کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: تمام معاہدین (اہلِ عہد) یا ان میں سے بعض کے عہد توڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18855
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ بَنِي النَّضِيرِ وَمَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ مِنَ الْمَكْرِ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ غَدَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَتَائِبِ فَحَصَرَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ: " إِنَّكُمْ وَاللهِ لَا تَأْمَنُونَ عِنْدِي إِلَّا بِعَهْدٍ تُعَاهِدُونَنِي عَلَيْهِ ". فَأَبَوْا أَنْ يُعْطُوهُ عَهْدًا فَقَاتَلَهُمْ يَوْمَهُمْ ذَلِكَ ثُمَّ غَدَا عَلَى بَنِي قُرَيْظَةَ بِالْكَتَائِبِ وَتَرَكَ بَنِي النَّضِيرِ وَدَعَاهُمْ إِلَى أَنْ يُعَاهِدُوهُ فَعَاهَدُوهُ فَانْصَرَفَ عَنْهُمْ، وَغَدَا إِلَى بَنِي النَّضِيرِ بِالْكَتَائِبِ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى الْجَلَاءِ فَهَذَا عَهْدُ بَنِي قُرَيْظَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نضیر کے قصہ میں ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے بارے میں تدبیریں کیں۔ راوی کہتے ہیں کہ صبح کے وقت نبی ﷺ نے لشکر کے ساتھ ان کا محاصرہ کر لیا اور ان سے کہا: ”تم میرے نزدیک حالت امن میں نہیں ہو مگر یہ کہ تم اپنے اس عہد پر رہو، جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔“ انہوں نے عہد دینے سے انکار کر دیا تو آپ نے ان سے قتال کیا۔ پھر بنو قریظہ کی طرف لشکر لے کر گئے اور بنو نضیر کو چھوڑ دیا۔ جب بنو قریظہ سے عہد طلب کیا تو انہوں نے عہد دے دیا، پھر آپ بنو قریظہ کو چھوڑ کر بنو نضیر کی طرف چلے گئے۔ پھر وہ جلا وطنی پر تیار ہو گئے، یہ بنو قریظہ کا عہد تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18855
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18856
وَأَمَّا نَقْضُهُمُ الْعَهْدَ فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، وَعُثْمَانَ بْنِ يَهُوذَا، أَحَدُ بَنِي عَمْرِو بْنِ قُرَيْظَةَ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالُوا: كَانَ الَّذِينَ حَزَّبُوا الْأَحْزَابَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ وَنَفَرٌ مِنْ بَنِي وَائِلٍ، وَكَانَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ حُيِيُّ بْنُ أَخْطَبَ، وَكِنَانَةُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ، وَأَبُو عَمَّارٍ، وَمِنْ بَنِي وَائِلٍ حَيٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَوْسِ اللهِ وَحْوَحُ بْنُ عَمْرٍو وَرِجَالٌ مِنْهُمْ خَرَجُوا حَتَّى قَدِمُوا عَلَى قُرَيْشٍ فَدَعَوْهُمْ إِلَى حَرْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَشِطُوا لِذَلِكَ ثُمَّ ذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي خُرُوجِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ وَالْأَحْزَابُ قَالَ: وَخَرَجَ حُيِيُّ بْنُ أَخْطَبَ حَتَّى أَتَى كَعْبَ بْنَ أَسَدٍ صَاحِبَ عَقْدِ بَنِي قُرَيْظَةَ وَعَهْدِهِمْ فَلَمَّا سَمِعَ بِهِ كَعْبٌ أَغْلَقَ حِصْنَهُ دُونَهُ فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا كَعْبُ افْتَحْ لِي حَتَّى أَدْخُلَ عَلَيْكَ، ⦗٣٨٩⦘ فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا حُيِيُّ إِنَّكَ امْرُؤٌ مَشْئَومٌ وَإِنَّهُ لَا حَاجَةَ لِي بِكَ وَلَا بِمَا جِئْتَنِي بِهِ إِنِّي لَمْ أَرَ مِنْ مُحَمَّدٍ إِلَّا صِدْقًا وَوَفَاءً وَقَدْ وَادَعَنِي مُوَادَعَةً فَدَعْنِي وَارْجِعْ عَنِّي. فَقَالَ: وَاللهِ إِنْ غَلَّقْتَ دُونِي إِلَّا عَنْ خَشْيَتِكَ أَنْ آكُلَ مَعَكَ مِنْهَا فَاحْفَظْهُ، فَفَتَحَ لَهُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ لَهُ: وَيْحَكَ يَا كَعْبُ جِئْتُكَ بِعِزِّ الدَّهْرِ بِقُرَيْشٍ مَعَهَا قَادَتُهَا حَتَّى أَنْزَلْتُهَا بِرَوْمَةَ وَجِئْتُكَ بِغَطَفَانَ عَلَى قَادَتِهَا وَسَادَتِهَا حَتَّى أَنْزَلْتُهَا إِلَى جَانِبِ أُحُدٍ، جِئْتُكَ بِبَحْرٍ طَامٍّ لَا يَرُدُّهُ شَيْءٌ. فَقَالَ: جِئْتَنِي وَاللهِ بِالذُّلِّ وَيْلَكَ فَدَعْنِي وَمَا أَنَا عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ لَا حَاجَةَ لِي بِكَ وَلَا بِمَا تَدْعُونِي إِلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ حُيِيُّ بْنُ أَخْطَبَ يَفْتِلُهُ فِي الذِّرْوَةِ وَالْغَارِبِ حَتَّى أَطَاعَ لَهُ وَأَعْطَاهُ حُيَيٌّ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ لَئِنْ رَجَعَتْ قُرَيْشٌ وَغَطَفَانُ قَبْلَ أَنْ يُصِيبُوا مُحَمَّدًا لَأَدْخُلَنَّ مَعَكَ فِي حِصْنِكَ حَتَّى يُصِيبَنِي مَا أَصَابَكَ، فَنَقَضَ كَعْبٌ الْعَهْدَ وَأَظْهَرَ الْبَرَاءَةَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ: لَمَّا بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُ كَعْبٍ وَنَقْضُ بَنِي قُرَيْظَةَ بَعَثَ إِلَيْهمِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، وَسَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، وَخَوَّاتَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ لِيَعْلَمُوا خَبَرَهُمْ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَيْهِمْ وَجَدُوهُمْ عَلَى أَخْبَثِ مَا بَلَغَهُمْ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ سَبَبِ إِسْلَامِ ثَعْلَبَةَ وَأُسَيْدٍ ابْنَيْ سَعْيَةَ وَأَسَدِ بْنِ عُبَيْدٍ وَنُزُولِهِمْ عَنْ حِصْنِ بَنِي قُرَيْظَةَ وَإِسْلَامِهِمْ، وَخَرَجَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ فِيمَا زَعَمَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَمْرُو بْنُ سُعْدَى الْقُرَظِيُّ فَمَرَّ بِحَرَسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: أَنَا عَمْرُو بْنُ سُعْدَى، وَكَانَ عَمْرٌو قَدْ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ مَعَ بَنِي قُرَيْظَةَ فِي غَدْرِهِمْ وَقَالَ: لَا أَغْدِرُ بِمُحَمَّدٍ أَبَدًا، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ حِينَ عَرَفَهُ: اللهُمَّ لَا تَحْرِمْنِي عَثَرَاتِ الْكِرَامِ، ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ فَخَرَجَ حَتَّى بَاتَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ثُمَّ ذَهَبَ فَلَمْ يَدْرِ أَيْنَ ذَهَبَ مِنَ الْأَرْضِ فَذُكِرَ شَأْنُهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ذَلِكَ رَجُلٌ نَجَّاهُ اللهُ بِوَفَائِهِ " وَذَكَرَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّ حُيَيًّا لَمْ يَزَلْ بِهِمْ حَتَّى شَأَمَهُمْ فَاجْتَمَعَ مَلَؤُهُمْ عَلَى الْغَدْرِ عَلَى أَمْرِ رَجُلٍ وَاحِدٍ غَيْرَ أَسَدٍ وَأُسَيْدٍ وَثَعْلَبَةَ خَرَجُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن کعب القرظی اور بنو عمرو بن قریظہ کے ایک شخص عثمان بن یہودا اپنی قوم کے افراد سے نقل کرتے ہیں کہ لوگوں نے لشکر ترتیب دیے۔ بنو نضیر کا گروہ، بنو وائل کا گروہ، بنو نضیر سے حیی بن اخطب، کنانہ بن ربیع بن ابی الحقیق، ابو عمار اور بنو وائل سے اوس بن اللہ، حوح بن عمرو اور کچھ ان کے قبیلہ کے، یہ تمام مل کر قریش کے پاس آئے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ کے لیے ابھار رہے تھے۔ پھر اس نے ابوسفیان بن حرب اور لشکروں کے آنے کا تذکرہ کیا اور حیی بن اخطب کی آواز سنی تو قلعہ کا دروازہ بند کر لیا، تو حیی نے کہا: ”اے کعب! تجھ پر افسوس، دروازہ کھولو، میں آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں“، تو کعب نے کہا: ”اے حیی بن اخطب! تو منحوس آدمی ہے، مجھے نہ تو تیری ضرورت ہے اور نہ ہی اس کی جو تو لے کر آیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ محمد ﷺ وعدہ پورا کرتے ہیں، میرا ان سے معاہدہ ہے تو واپس پلٹ جا، مجھے چھوڑ دے“، تو حیی بن اخطب نے کہا: ”تو نے دروازہ بند کر لیا ہے۔ میں آپ کے ساتھ مل کر دلیا کھانے والا ہوں“۔ اس کو حفاظت کا یقین دلایا تو اس نے دروازہ کھول دیا۔ جب کعب کے پاس گیا تو کہنے لگا: ”اے کعب! میں تیرے پاس زمانہ کی عزت قریش کو لے کر آیا ہوں۔ ان کے ساتھ رومی بھی ہیں اور میں تیرے پاس غطفان کی سیادت و قیادت کو لے کر احد کی ایک جانب اتارا ہے۔ میں تیرے پاس موجیں مارتا ہوا سمندر لے کر آیا ہوں، جس کو کوئی چیز روک نہیں سکتی“، تو کعب نے کہا: ”تو میرے پاس ذلت لے کر آیا ہے، مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ، مجھے تیری اور جس کی دعوت دیتے ہو کوئی ضرورت نہیں“، حیی بن اخطب اس کو پھسلاتا رہا، یہاں تک کہ کعب نے حیی کی بات مان لی اور حیی نے اس کو عہد و پیماں دیا کہ اگر قریش و غطفان محمد ﷺ کو قتل کرنے سے پہلے چلے گئے تو میں آپ کے ساتھ قلعے میں رہوں گا، جو مصیبت و پریشانی آپ کو آئے گی، مجھے بھی آئے گی، تو کعب نے نبی ﷺ سے کیا ہوا عہد توڑ ڈالا اور برائت کا اظہار کر دیا۔
ابن اسحاق فرماتے ہیں: عاصم بن عمر بن قتادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو کعب کے عہد توڑنے کی خبر ملی تو سعد بن عبادہ، سعد بن معاذ، خوات بن جبیر اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کو خبر کی تصدیق کے لیے روانہ کیا، تو بات ویسے ہی تھی جیسے خبر ملی تھی۔
ابن اسحاق فرماتے ہیں: عاصم بن عمر بن قتادہ بنو قریظہ کے ایک شیخ سے نقل فرماتے ہیں کہ ثعلبہ اور اسید (جو سعیہ کے بیٹے ہیں) رضی اللہ عنہما اور اسید بن عبید رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا سبب نقل فرماتے ہیں اور بنو قریظہ کے قلعے سے اترنے کی وجہ بیان کرتے ہیں۔ اس رات جب وہ قلعہ سے نکلے اور رسول اللہ ﷺ کے پہرہ دار محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پوچھا: ”کون؟“ کہا: ”میں عمرو بن سعدی ہوں“ تو عمرو نے بنو قریظہ کے ساتھ ان کے غدر میں شمولیت سے معذرت کر لی اور کہا: ”میں محمد ﷺ سے کبھی وعدہ خلافی نہ کروں گا“۔ جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے پہچان لیا تو کہنے لگے: «اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنِي كَرِيمَ فِعَالِ الْكِرَامِ» ”اے اللہ! مجھے معزز لوگوں کی تکریم سے محروم نہ کرنا“، پھر اس کا راستہ چھوڑ دیا تو اس نے رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں رات گزاری۔ پھر ان کے جانے کا علم نہ ہو سکا، جب رسول اللہ ﷺ کو پتہ چلا تو فرمایا: ”اللہ نے اس کی وفا کی وجہ سے نجات دی ہے“۔
موسیٰ بن عقبہ اس قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حیی بن اخطب اپنی نحوست کے ساتھ ان کے ساتھ شامل رہا، لیکن اسد، اسید اور ثعلبہ رضی اللہ عنہم نبی ﷺ کے پاس آ گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18856
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18857
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ يَهُودَ النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ⦗٣٩٠⦘ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نضیر و قریظہ کے یہود نے نبی ﷺ سے جنگ کی تو رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا اور بنو قریظہ کو برقرار رکھا، اس پر احسان کیا۔ جب بنو قریظہ نے جنگ کی تو ان کے مرد قتل کر دیے گئے، عورتیں، مال اور اولاد مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا گیا، لیکن بعض لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18857
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18858
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَذَلِكَ إِنْ نَقَضَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَاتَلَ كَانَ لِلْإِمَامِ قِتَالُ جَمَاعَتِهِمْ، قَدْ أَعَانَ عَلَى خُزَاعَةَ وَهُمْ فِي عَقْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَشَهِدُوا قِتَالَهُمْ فَغَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا عَامَ الْفَتْحِ بِغَدْرِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ وَتَرْكِ الْبَاقِينَ مَعُونَةَ خُزَاعَةَ، وَإِيوَائِهِمْ مَنْ قَاتَلَ خُزَاعَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18858
حدیث نمبر: 18859
