کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مشرکین کی طرف سے امام کے لیے تحائف کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18788
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةً فَلَبِسَهَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ سَعِيدٌ: عَنْ قَتَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اکیدر دومہ نے نبی ﷺ کو جبہ ہدیہ میں دیا جس کو آپ زیب تن فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18788
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18789
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ثنا مُعْتَمِرٌ، ح وأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ؟ " فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ، فَعُجِنَ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا قَالَ: أَبَيْعٌ أَوْ عَطِيَّةٌ؟ أَوْ قَالَ: أَمْ هِبَةٌ؟ فَقَالَ: بَلْ بَيْعٌ، قَالَ: فَاشْتَرَى مِنْهَا شَاةً فَصُنِعَتْ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى، وَايْمُ اللهِ مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا، إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهُ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ. قَالَ: وَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ. قَالَ: فَأَكَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَحَمَلْنَاهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَارِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ١٣٠ ساتھی نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا کسی کے پاس کھانا موجود ہے؟“ جب کسی شخص کے پاس ایک صاع گندم ہوتی تو اسے گوندھ لیا جاتا۔ پھر ایک مشرک آدمی لمبے پراگندہ بالوں والا بکریاں لے کر آیا۔ فرمایا: ”کیا یہ فروخت کرو گے یا ہبہ ہے؟“ اس نے کہا: فروخت کرنا ہے، آپ ﷺ نے اس سے ایک بکری خرید لی، اسے ذبح کیا گیا، رسول اللہ ﷺ نے پیٹ کے گوشت کے بارے میں حکم دیا کہ اسے بھونا جائے، اللہ کی قسم! ہم ایک سو تیس شخص تھے آپ ﷺ نے ہمیں اس گوشت سے کاٹ کر دیا؛ اگر کوئی موجود نہ ہوتا تو اس کے لیے الگ کر کے رکھ لیتے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس گوشت کو دو پلیٹوں میں ڈال دیا، ہم تمام نے سیر ہو کر کھایا۔ پھر جو باقی بچا اونٹ پر لاد لیا یا جیسے آپ نے فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18789
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18790
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ إِمْلَاءً، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْعَبَّاسِ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى تَبُوكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَأَهْدَى مَلِكُ الَأَيْلَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَسَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً، وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَهْلِ بْنِ بَكَّارٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ وُهَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تبوک کا سفر کیا۔ انہوں نے حدیث کا ذکر کیا جس میں یہ تھا کہ ایلہ کے بادشاہ نے نبی ﷺ کو سفید خچر تحفہ میں دیا تو نبی ﷺ نے اس کو چادر پہنائی اور اس کے عوض اسے گھوڑا عطا کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18790
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18791
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ، عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ الْهَوْزَنِيُّ، قَالَ: لَقِيتُ بِلَالًا مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي كَيْفَ كَانَتْ نَفَقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: فَإِذَا إِنْسَانٌ يَسْعَى يَدْعُو يَا بِلَالُ أَجِبْ ⦗٣٦٢⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَإِذَا أَرْبَعُ رَكَائِبَ مُنَاخَاتٍ عَلَيْهِنَّ أَحْمَالُهُنَّ، فَاسْتَأْذَنْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْشِرْ فَقَدْ جَاءَكَ اللهُ بِقَضَائِكَ "، ثُمَّ قَالَ: " أَلَمْ تَرَ إِلَى الرَّكَائِبِ الْمُنَاخَاتِ الْأَرْبَعِ؟ " فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: " إِنَّ لَكَ رِقَابَهُنَّ وَمَا عَلَيْهِنَّ فَإِنَّ عَلَيْهِنَّ كِسْوَةً وَطَعَامًا أَهْدَاهُنَّ إِلِيَّ عَظِيمُ فَدَكَ فَاقْبِضْهُنَّ وَاقْضِ دَيْنَكَ "، فَفَعَلْتُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ ہوزنی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ سے ملا اور پوچھا: اے بلال رضی اللہ عنہ! رسول اللہ ﷺ کے خرچے کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے حدیث ذکر کی، جس میں تھا کہ ایک انسان دوڑتا ہوا آیا اور کہا: اے بلال رضی اللہ عنہ! رسول اللہ ﷺ کو بلاؤ، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، چار اونٹنیاں سامان سے لدی ہوئی تھیں۔ میں نے اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، اللہ نے آپ کے قرض کی ادائیگی کا بندوبست کر دیا ہے۔“ پھر فرمایا: ”کیا آپ ان چار سامان سے لدی ہوئی اونٹنیوں کی طرف نہیں دیکھتے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ سب تیرے لیے ہیں اور ان پر کپڑے اور کھانا ہے جو فدک کے امیر نے مجھے تحفے میں دیا ہے، یہ لے جا کر اپنا قرض ادا کرو۔“ کہتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18791
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه السجستاني ٣٠٥٥»
حدیث نمبر: 18792
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَهْدَى كِسْرَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ مِنْهُ، وَأَهْدَى قَيْصَرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ مِنْهُ، وَأَهْدَتْ لَهُ الْمُلُوكُ فَقَبِلَ مِنْهُمْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ: قَدْ أَهْدَى أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَمًا فَقَبِلَ مِنْهُ، وَأَهْدَى إِلَيْهِ صَاحِبُ الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ مَارِيَةَ أُمَّ إِبْرَاهِيمَ فَقَبِلَهَا، وَغَيْرُهُمَا قَدْ أَهْدَى إِلَيْهِ وَلَمْ يَجْعَلْ ذَلِكَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسریٰ و قیصر نے رسول اللہ ﷺ کو تحفہ دیا، جو آپ نے قبول فرمایا اور کئی بادشاہوں نے آپ کو تحفے دیے، جو آپ نے قبول کیے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب نے مشکیزہ، اسکندریہ کے بادشاہ نے ابراہیم کی والدہ ماریہ تحفہ میں دی، جو آپ نے قبول فرمایا، کئی اور لوگوں نے بھی آپ کو تحفے دیے جو مسلمانوں کے درمیان تقسیم نہیں فرمائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18792
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18793
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً أَوْ هَدِيَّةً، فَقَالَ: " أَسْلَمْتَ؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَ: " إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا يُونُسُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَبُو التَّيَّاحِ، ثنا الْحَسَنُ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً، أَوْ قَالَ: نَاقَةً فَقَالَ لِي: " أَسْلَمْتَ؟ " قُلْتُ: لَا، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا وَقَالَ: " إِنَّا لَا نَقْبَلُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ ". قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَا زَبْدُ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: رِفْدُهُمْ قَالَ الشَّيْخُ: يَحْتَمِلُ رَدُّهُ هَدِيَّتَهُ التَّحْرِيمَ، وَيَحْتَمِلُ التَّنْزِيهَ، وَقَدْ يَغِيظُهُ بِرَدِّ هَدِيَّتِهِ فَيَحْمِلُهُ ذَلِكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَالْأَخْبَارُ فِي قَبُولِ هَدَايَاهُمْ أَصَحُّ وَأَكْثَرُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اونٹنی تحفہ میں دی یا کوئی تحفہ دیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا مسلمان ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں مشرکین کے تحفے قبول نہیں کرتا۔“ (ب) سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کوئی ہدیہ یا اونٹنی دی، آپ ﷺ نے پوچھا کہ ”کیا مسلمان ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے تحفہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”ہم مشرکین کے تحفے قبول نہیں کرتے۔“ میں نے حسن رحمہ اللہ سے پوچھا: مشرکین کے تحفے کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ان کے عطیے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ نے ان کا تحفہ حرمت یا تنزیہ کی وجہ سے رد کر دیا، اس غصے کی وجہ سے کہ انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، حالانکہ مشرکین کے تحفے قبول کرنے کے بارے میں صحیح اور کثرت سے روایات موجود ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18793
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»