حدیث نمبر: 18794
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ السَّفَّاحِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ كُرْدُوسٍ، قَالَ: صَالَحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ⦗٣٦٣⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَنِي تَغْلِبَ عَلَى أَنْ يُضَاعِفَ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةَ، وَلَا يَمْنَعُوا أَحَدًا مِنْهُمْ أَنْ يُسْلِمَ، وَأَنْ لَا يَغْمِسُوا أَوْلَادَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
داؤد بن کردوس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بنو تغلب سے اس شرط پر صلح کی کہ ان پر دوگنا صدقہ کیا جائے گا، وہ کسی کو اسلام قبول کرنے سے نہیں روکیں گے اور اپنی اولاد کو پانی میں غوطہ دے کر نہیں رنگیں گے۔
حدیث نمبر: 18795
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ السَّفَّاحِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ كُرْدُوسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ صَالَحَ بَنِي تَغْلِبَ عَلَى أَنْ لَا يَصْبُغُوا فِي دِينِهِمْ صَبِيًّا، وَعَلَى أَنَّ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةَ مُضَاعَفَةٌ، وَعَلَى أَنْ لَا يُكْرَهُوا عَلَى دِينٍ غَيْرِ دِينِهِمْ، فَكَانَ دَاوُدُ يَقُولُ: مَا لِبَنِي تَغْلِبَ ذِمَّةٌ؛ قَدْ صَبَغُوا.
حافظ ثناء اللہ
داؤد بن کردوس، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بنو تغلب سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ اپنے دین میں کسی بچے کو نہیں رنگیں گے اور ان پر دوگنا صدقہ ہے، انہیں ان کے اپنے دین کے علاوہ کسی دوسرے دین پر مجبور نہ کیا جائے گا، داؤد کہتے ہیں کہ بنو تغلب کے لیے کوئی عہد نہ تھا کیونکہ انہوں نے اپنی اولادوں کو عیسائیت میں رنگ دیا تھا۔
حدیث نمبر: 18796
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ السَّفَّاحِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ كُرْدُوسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ التَّغْلِبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَنِي تَغْلِبَ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ شَوْكَتَهُمْ، وَإِنَّهُمْ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِنْ ظَاهَرُوا عَلَيْكَ الْعَدُوَّ اشْتَدَّتْ مُؤْنَتُهُمْ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُعْطِيَهُمْ شَيْئًا. قَالَ: فَافْعَلْ. قَالَ: فَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ لَا يَغْمِسُوا أَحَدًا مِنْ أَوْلَادِهِمْ فِي النَّصْرَانِيَّةِ، وَتُضَاعَفَ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةُ. قَالَ: وَكَانَ عُبَادَةُ يَقُولُ: قَدْ فَعَلُوا وَلَا عَهْدَ لَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
عبادہ بن نعمان تغلبی فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ بنو تغلب کی شان و شوکت کو جانتے ہیں، وہ دشمن کے مقابلے میں آپ کی مدد کریں گے، اگر آپ ان کو کچھ عطا کریں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کچھ دے دوں گا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ اپنی اولاد کو عیسائیت میں نہ رنگیں گے اور ان پر دوگنا صدقہ ہوگا۔ عبادہ کہتے ہیں کہ اگر انہوں نے یہ کام کر لیا تو ان کے لیے کوئی عہد نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18797
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ عُقَيْبَ هَذَا الْحَدِيثِ: وَهَكَذَا حَفِظَ أَهْلُ الْمَغَازِي وَسَاقُوهُ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا السِّيَاقِ فَقَالُوا: رَامَهُمْ عَلَى الْجِزْيَةِ فَقَالُوا: نَحْنُ عَرَبٌ لَا نُؤَدِّي مَا يُؤَدِّي الْعَجَمُ، وَلَكِنْ خُذْ مِنَّا كَمَا يَأْخُذُ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ، يَعْنُونَ الصَّدَقَةَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا، هَذَا فَرْضٌ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. فَقَالُوا: فَزِدْ مَا شِئْتَ بِهَذَا الِاسْمِ لَا بِاسْمِ الْجِزْيَةِ. فَفَعَلَ فَتَرَاضَى هُوَ وَهُمْ عَلَى أَنْ ضَعَّفَ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے آخر میں کہا کہ اہل مغازی کو بھی اسی طرح یاد ہے اور انہوں نے بہترین سیاق کے ذریعے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: جب ان پر جزیہ مقرر کیا تو وہ کہنے لگے: ہم عرب لوگ ہیں، عجمیوں کی طرح ہم جزیہ نہ دیں گے، لیکن آپ ہم سے صدقہ (یعنی زکوۃ) وصول کرلیا کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یہ صرف مسلمانوں پر فرض ہے، تو انہوں نے کہا: جزیہ کے علاوہ کوئی دوسرا نام رکھ لیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رضامندی کا اظہار کردیا کہ ان پر دوگنا صدقہ ہوگا۔