کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ساہی اور زمین کے حشرات (کیڑے مکوڑوں) کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَبِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ تُمَيْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ، فَتَلَا: {قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلِيَّ مُحَرَّمًا} [الأنعام: ١٤٥]، الْآيَةَ، قَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " خَبِيثَةٌ مِنَ الْخَبَائِثِ ". فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنْ كَانَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا فَهُوَ كَمَا قَالَ. هَذَا حَدِيثٌ لَمْ يُرْوَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَهُوَ إِسْنَادٌ فِيهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
عیسیٰ بن نمیلہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سیہ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی ﴿قُلْ لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ [سورة الأنعام: 145] ان کے پاس موجود ایک بزرگ نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نبی ﷺ کے پاس اس کا تذکرہ ہوا تو فرمایا: ”یہ خبیث چیزوں میں سے ہے۔“ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسا آپ ﷺ نے فرمایا۔
یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے، اور اس سند میں ضعف ہے۔
یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے، اور اس سند میں ضعف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ⦗٥٤٨⦘ أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ بِضَبٍّ وَقُنْفُذٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَتْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُ وَلَمْ يَأْكُلْ. هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ جَعْفَرٍ أَبِي بِشْرٍ مَوْصُولًا دُونَ ذِكْرِ الْقُنْفُذِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ مَوْصُولًا دُونَ ذِكْرِ الْقُنْفُذِ، ثُمَّ هَذَا إِنْ صَحَّ لَمْ يَدُلَّ عَلَى التَّحْرِيمِ، وَكَأَنَّهُ عَافَهُ كَمَا عَافَ الضَّبَّ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام حفید رضی اللہ عنہا گوہ اور سیہ لے کر نبی ﷺ کے پاس آئیں اور انہیں آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا تو آپ ﷺ نے انہیں آگے سے ہٹا دیا، کھایا نہیں۔
یہ روایت مرسل ہے، اور یہ موصول سند سے بھی مروی ہے لیکن اس میں سیہ کا ذکر نہیں۔ اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو حرمت پر دلالت نہیں کرتی، گویا آپ ﷺ نے اسے بھی ایسے ہی ناپسند کیا جیسے گوہ کو ناپسند کیا۔
یہ روایت مرسل ہے، اور یہ موصول سند سے بھی مروی ہے لیکن اس میں سیہ کا ذکر نہیں۔ اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تو حرمت پر دلالت نہیں کرتی، گویا آپ ﷺ نے اسے بھی ایسے ہی ناپسند کیا جیسے گوہ کو ناپسند کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا غَالِبُ بْنُ حُجْرَةَ، حَدَّثَنِي مِلْقَامُ بْنُ تَلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَسْمَعْ لِحَشَرَةِ الْأَرْضِ تَحْرِيمًا. وَهَذَا إِنْ صَحَّ لَمْ يَدُلَّ عَلَى الْإِبَاحَةِ، وَمَا لَمْ يَسْمَعْهُ وَسَمِعَهُ غَيْرُهُ فَالْحُكْمُ لِلسَّامِعِ دُونَهُ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَلَّ عَلَى تَحْرِيمِ الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ، فَكَذَلِكَ مَا فِي مَعْنَاهُمَا مِمَّا يَسْتَخْبِثُهُ الْعَرَبُ وَلَا تَأْكُلُهُ فِي غَيْرِ الضَّرُورَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ملقام بن تلب اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حشرات الارض کی حرمت کے بارے میں نبی ﷺ سے نہیں سنا۔ اگر یہ صحیح بھی ہو تب بھی ان کی اباحت پر دلالت نہیں کرتا، لیکن سانپ اور بچھو کی حرمت نبی ﷺ سے منقول ہے اور عرب بھی بغیر ضرورت کے ان کا استعمال نہ کرتے تھے۔