أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعْدٍ الْجَارِيِّ أَوْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَا نَصَارَى الْعَرَبِ بِأَهْلِ كِتَابٍ، وَمَا يَحِلُّ لَنَا ذَبَائِحُهُمْ، وَمَا أَنَا بِتَارِكِهِمْ حَتَّى يُسْلِمُوا أَوْ أَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا تَرَكْنَا أَنْ نُجْبِرَهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ أَوْ نَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ؛ لِأَنَّ ⦗٣٦٤⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ نَصَارَى الْعَرَبِ، وَأَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَدْ أَقَرُّوهُمْ، وَإِنْ كَانَ عُمَرُ قَدْ قَالَ هَذَا، لِذَلِكَ لَا يَحِلُّ لَنَا نِكَاحُ نِسَائِهِمْ؛ لِأَنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ إِنَّمَا أَحَلَّ لَنَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِي عَلَيْهِمْ نَزَلَ.
حافظ ثناء اللہ
سعد جاری یا عبداللہ بن سعد، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عرب کے عیسائی اہل کتاب نہیں اور ان کا ذبیحہ ہمارے لیے حلال نہیں، یا تو وہ مسلمان ہو جائیں یا ہم انہیں قتل کریں گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کیوں کر ہم اسلام کے لیے ان پر جبر کریں گے یا انہیں قتل کریں گے؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے عرب کے عیسائیوں سے جزیہ وصول کیا۔ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو برقرار رکھا۔ اگرچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا۔ اسی وجہ سے ان کی عورتوں سے ہمارے لیے نکاح کرنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ رب العزت نے ہمارے لیے صرف ان اہل کتاب سے نکاح کو جائز رکھا ہے جن پر کتاب نازل ہوئی تھی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کیوں کر ہم اسلام کے لیے ان پر جبر کریں گے یا انہیں قتل کریں گے؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے عرب کے عیسائیوں سے جزیہ وصول کیا۔ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو برقرار رکھا۔ اگرچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا۔ اسی وجہ سے ان کی عورتوں سے ہمارے لیے نکاح کرنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ رب العزت نے ہمارے لیے صرف ان اہل کتاب سے نکاح کو جائز رکھا ہے جن پر کتاب نازل ہوئی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ السَّهْمِيُّ، أنبأ هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ ذَبَائِحِ نَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ فَقَالَ: لَا تَأْكُلُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَتَعَلَّقُوا مِنْ دِينِهِمْ بِشَيْءٍ إِلَّا بِشُرْبِ الْخَمْرِ.
حافظ ثناء اللہ
عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بنو تغلب کے عیسائیوں کے ذبیحہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تم ان کا ذبیحہ نہ کھاؤ، کیونکہ ان کے دین میں کوئی چیز اس کے متعلق نہیں سوائے شراب کے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْبَجَلِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَئِنْ بَقِيتُ لِنَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ لَأَقْتُلَنَّ الْمُقَاتِلَةَ، وَلَأَسْبِيَنَّ الذُّرِّيَّةَ، فَإِنِّي كَتَبْتُ الْكِتَابَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَهُمْ عَلَى أَنْ لَا يُنَصِّرُوا أَبْنَاءَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن حدیر اسدی فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں بنو تغلب کے عیسائیوں کے لیے زندہ رہا تو ان کے لڑنے والوں کو ضرور قتل کروں گا اور ان کی اولاد کو ضرور لونڈی غلام بناؤں گا، کیونکہ میں نے نبی ﷺ اور ان کے درمیان معاہدہ تحریر کیا تھا کہ ”وہ اپنے بچوں کو عیسائی نہیں بنائیں گے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْحَاسِبُ، ثنا جُبَارَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَبِيحَةِ نَصَارَى الْعَرَبِ. هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِخِلَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”عرب کے عیسائیوں کے ذبیحہ کھانے“ سے منع فرمایا ہے۔
یہ سند ضعیف ہے، اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔
یہ سند ضعیف ہے، اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَبَائِحِ نَصَارَى الْعَرَبِ فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ} [المائدة: ٥١]..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرب کے عیسائیوں کے ذبیحہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 51] ”اور جو تم میں سے ان کے ساتھ دوستی رکھے وہ انہی میں سے ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَزَّارُ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث کی طرح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٣٦٥⦘ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَالَّذِي يُرْوَى مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي إِحْلَالِ ذَبَائِحِهِمْ إِنَّمَا هُوَ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ، أَخْبَرَنِيهِ ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ، وَابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ ثَوْرٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَبَائِحِ نَصَارَى الْعَرَبِ فَقَالَ قَوْلًا حَكَيَاهُ هُوَ إِحْلَالُهَا وَتَلَا: {وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ} [المائدة: ٥١]، وَلَكِنَّ صَاحِبَنَا سَكَتَ عَنِ اسْمِ عِكْرِمَةَ، وَثَوْرٌ لَمْ يَلْقَ ابْنَ عَبَّاسٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي بِصَاحِبِنَا: مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، لَمْ يَذْكُرْ عِكْرِمَةَ فِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ، وَكَأَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى أَنْ يُحْتَجَّ بِهِ، وَثَوْرٌ الدِّيلِيُّ إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُحْتَجَّ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ. كَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِيمَا رَوَى عَنْهُ عِكْرِمَةُ، وَنَحْنُ إِنَّمَا رَغِبْنَا عَنْهُ لِقَوْلِ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کے ذبیحوں کے حلال ہونے کے بارے میں جو روایت کی جاتی ہے وہ صرف عکرمہ کی روایت سے ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرب کے عیسائیوں کے ذبیحے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے قول کی حکایت کی کہ وہ حلال ہے اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 51] ”اور جس نے تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کی وہ انہی میں سے ہے۔“ لیکن مالک بن انس رحمہ اللہ نے عکرمہ کا نام ذکر نہیں کیا اور ثور کی ملاقات ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مالک بن انس رحمہ اللہ نے اپنی اکثر روایات میں عکرمہ کا ذکر نہیں کیا، گویا وہ ان سے دلیل لینا درست نہیں سمجھتے تھے، اور ثور دیلی نے یہ روایت انہی (عکرمہ) کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے، لہٰذا اس سے دلیل نہیں لینی چاہیے، واللہ اعلم۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہی بات اس روایت میں فرمائی ہے جو عکرمہ نے ان سے نقل کی ہے، اور ہم نے اسے صرف سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے قول کی وجہ سے چھوڑا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرب کے عیسائیوں کے ذبیحے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے قول کی حکایت کی کہ وہ حلال ہے اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 51] ”اور جس نے تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کی وہ انہی میں سے ہے۔“ لیکن مالک بن انس رحمہ اللہ نے عکرمہ کا نام ذکر نہیں کیا اور ثور کی ملاقات ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مالک بن انس رحمہ اللہ نے اپنی اکثر روایات میں عکرمہ کا ذکر نہیں کیا، گویا وہ ان سے دلیل لینا درست نہیں سمجھتے تھے، اور ثور دیلی نے یہ روایت انہی (عکرمہ) کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے، لہٰذا اس سے دلیل نہیں لینی چاہیے، واللہ اعلم۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہی بات اس روایت میں فرمائی ہے جو عکرمہ نے ان سے نقل کی ہے، اور ہم نے اسے صرف سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے قول کی وجہ سے چھوڑا ہے۔