کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حربی کافر جب حرم میں پناہ لے لے، اور اسی طرح وہ شخص جس پر کوئی حد واجب ہو، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18780
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: حَدَّثَكَ ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ "، قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ نے خود کو اتارا تو ایک شخص نے آ کر کہا: ابن خطل کعبہ کے غلاف کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ فرمایا: ”تم اس کو قتل کر دو۔“
حدیث نمبر: 18781
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَقَالَ: " اقْتُلُوهُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ: عِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ خَطَلٍ، وَمَقِيسَ بْنَ صُبَابَةَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي سَرْحٍ.
حافظ ثناء اللہ
مصعب بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے سب لوگوں کو امن دے دیا، سوائے چار مردوں اور عورتوں کے، ان کو امن نہ دیا اور فرمایا: ”اگر تم ان کو کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکے پاؤ تب بھی قتل کر دو۔“ یہ چار مرد تھے: 1۔ عکرمہ بن ابی جہل، 2۔ عبداللہ بن خطل، 3۔ مقیس بن صبابہ، 4۔ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔
حدیث نمبر: 18782
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: " أَرْبَعَةٌ لَا أُؤَمِّنُهُمْ فِي حِلٍّ وَلَا فِي حَرَمٍ: الْحُوَيْرِثُ بْنُ مَعْبَدٍ، وَمَقِيسٌ، وَهِلَالُ بْنُ خَطَلٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ. فَأَمَّا الْحُوَيْرِثُ فَقَتَلَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَمَّا مَقِيسٌ فَقَتَلَهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ لَحًّا، وَأَمَّا هِلَالُ بْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمِقْيَسٍ تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا، وَأَفْلَتَتِ الْأُخْرَى وَأَسْلَمَتْ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن عثمان بن عبد الرحمن بن سعید مخزومی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”چار افراد کو حرم اور حلت میں بھی پناہ نہیں ہے: حویرث بن نقید، مقیس، ہلال بن خطل اور عبداللہ بن ابی سرح۔“ حویرث کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا، مقیس کو اس کے چچا کے بیٹے لخا نے قتل کر دیا، ہلال بن خطل کو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا، جبکہ عبداللہ بن ابی سرح کو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رضاعی بھائی ہونے کی وجہ سے پناہ دے دی۔ مقیس کی دو گانے والی لونڈیاں تھیں؛ ایک کو قتل کر دیا گیا، دوسری کو چھوڑ دیا گیا اور وہ مسلمان ہو گئی۔
حدیث نمبر: 18783
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ ⦗٣٥٨⦘ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، وَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولُوا: إِنَّ اللهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ". فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ فَقَالَ: قَالَ عَمْرٌو: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعید سے کہا، جو مکہ کی جانب وفد بھیجتے تھے کہ اے امیر المؤمنین! نبی ﷺ نے جو فتح مکہ کے دوسرے دن بات فرمائی تھی، وہ مجھے کہنے کی اجازت دیں۔ میرے دونوں کانوں نے اسے سنا، دل نے اسے یاد رکھا اور میری دونوں آنکھوں نے نبی ﷺ کو بات کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ ﷺ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے، لوگوں نے نہیں۔ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے حرم میں خون بہانا جائز نہیں ہے اور نہ اس کے درخت کاٹے جائیں۔ اگر کوئی کہے کہ رسول اللہ ﷺ کو قتال کی اجازت ملی تھی تو تم کہہ دینا اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی، تمہیں نہیں، اور آپ کو صرف دن کی ایک گھڑی اجازت دی گئی تھی۔ اب اس کی حرمت ویسے ہی ہو گئی جیسے پہلے تھی اور چاہیے کہ حاضر غائب تک بات کو پہنچا دے۔“ سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ عمرو نے آپ سے کیا کہا؟ راوی کہتے ہیں: عمرو نے سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تجھ سے اس بات کو زیادہ جانتا ہوں، حرم کسی گناہ گار قاتل اور فساد کرنے والے کو پناہ نہیں دیتا۔
حدیث نمبر: 18784
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا مَعْنَى ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّهَا لَمْ يُحَلَّلْ أَنْ يُنْصَبَ عَلَيْهَا الْحَرْبُ حَتَّى تَكُونَ كَغَيْرِهَا، فَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَمَا قُتِلَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَخُبَيْبٌ بِقَتْلِ أَبِي سُفْيَانَ فِي دَارٍ بِمَكَّةَ غِيلَةً إِنْ قُدِرَ عَلَيْهِ، وَهَذَا فِي الْوَقْتِ الَّذِي كَانَتْ فِيهِ مُحَرَّمَةً، فَدَلَّ عَلَى أَنَّهَا لَا تَمْنَعُ أَحَدًا مِنْ شَيْءٍ وَجَبَ عَلَيْهِ، وَأَنَّهَا إِنَّمَا يُمْنَعُ مِنْ أَنْ يُنْصَبَ عَلَيْهَا الْحَرْبُ كَمَا يُنْصَبُ عَلَى غَيْرِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 18785
