کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان لوگوں کا بیان جو قرآن نازل ہونے سے پہلے اہل کتاب میں شامل ہو گئے۔
حدیث نمبر: 18639
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} [البقرة: ٢٥٦] قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنَ الْأَنْصَارِ لَا يَكَادُ يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ فَتَحْلِفُ: لَئِنْ عَاشَ لَهَا وَلَدٌ لَتُهَوِّدَنَّهُ، فَلَمَّا أُجْلِيَتْ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا فِيهِمْ نَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَبْنَاؤُنَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} [البقرة: ٢٥٦]. قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: مَنْ شَاءَ لَحِقَ بِهِمْ وَمَنْ شَاءَ دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ، ⦗٣١٤⦘ وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ فَأَرْسَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ [سورة البقرة: 256] کے متعلق فرماتے ہیں کہ ایک عورت کے بچے زندہ نہ رہتے تھے، اس نے قسم کھائی اگر اولاد زندہ رہی تو وہ یہودی بن جائے گی۔ جب بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا تو ان میں انصار کی اولاد بھی تھی تو انصار نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے بیٹے، تو اللہ تعالیٰ نے ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ [سورة البقرة: 256] ”دین میں زبردستی نہیں“ نازل کی؛ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چاہے ان کے ساتھ مل جائے، جو چاہے اسلام میں داخل ہو جائے۔
حدیث نمبر: 18640
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي قَوْلِهِ: {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} [البقرة: ٢٥٦] قَالَ: نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ، قُلْتُ: خَاصَّةً؟ قَالَ: خَاصَّةً، كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ إِذَا كَانَتْ نَزِرَةً أَوْ مِقْلَاةً تَنْذِرُ: لَئِنْ وَلَدَتْ وَلَدًا لَتَجْعَلَنَّهُ فِي الْيَهُودِ تَلْتَمِسُ بِذَلِكَ طُولَ بَقَائِهِ، فَجَاءَ الْإِسْلَامُ وَفِيهِمْ مِنْهُمْ، فَلَمَّا أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَبْنَاؤُنَا وَإِخْوَانُنَا فِيهِمْ، فَسَكَتَ عَنْهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} [البقرة: ٢٥٦]، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ خُيِّرَ أَصْحَابُكُمْ، فَإِنِ اخْتَارُوكُمْ فَهُمْ مِنْكُمْ، وَإِنِ اخْتَارُوهُمْ فَأَجْلُوهُمْ مَعَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو بشر اللہ کے اس فرمان ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ [سورة البقرة: 256] کے بارے میں سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اسلام میں زبردستی نہیں ہے۔ فرماتے ہیں: یہ انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں نے پوچھا: خاص انصار کے متعلق؟ فرمایا: خاص انصار کے بارے میں۔ ان کی ایک عورت جب نذر مانتی کہ اگر اس نے بچہ جنم دیا تو اس کو یہود کے ساتھ ملا دے گی، وہ اس کی لمبی زندگی کی متلاشی تھی۔ جب اسلام آیا تو بعض لوگ اس طرح کے تھے۔ جب بنو نضیر جلا وطن کیے گئے تو انصار نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے بیٹے اور بھائی ان میں موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے تو یہ آیت ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ [سورة البقرة: 256] نازل ہوئی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ان لوگوں کو اختیار دیا گیا ہے، اگر ان کے ساتھ رہنا چاہیں تو جلا وطن کر دو، اگر تمہارے پاس رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں۔“