کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان پر یہ شرط عائد کی جائے گی کہ اگر ان کے مردوں میں سے کسی نے کسی مسلمان عورت سے زنا یا نکاح کے نام پر تعلق قائم کیا، یا کسی مسلمان کا راستہ روکا (رہزنی کی)، یا کسی مسلمان کو اس کے دین سے برگشتہ کرنے کا فتنہ برپا کیا، یا مسلمانوں کے خلاف حربی کافروں کی مدد کی، تو اس نے عہد توڑ دیا۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ عَنْهُ: لَمْ يَخْتَلِفْ أَهْلُ السِّيرَةِ عِنْدَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَجَمَاعَةٌ مِمَّنْ رَوَى السِّيرَةَ، أَنَّ بَنِي قَيْنُقَاعَ كَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَادَعَةٌ وَعَهْدٌ، فَأَتَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى صَائِغٍ مِنْهُمْ لِيَصُوغَ لَهَا حُلِيًّا، وَكَانَتِ الْيَهُودُ مُعَادِيَةً لِلْأَنْصَارِ، فَلَمَّا جَلَسَتْ عِنْدَ الصَّائِغِ عَمَدَ إِلَى بَعْضِ حَدَائِدِهِ فَشَدَّ بِهِ أَسْفَلَ ذَيْلِهَا وَجَيْبَهَا وَهِيَ لَا تَشْعُرُ، فَلَمَّا قَامَتِ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي سُوقِهِمْ نَظَرُوا إِلَيْهَا مُنْكَشِفَةً فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ مِنْهَا وَيَسْخَرُونَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَابَذَهُمْ وَجَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ نَقْضًا لِلْعَهْدِ، وَذَكَرَ حَدِيثَ بَنِي النَّضِيرِ وَمَا صَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْيَهُودِيِّ الَّذِي اسْتَكْرَهَ الْمَرْأَةَ فَوَطِئَهَا.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے، ابو عبدالرحمن بغدادی کی ان سے روایت کے مطابق، فرمایا: ”ہمارے ہاں کے اہل سیرت، یعنی ابن اسحاق، موسیٰ بن عقبہ اور سیرت روایت کرنے والوں کی ایک جماعت کا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ بنو قینقاع اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان صلح اور معاہدہ تھا، پھر انصار کی ایک عورت ان کے ایک سنار کے پاس آئی تاکہ وہ اس کے لیے زیور بنائے، اور یہودی انصار کے دشمن تھے، چنانچہ جب وہ عورت سنار کے پاس بیٹھی تو اس نے اپنے کسی لوہے کے اوزار سے اس (کے کپڑے) کے دامن کے نچلے حصے کو اس کے گریبان کے ساتھ باندھ دیا اور اسے پتا بھی نہ چلا، پھر جب وہ عورت ان کے بازار میں کھڑی ہوئی تو انہوں نے اسے بے پردہ دیکھا اور اس پر ہنسنے اور اس کا مذاق اڑانے لگے، یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے ان سے معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور ان کی اس حرکت کو عہد شکنی قرار دیا۔“
اور (امام شافعی رحمہ اللہ نے) بنو نضیر کا واقعہ بھی ذکر کیا، اور وہ کارروائی بھی ذکر کی جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس یہودی کے بارے میں کی تھی جس نے ایک عورت کو مجبور کر کے اس سے زنا کیا تھا۔
اور (امام شافعی رحمہ اللہ نے) بنو نضیر کا واقعہ بھی ذکر کیا، اور وہ کارروائی بھی ذکر کی جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس یہودی کے بارے میں کی تھی جس نے ایک عورت کو مجبور کر کے اس سے زنا کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: هَذَا حَدِيثُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى بَنِي النَّضِيرِ يَسْتَعِينُهُمْ فِي عَقْلِ الْكِلَابِيِّينَ، وَكَانُوا زَعَمُوا قَدْ دَسُّوا إِلَى قُرَيْشٍ حِينَ نَزَلُوا بِأُحُدٍ فِي قِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَضُّوهُمْ عَلَى الْقِتَالِ، وَدَلُّوهُمْ عَلَى الْعَوْرَةِ، فَلَمَّا كَلَّمَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَقْلِ الْكِلَابِيِّينَ قَالُوا: اجْلِسْ أَبَا الْقَاسِمِ حَتَّى تَطْعَمَ وَتَرْجِعَ بِحَاجَتِكَ وَنَقُومَ فَنَتَشَاوَرَ وَنُصْلِحَ أَمْرَنَا فِيمَا جِئْتَنَا لَهُ. فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي ظِلِّ جِدَارٍ يَنْتَظِرُ أَنْ يُصْلِحُوا أَمْرَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسُوا وَالشَّيْطَانُ مَعَهُمْ لَا يُفَارِقُهُمُ ائْتَمَرُوا بِقَتْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: لَنْ تَجِدُوهُ أَقْرَبَ مِنْهُ الْآنَ فَاسْتَرِيحُوا مِنْهُ تَأْمَنُوا فِي دِيَارِكُمْ وَيُرْفَعْ عَنْكُمُ الْبَلَاءُ. فَقَالَ رَجُلٌ: إِنْ شِئْتُمْ ظَهَرْتُ فَوْقَ الْبَيْتِ وَدَلَّيْتُ عَلَيْهِ حَجَرًا