کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قربانی کا جانور ذبح کرنے کے بعد بال مونڈنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19189
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يُضَحِّي عَمَّا فِي بَطْنِ الْمَرْأَةِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ مدینہ میں قربانی کی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے سینگوں والا مینڈھا خریدنے کا حکم دیا، پھر قربانی کے دن مجھے عید گاہ میں ذبح کرنے کا حکم دیا۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں مینڈھے کو ذبح کر کے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آیا، اس کے بعد انہوں نے اپنے سر کے بال منڈوا دیے؛ کیونکہ وہ بیمار ہونے کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ عید نہ پڑھ سکے تھے۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو حج نہ کرے تو قربانی کے بعد سر منڈوانا اس پر واجب نہیں ہے، حالانکہ خود سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام کیا تھا۔