہو؟ تو فرمایا: اگر تمہیں معلوم ہو کہ وہ مردار سے بنایا گیا ہے تب نہ کھاؤ۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم طہارت کو ترجیح دیتے ہوئے سوال نہیں فرماتے تھے، یہ بات ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم وغیرہ سے منقول ہے، اور بعض حضرات احتیاط کی وجہ سے سوال کر لیتے تھے۔ ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں اس محل سے گر پڑوں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایسا پنیر کھاؤں جس کے بارے میں سوال نہ کروں۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم پنیر کے متعلق سوال کر لیتے تھے لیکن گھی کے متعلق سوال نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19694
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ - هُوَ - الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " كُنَّا نَأْكُلُ الْجُبْنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعْدَ ذَلِكَ لَا نَسْأَلُ عَنْهُ، وَكَانَ أَنَسٌ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مَا صَنَعُ الْمُسْلِمُونَ، وَأَهْلُ الْكِتَابِ " ⦗١٢⦘ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ مَتْرُوكٌ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آپ ﷺ کے زمانے میں اور آپ کے بعد بھی پنیر کھاتے تھے، لیکن اس کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ صرف وہ پنیر کھاتے تھے جو مسلمان اور اہل کتاب بناتے تھے۔
ابان بن ابی عیاش متروک ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19695
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: قُلْتُ: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي لِابْنِ عُمَرَ أَوْ قَالَ غَيْرِي مَرَرْتُ عَلَى دَجَاجَةٍ مَيْتَةٍ، فَوَطِئْتُ عَلَيْهَا، فَخَرَجَتْ مِنِ اسْتِهَا بَيْضَةٌ، آكُلُهَا؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَرَرْتُ عَلَى دَجَاجَةٍ مَيْتَةٍ، فَوَطِئْتُ عَلَيْهَا، فَخَرَجَتْ مِنِ اسْتِهَا بَيْضَةٌ فَفَرَّخْتُهَا، فَأَخْرَجَتْ فَرْخًا، آكُلُهُ؟ "، قَالَ: " مِمَّنْ أَنْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: " مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ".
حافظ ثناء اللہ
کثیر بن جمعان فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعبدالرحمن، یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا (یا میرے علاوہ کسی اور نے کہا): میرا گزر ایک مردہ مرغی کے پاس سے ہوا، میں نے اس کو روندا تو انڈا باہر آگیا، کیا یہ انڈا میں کھا لوں؟ فرمایا: نہیں۔ پھر پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! اگر میں مردہ مرغی کے پاس سے گزروں اور اس پر وزن ڈالوں اور اس سے انڈا نکل آئے اور اس انڈے سے چوزہ نکل آئے تو کیا پھر میں اسے کھا لوں؟ فرمایا: تو کن میں سے ہے؟ میں نے کہا: اہل عراق سے ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19696
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»