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ جَمِيعًا، قَالَا: كَانَ فِي صُلْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قُرَيْشٍ أَنَّهُ مَنْ شَاءَ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِ مُحَمَّدٍ وَعَهْدِهِ دَخَلَ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ دَخَلَ، فَتَوَاثَبُوا خُزَاعَةُ فَقَالُوا: نَحْنُ نَدْخُلُ فِي عَقْدِ مُحَمَّدٍ وَعَهْدِهِ، وَتَوَاثَبَتْ بَنُو بَكْرٍ فَقَالُوا: نَحْنُ نَدْخُلُ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ. فَمَكَثُوا فِي تِلْكَ الْهُدْنَةِ نَحْوَ السَّبْعَةَ أَوِ الثَّمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ إِنَّ بَنِي بَكْرٍ الَّذِينَ كَانُوا دَخَلُوا فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ وَثَبُوا عَلَى خُزَاعَةَ الَّذِينَ دَخَلُوا فِي عَقْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَهْدِهِ لَيْلًا بِمَاءٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ الْوَتِيرُ قَرِيبٍ مِنْ مَكَّةَ، فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: مَا يَعْلَمُ بِنَا مُحَمَّدٌ، وَهَذَا اللَّيْلُ وَمَا يَرَانَا أَحَدٌ. فَأَعَانُوهُمْ عَلَيْهِمْ بِالْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ، فَقَاتَلُوهُمْ مَعَهُمْ لِلضَّغْنِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ عَمْرَو بْنَ سَالِمٍ رَكِبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ خُزَاعَةَ وَبَنِي بَكْرٍ بِالْوَتِيرِ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُهُ الْخَبَرَ وَقَدْ قَالَ أَبْيَاتَ شِعْرٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْشَدَهُ إِيَّاهَا:.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان حدیبیہ کے دن صلح ہوئی کہ جو چاہے محمد ﷺ کے عہد میں شامل ہو جائے اور جو چاہے قریش کے عہد اور معاہدے میں شامل ہو جائے، تو بنو خزاعہ نے نبی ﷺ کے عہد اور معاہدہ میں شمولیت اختیار کر لی اور بنو بکر، جو قریش کے عہد میں شامل تھے، بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا، وتیر نامی جگہ پر جو مکہ کے قریب تھی، قریش نے کہا کہ اس رات محمد ﷺ یا کوئی اور ہمیں دیکھ نہیں رہا، تو انہوں نے بنو بکر کی بنو خزاعہ کے خلاف اسلحے سے مدد کی اور خود بھی لڑے، تو عمرو بن سالم رضی اللہ عنہ سوار ہو کر نبی ﷺ کے پاس آئے اور بنو خزاعہ کی خبر دی اور نبی ﷺ کے پاس آ کر یہ اشعار پڑھے:
”اے اللہ! میں محمد ﷺ کو قسم دیتا ہوں اپنے باپ کی اور ان کے باپ کی جو مال والے ہیں۔ ہم والد تھے اور آپ بچے تھے، پھر ہم اسلام لے آئے اور ہم نے ہاتھ نہیں کھینچا۔ (اے اللہ!) تو رسول اللہ ﷺ کی واضح مدد کر۔ اللہ کے بندوں کو پکارو وہ مدد کے لیے آئیں گے۔ ان میں اللہ کے رسول ہیں جو تنہا رہ گئے ہیں۔ اگر گہری نظر سے دیکھو تو ان کا چہرہ چمک رہا ہے، ایسے لشکر میں جو سمندر کی طرح ہے اور غبار اڑا رہا ہے۔ قریش نے آپ سے وعدہ خلافی کی ہے اور آپ کے پختہ عہد کو توڑا ہے۔ ان کا گمان ہے کہ ہم کسی کو نہیں پکاریں گے، حالانکہ وہ رسوا اور کم تعداد والے ہیں۔ انہوں نے میرے لیے کداء مقام میں مورچہ بنا دیا ہے، ہم نے آرام پانے کے لیے سو کر رات گزاری، تو انہوں نے ہم سے اس حال میں جنگ لڑی جب ہم رکوع و سجود کی حالت میں تھے۔“
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمرو بن سالم! تو مدد کیا گیا ہے“، وہ ٹھہرا رہا کہ آسمان سے بادل گزرے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بادل بنو کعب کی مدد کی نشانی ہے“ اور رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو تیاری کا حکم دے دیا اور نکلنے کے راز کو پوشیدہ رکھا اور اللہ رب العزت سے دعا کی کہ قریش کو خبر نہ ہو یہاں تک کہ ان کے شہر پر حملہ کر دیا جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18859
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 18860
