حدیث نمبر: 18712
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الْأَزْدِيُّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بِالشَّامِ، فَأَتَاهُ نَبَطِيٌّ مَضْرُوبٌ مُشَجَّجٌ مُسْتَعْدٍ، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا فَقَالَ لِصُهَيْبٍ: انْظُرْ مَنْ صَاحِبُ هَذَا؟ فَانْطَلَقَ صُهَيْبٌ فَإِذَا هُوَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ غَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، فَلَوْ أَتَيْتَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَمَشَى مَعَكَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ بَادِرَتَهُ. فَجَاءَ مَعَهُ مُعَاذٌ، فَلَمَّا انْصَرَفَ عُمَرُ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: أَيْنَ صُهَيْبٌ؟ فَقَالَ: أَنَا هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: أَجِئْتَ بِالرَّجُلِ الَّذِي ضَرَبَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَامَ إِلَيْهِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَاسْمَعْ مِنْهُ وَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا لَكَ وَلِهَذَا؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ رَأَيْتُهُ يَسُوقُ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ فَنَخَسَ الْحِمَارَ لِيَصْرَعَهَا فَلَمْ تُصْرَعْ، ثُمَّ دَفَعَهَا فَخَرَّتْ عَنِ الْحِمَارِ، ثُمَّ تَغَشَّاهَا فَفَعَلْتُ مَا تَرَى. قَالَ: ائْتِنِي بِالْمَرْأَةِ لِتُصَدِّقَكَ. فَأَتَى عَوْفٌ الْمَرْأَةَ فَذَكَرَ الَّذِي قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُوهَا وَزَوْجُهَا: مَا أَرَدْتَ بِصَاحِبَتِنَا فَضَحْتَهَا. فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللهِ لَأَذْهَبَنَّ مَعَهُ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ. فَلَمَّا أَجْمَعَتْ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَبُوهَا وَزَوْجُهَا: نَحْنُ نُبَلِّغُ عَنْكِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَأَتَيَا فَصَدَّقَا عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ بِمَا قَالَ. قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ لِلْيَهُودِيِّ: وَاللهِ مَا عَلَى هَذَا عَاهَدْنَاكُمْ. فَأَمَرَ بِهِ فَصُلِبَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ فُوا بِذِمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ فَعَلَ مِنْهُمْ هَذَا فَلَا ذِمَّةَ لَهُ. قَالَ سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ: وَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَصْلُوبٍ رَأَيْتُهُ. تَابَعَهُ ابْنُ أَشْوَعَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ

سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ہم امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام میں تھے کہ ایک نبطی شخص آیا جس کو سخت مار کے ذریعے زخمی کیا گیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا اور صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا: دیکھو کس نے اسے مارا ہے؟ صہیب رضی اللہ عنہ گئے تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کو پایا کہ انہوں نے اسے مارا تھا، تو صہیب رضی اللہ عنہ نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر امیر المومنین کے پاس جانا، مجھے خطرہ ہے کہ وہ سزا دینے میں جلدی کریں گے، تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو لے کر ان کے پاس گئے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: صہیب کدھر ہے؟ صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! میں حاضر ہوں۔ پوچھا: مارنے والے شخص کو لے کر آئے ہو؟ تو صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! لے کر آیا ہوں، تو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی بات سن لینا، جلدی نہ کرنا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: معاملہ کیا ہے؟ تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! اس نے ایک مسلم عورت کے گدھے کو بھگا دیا تاکہ وہ گر جائے لیکن وہ نہ گری، اس نے دوبارہ گدھے کو بھگا کر اس کو گرا دیا اور اس کے ساتھ زنا کیا، تب میں نے یہ کیا جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: عورت کو لاؤ تاکہ وہ تیری تصدیق کر سکے، تو عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے عورت کے سامنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات کا تذکرہ کیا۔ اس کے والد اور خاوند نے کہا: تو ہماری عورت کی تذلیل چاہتا ہے۔ عورت نے بھی امیر المومنین کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔ جب اس نے ان کے ساتھ اتفاق کر لیا تو اس عورت کے والد اور خاوند نے پھر کہا: چلو ہم تیری تصدیق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کر دیتے ہیں۔ جب انہوں نے تصدیق کر دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس یہودی سے کہا: ہمارا تمہارے ساتھ اس پر تو معاہدہ نہیں تھا۔ اس یہودی کو سولی دے دی۔ پھر کہا: اے لوگو! محمد ﷺ کے ذمہ کو پورا کرو، جس نے اس طرح کی حرکت کی اس کے لیے کوئی ذمہ نہیں ہے۔ سوید بن غفلہ کہتے ہیں: یہ پہلا شخص میں نے دیکھا جس کو سولی دی گئی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18712
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»