کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: بچے کو عقیقے کے خون میں سے کچھ نہ لگایا جائے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، ثناعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غُلَامٌ ذَبَحَ شَاةً وَلَطَّخَ رَأْسَهُ بِدَمِهَا، فَلَمَّا جَاءَ اللهُ بِالْإِسْلَامِ كُنَّا نَذْبَحُ شَاةً وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنُلَطِّخُهُ بِزَعْفَرَانٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَفِي حَدِيثِ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الْإِبِلِ فَرَعٌ، وَفِي الْغَنَمِ فَرَعٌ، وَيُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ، وَلَا يُمَسُّ رَأْسُهُ بِدَمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جاہلیت میں جب بچہ پیدا ہوتا تو عقیقہ کی بکری کا خون بچے کے سر پر مل دیا جاتا، جب اللہ تعالیٰ نے اسلام پہنچا دیا، پھر ہم بکری ذبح کرتے، بچے کا سر مونڈتے اور اس کے سر پر زعفران لگا دیتے۔
(ب) یزید بن عبداللہ مزنی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹوں میں «الْفَرَعُ» (پہلوٹھی کے بچے کی قربانی) ہے اور بکریوں میں بھی «الْفَرَعُ» ہے، اور بچے کی جانب سے عقیقہ کیا جائے لیکن اس کے سر کو خون نہ لگایا جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19288
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدِيثًا ذَكَرَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي حَدِيثِ الْعَقِيقَةِ قَالَتْ: وَكَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَجْعَلُونَ قُطْنَةً فِي دَمِ الْعَقِيقَةِ وَيَجْعَلُونَهُ عَلَى رَأْسِ الصَّبِيِّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْعَلَ مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقٌ. قَالَ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَوْلُهُ فِي حَدِيثِ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ: أَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى، يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ حَلْقَ الرَّأْسِ، وَالنَّهْيَ عَنْ أَنْ يُمَسَّ رَأْسُهُ بِدَمِهَا.
حافظ ثناء اللہ
عمرہ رحمہا اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عقیقہ کی حدیث میں بیان فرماتی ہیں کہ زمانۂ جاہلیت میں لوگ عقیقہ کے جانور کے خون میں روئی تر کر کے بچے کے سر پر خون لگا دیتے تھے۔ نبی ﷺ نے ”خون کی جگہ خلوق لگانے کا حکم دے دیا۔“
فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ ”بچے کے سر سے پلیدی دور کی جائے۔“ اس سے مراد یہ ہو سکتی ہے کہ سر مونڈا جائے اور بچے کے سر پر خون لگانے سے منع کیا جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19289
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ صَاحِبُ ⦗٥١٠⦘ الْحَوْضِ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ، يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى ". زَادَ الْحَوْضِيُّ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا سُئِلَ عَنِ الدَّمِ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: إِذَا ذَبَحْتَ الْعَقِيقَةَ أَخَذْتَ صُوفَةً مِنْهَا فَاسْتَقْبِلْ بِهَا أَوْدَاجَهَا، ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى تَسِيلَ مِثْلَ الْخَيْطِ، ثُمَّ يُغْسَلُ رَأْسُهُ وَيُحْلَقُ بَعْدُ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ہر بچہ عقیقہ کے عوض گروی رکھا جاتا ہے تو ساتویں دن اس کی جانب سے ذبح کیا جائے، اور اس کا سر مونڈ کر خون لگا دیا جائے۔“ حوضی کی روایت میں زیادتی ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ سے خون لگانے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ عقیقہ کے جانور کو ذبح کر کے اس کی رگوں سے خون لے کر بچے کے سر کی چوٹی پر خون لگائیں کہ دھاگے کی لکیر کی مانند خون بہہ جائے۔ پھر سر دھو کر مونڈ دیا جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19290
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ دون قوله يذمٰي»
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا وَهْمٌ مِنْ هَمَّامٍ: يُدَمَّى. أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ وَيُسَمَّى. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَيُسَمَّى أَصَحُّ، كَذَا قَالَ سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، يَعْنِي عَنْ قَتَادَةَ، وَإِيَاسِ بْنِ دَغْفَلٍ، وَأَشْعَثَ عَنِ الْحَسَنِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ساتویں دن بچے کا سر مونڈ کر نام رکھ دیا جائے۔
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «يُدَمَّى» (خون لگایا جائے) کا لفظ ہمام کا وہم ہے، اور «يُسَمَّى» (نام رکھا جائے) زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے قتادہ سے، اور ایاس بن دغفل اور اشعث نے حسن سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19291
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»