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَنِي نُفَاثَةَ مِنْ بَنِي الدِّيلِ أَغَارُوا عَلَى بَنِي كَعْبٍ وَهُمْ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ قُرَيْشٍ، وَكَانَتْ بَنُو كَعْبٍ فِي صُلْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ بَنُو نُفَاثَةَ فِي صُلْحِ قُرَيْشٍ فَأَعَانَتْ بَنُو بَكْرٍ بَنِي نُفَاثَةَ وَأَعَانَتْهُمْ قُرَيْشٌ بِالسِّلَاحِ وَالرَّقِيقِ وَاعْتَزَلَتْهُمْ بَنُو مُدْلِجٍ وَأَوْفَوْا بِالْعَهْدِ. قَالَ: وَيَذْكُرُونَ أَنَّ مِمَّنْ أَعَانَهُمْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ عُثْمَانَ، وَسُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو، فَأَغَارَتْ بَنُو الدِّيلِ عَلَى بَنِي عَمْرٍو وَعَامَّتِهِمْ زَعَمُوا أَنَّ النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَضُعَفَاءَ الرِّجَالِ فَأَثْخَنُوهُمْ وَقَتَلُوا مِنْهُمْ حَتَّى أَدْخَلُوهُمْ دَارَ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ بِمَكَّةَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي كَعْبٍ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرُوا لَهُ الَّذِي أَصَابَهُمْ وَمَا كَانَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ وَالَّذِي أَعَانُوا بِهِ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ ذَكَرَ جِهَازَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدُخُولَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ يا ِرَسُولِ اللهِ: أَتُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ مَخْرَجًا؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: لَعَلَّكَ تُرِيدُ بَنِي الْأَصْفَرِ؟ قَالَ: " لَا ". قَالَ: أَفَتُرِيدُ أَهْلَ نَجْدٍ؟ قَالَ: " لَا ". قَالَ: فَلَعَلَّكَ تُرِيدُ قُرَيْشًا؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: أَلَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُمْ مُدَّةٌ؟ قَالَ: " أَلَمْ يَبْلُغْكَ مَا صَنَعُوا بِبَنِي كَعْبٍ "؟ وَأَذَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ بِالْغَزْوِ وَأَمَّا الْحُكْمُ بَيْنَ الْمُعَاهَدِينَ فَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي كِتَابِ الْحُدُودِ وَالْغَصْبِ وَغَيْرِهاِ.
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نفاثہ، جو بنو دیل سے ہیں، انہوں نے بنو کعب پر حملہ کر دیا اور وہ اس معاہدہ کی مدت میں تھے جو رسول اللہ ﷺ اور قریشیوں کے درمیان تھا، تو بنو کعب صلح میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، جبکہ بنو نفاثہ قریشیوں کے ساتھ شامل تھے، بنو بکر نے بنو نفاثہ کی مدد کی اور قریشیوں نے اسلحے اور غلاموں سے ان کا تعاون کیا، لیکن بنو مدلج جدا رہے اور انہوں نے عہد کو پورا کیا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ان کی مدد صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ، شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ، سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کی، تو بنو دیل نے بنو عمرو پر اور ان کے عام لوگوں پر حملہ کر دیا، عورتوں، بچوں اور کمزور مردوں کا خون بہایا اور ان میں سے بعض بدیل بن ورقاء رضی اللہ عنہ کے گھر داخل ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں: بنو کعب کے ایک سوار نے آ کر رسول اللہ ﷺ کو اپنا حال سنایا اور جو قریشیوں نے ان کے خلاف مدد کی تھی، بتایا۔ پھر اس نے نبی ﷺ کی تیاری اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آپ کے پاس آنے کا تذکرہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ نکلنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، لڑائی کا ارادہ ہے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: شاید آپ رومیوں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اہل نجد سے لڑائی کا ارادہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے لڑائی کا کوئی ارادہ نہیں۔“ پوچھا: کیا آپ قریش سے لڑائی کا ارادہ رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کیا آپ اور ان کے درمیان معاہدہ نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے خبر نہیں ملی جو انہوں نے بنو کعب کے ساتھ کیا؟“ اور رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں جہاد کا اعلان کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18860
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»