فَقَتَلْتُهُ. فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ بِمَا ائْتَمَرُوا مِنْ شَأْنِهِ، فَعَصَمَهُ اللهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ يُرِيدُ يَقْضِيَ حَاجَةً وَتَرَكَ أَصْحَابَهُ فِي مَجْلِسِهِمْ، وَانْتَظَرَ أَعْدَاءُ اللهِ فَرَاثَ عَلَيْهِمْ، وَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَسَأَلُوهُ عَنْهُ، فَقَالَ: لَقِيتُهُ قَدْ دَخَلَ أَزِقَّةَ الْمَدِينَةِ. فَقَالُوا لِأَصْحَابِهِ: عَجِلَ أَبُو الْقَاسِمِ أَنْ يُقِيمَ أَمْرَنَا فِي حَاجَتِهِ الَّتِي جَاءَ بِهَا. ثُمَّ قَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعُوا، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِالَّذِي جَاءَ أَعْدَاءُ اللهِ فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَنْ يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ}، فَلَمَّا أَظْهَرَ اللهُ رَسُولَهُ عَلَى مَا أَرَادُوا بِهِ ⦗٣٣٨⦘ وَعَلَى خِيَانَتِهِمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ أَمَرَ بِإِجْلَائِهِمْ وَإِخْرَاجِهِمْ مِنْ دِيَارِهِمْ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسِيرُوا حَيْثُ شَاءُوا. إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیثِ رسول ﷺ ہے، جب آپ ﷺ بنو نضیر کے پاس گئے اور ان سے کلابین کی دیت میں مدد مانگ رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بنو نضیر کے پاس گئے، کلابین کی دیت میں ان سے مدد چاہی اور مسلمانوں کا گمان تھا کہ انھوں نے قریشیوں سے مل کر غزوہ احد میں رسول اللہ ﷺ کے خلاف سازش کی، ان کو قتال پہ ابھارا اور راز بتاتے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے کلابین کی دیت کے بارے میں بات چیت کی تو انھوں نے کہا: ”اے ابو القاسم! آپ تشریف رکھیں، کھانا کھائیں، ہم اس معاملے میں مشورہ کر لیں جس کے لیے آپ تشریف لائے ہیں۔“ آپ ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ دیوار کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ وہ اپنے معاملے میں صلاح مشورہ کر لیں۔ انھوں نے الگ ہو کر رسول اللہ ﷺ کے قتل کا مشورہ کر لیا اور کہنے لگے: ”اس سے راحت حاصل کرو، اپنے گھروں میں امن سے رہو، تمہاری مصیبت ختم ہو جائے گی۔“ ایک شخص نے کہا: ”اگر تم چاہو تو میں چھت سے اس کے اوپر پتھر گرا کر قتل کر ڈالوں۔“ ادھر اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو بذریعہ وحی اطلاع دے کر اپنے نبی ﷺ کو محفوظ کر لیا۔ آپ ﷺ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو وہاں چھوڑ کر یوں نکلے جیسے قضائے حاجت کے لیے جایا جاتا ہے اور اللہ کے دشمنوں نے آپ ﷺ کا انتظار کیا، لیکن آپ ﷺ نے واپس آنے میں دیر کی تو انھوں نے مدینہ سے آنے والے ایک شخص سے آپ ﷺ کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ آپ ﷺ تو مدینہ کی گلی میں داخل ہو رہے تھے، تو انھوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا: ”آپ نے تو دیر فرما دی، ہم اس معاملے میں مشورہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔“ جب صحابہ رضی اللہ عنہم واپس آ گئے تو قرآن کا نزول ہوا، اللہ خوب جانتا ہے جو اللہ کے دشمنوں نے تدبیر کی، فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَنْ يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ [سورة المائدة: 11] ”اے ایمان والو! اللہ نے جو تم پر احسان کیا اسے یاد کرو، جب ایک قوم نے تم پر دست درازی کا ارادہ کیا تو اللہ نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیے۔ اللہ سے ڈرو اور مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ ہی پر توکل کریں۔“ جب اللہ نے ان کے ارادے کو ظاہر کر دیا اور ان کی خیانت کو، تو انھیں جلا وطن کر دیا گیا اور کہا گیا: ”جہاں چاہو چلے جاؤ۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الْأَزْدِيُّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بِالشَّامِ، فَأَتَاهُ نَبَطِيٌّ مَضْرُوبٌ مُشَجَّجٌ مُسْتَعْدٍ، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا فَقَالَ لِصُهَيْبٍ: انْظُرْ مَنْ صَاحِبُ هَذَا؟ فَانْطَلَقَ صُهَيْبٌ فَإِذَا هُوَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ غَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، فَلَوْ أَتَيْتَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَمَشَى مَعَكَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ بَادِرَتَهُ. فَجَاءَ مَعَهُ مُعَاذٌ، فَلَمَّا انْصَرَفَ عُمَرُ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: أَيْنَ صُهَيْبٌ؟ فَقَالَ: أَنَا هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: أَجِئْتَ بِالرَّجُلِ الَّذِي ضَرَبَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَامَ إِلَيْهِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَاسْمَعْ مِنْهُ وَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا لَكَ وَلِهَذَا؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ رَأَيْتُهُ يَسُوقُ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ فَنَخَسَ الْحِمَارَ لِيَصْرَعَهَا فَلَمْ تُصْرَعْ، ثُمَّ دَفَعَهَا فَخَرَّتْ عَنِ الْحِمَارِ، ثُمَّ تَغَشَّاهَا فَفَعَلْتُ مَا تَرَى. قَالَ: ائْتِنِي بِالْمَرْأَةِ لِتُصَدِّقَكَ. فَأَتَى عَوْفٌ الْمَرْأَةَ فَذَكَرَ الَّذِي قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُوهَا وَزَوْجُهَا: مَا أَرَدْتَ بِصَاحِبَتِنَا فَضَحْتَهَا. فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللهِ لَأَذْهَبَنَّ مَعَهُ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ. فَلَمَّا أَجْمَعَتْ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَبُوهَا وَزَوْجُهَا: نَحْنُ نُبَلِّغُ عَنْكِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَأَتَيَا فَصَدَّقَا عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ بِمَا قَالَ. قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ لِلْيَهُودِيِّ: وَاللهِ مَا عَلَى هَذَا عَاهَدْنَاكُمْ. فَأَمَرَ بِهِ فَصُلِبَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ فُوا بِذِمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ فَعَلَ مِنْهُمْ هَذَا فَلَا ذِمَّةَ لَهُ. قَالَ سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ: وَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَصْلُوبٍ رَأَيْتُهُ. تَابَعَهُ ابْنُ أَشْوَعَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ہم امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام میں تھے کہ ایک نبطی شخص آیا جس کو سخت مار کے ذریعے زخمی کیا گیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا اور صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا: دیکھو کس نے اسے مارا ہے؟ صہیب رضی اللہ عنہ گئے تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کو پایا کہ انہوں نے اسے مارا تھا، تو صہیب رضی اللہ عنہ نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر امیر المومنین کے پاس جانا، مجھے خطرہ ہے کہ وہ سزا دینے میں جلدی کریں گے، تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو لے کر ان کے پاس گئے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: صہیب کدھر ہے؟ صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! میں حاضر ہوں۔ پوچھا: مارنے والے شخص کو لے کر آئے ہو؟ تو صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! لے کر آیا ہوں، تو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی بات سن لینا، جلدی نہ کرنا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: معاملہ کیا ہے؟ تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! اس نے ایک مسلم عورت کے گدھے کو بھگا دیا تاکہ وہ گر جائے لیکن وہ نہ گری، اس نے دوبارہ گدھے کو بھگا کر اس کو گرا دیا اور اس کے ساتھ زنا کیا، تب میں نے یہ کیا جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: عورت کو لاؤ تاکہ وہ تیری تصدیق کر سکے، تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے عورت کے سامنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات کا تذکرہ کیا۔ اس کے والد اور خاوند نے کہا: تو ہماری عورت کی تذلیل چاہتا ہے۔ عورت نے بھی امیر المومنین کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔ جب اس نے ان کے ساتھ اتفاق کر لیا تو اس عورت کے والد اور خاوند نے پھر کہا: چلو ہم تیری تصدیق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کر دیتے ہیں۔ جب انہوں نے تصدیق کر دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس یہودی سے کہا: ہمارا تمہارے ساتھ اس پر تو معاہدہ نہیں تھا۔ اس یہودی کو سولی دے دی۔ پھر کہا: اے لوگو! محمد ﷺ کے ذمہ کو پورا کرو، جس نے اس طرح کی حرکت کی اس کے لیے کوئی ذمہ نہیں ہے۔ سوید بن غفلہ کہتے ہیں: یہ پہلا شخص میں نے دیکھا جس کو سولی دی گئی۔