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الْوَاقِدِيُّ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، وَزَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَذَكَرَ قِصَّةً فِي بَعْثِ أَبِي سُفْيَانَ مَنْ يَقْتُلُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِيلَةً، وَأَنَّ اللهَ تَعَالَى أَطْلَعَ عَلَيْهِ نَبِيَّهُ، وَأَسْلَمَ الرَّجُلُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ وَسَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ بْنِ حَرِيشٍ: " اخْرُجَا حَتَّى تَأْتِيَا أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، فَإِنْ أَصَبْتُمَا مِنْهُ غِرَّةً فَاقْتُلَاهُ ". ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً فِي رُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ عَمْرًا وَإِخْبَارِهِ إِيَّاهُ بِذَلِكَ، وَأَنَّ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ وَسَلَمَةَ بْنَ أَسْلَمَ أَسْنَدَا فِي الْجَبَلِ وَتَغَيَّبَا فِي غَارٍ، ثُمَّ إِنَّ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ خَرَجَ فَقَتَلَ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ مَالِكٍ ابْنَ أَخِي طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، وَجَاءَ إِلَى خُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ وَهُوَ مَصْلُوبٌ فَأَنْزَلَهُ وَأَهَالَ عَلَيْهِ التُّرَابَ، ثُمَّ ذَكَرَ رُجُوعَهُمَا مُنْفَرِدَيْنِ إِلَى الْمَدِينَةِ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الواحد بن ابی عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض نے کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں اور ابوسفیان کا نبی ﷺ کو دھوکا سے قتل کرنے کا قصہ ذکر کیا ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے نبی ﷺ کو اطلاع دے دی، تو قتل کے ارادے سے آنے والا شخص مسلمان ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری اور سلمہ بن اسلم بن حریش رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”تم ابوسفیان بن حرب کے پاس جاؤ، اگر تم اسے غافل پاؤ تو قتل کر دینا۔“
(ب) پھر انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھ لینے اور اپنے باپ کو اس کی خبر دینے کا قصہ ذکر کیا ہے کہ عمرو بن امیہ اور سلمہ بن اسلم رضی اللہ عنہما پہاڑ پر چڑھ کر غار میں چھپ گئے، تو عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے غار سے نکل کر عبید اللہ بن مالک کو، جو طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے تھے، قتل کر دیا۔ پھر خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہیں سولی سے اتار کر ان پر مٹی ڈال دی، پھر وہ دونوں اکیلے اکیلے مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔
(ب) پھر انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھ لینے اور اپنے باپ کو اس کی خبر دینے کا قصہ ذکر کیا ہے کہ عمرو بن امیہ اور سلمہ بن اسلم رضی اللہ عنہما پہاڑ پر چڑھ کر غار میں چھپ گئے، تو عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے غار سے نکل کر عبید اللہ بن مالک کو، جو طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے تھے، قتل کر دیا۔ پھر خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہیں سولی سے اتار کر ان پر مٹی ڈال دی، پھر وہ دونوں اکیلے اکیلے مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔
حدیث نمبر: 18786
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بَرْصَاءَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: " لَا تُغْزَى بَعْدَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حارث بن مالک بن برصاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”یہاں قیامت تک غزوہ نہ کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 18787
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِي الْحِلِّ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْحَرَمِ فَإِنَّهُ لَا يُجَالَسُ وَلَا يُكَلَّمُ وَلَا يُؤْذَى، وَيُنَاشَدُ حَتَّى يَخْرُجَ، فَإِذَا خَرَجَ أُقِيمَ عَلَيْهِ مَا أَصَابَ، فَإِنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِي الْحِلِّ ثُمَّ أُدْخِلَ الْحَرَمَ فَأَرَادُوا أَنْ يُقِيمُوا عَلَيْهِ مَا أَصَابَ أَخْرَجُوهُ مِنَ الْحَرَمِ إِلَى الْحِلِّ، وَإِنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِي الْحَرَمِ أُقِيمَ عَلَيْهِ فِي الْحَرَمِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا مِِنْ رَأْيِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَقَدْ تَرَكْنَاهُ بِالظَّوَاهِرِ الَّتِي وَرَدَتْ فِي إِقَامَةِ الْحُدُودِ دُونَ تَخْصِيصِ الْحَرَمِ بِتَرْكِهَا فِيهِ مِنْ صَاحِبِ الشَّرِيعَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس نے حل (حدودِ حرم سے باہر) میں قتل یا چوری کی، پھر وہ حرم میں داخل ہو گیا تو ایسے شخص کو نہ پاس بٹھایا جائے، نہ اس سے کلام کیا جائے اور نہ ہی اسے پناہ دی جائے، بلکہ اس سے حرم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے، جب وہ حرم سے نکل آئے تو اس پر حد جاری کی جائے۔ اگر کسی نے حل میں قتل یا چوری کی، پھر اسے حرم میں اس نیت سے لایا گیا کہ اس پر حد قائم کی جائے تو تم اسے حرم سے نکال کر حل میں لے آؤ، اور اگر کسی نے حرم میں ہی قتل یا چوری کی تو پھر حرم کے اندر ہی اس پر حد جاری کی جائے گی۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ رائے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ہے جسے ہم نے ان ظاہری دلائل کی وجہ سے ترک کر دیا ہے جو حد قائم کرنے کے بارے میں وارد ہیں، جن میں حرم کی تخصیص نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ رائے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ہے جسے ہم نے ان ظاہری دلائل کی وجہ سے ترک کر دیا ہے جو حد قائم کرنے کے بارے میں وارد ہیں، جن میں حرم کی تخصیص نہیں ہے۔