کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان کہ ان سے جزیہ لیا جائے گا خواہ وہ عرب ہوں یا عجم۔
حدیث نمبر: 18641
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِزْيَةَ مِنْ أُكَيْدِرِ دُومَةَ، وَهُوَ رَجُلٌ يُقَالُ مِنْ غَسَّانَ أَوْ كِنْدَةَ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے دومۃ (الجندل) کے (حاکم) اکیدر سے جزیہ وصول کیا، اور کہا جاتا ہے کہ وہ غسان یا کندہ (قبیلے) کا ایک شخص تھا۔“...
حدیث نمبر: 18641
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ فَأَخَذُوهُ فَأَتَوْا بِهِ، فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ عَلَى الْجِزْيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
عثمان بن ابی سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اکیدر دومہ کی جانب روانہ کیا، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسے لے کر آئے اور اس کے خون کو نہ بہایا، بلکہ اس نے جزیہ پر صلح کی۔
حدیث نمبر: 18642
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ، كَانَ مَلِكًا عَلَى دُومَةَ، وَكَانَ نَصْرَانِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالِدٍ: " إِنَّكَ سَتَجِدُهُ يَصِيدُ الْبَقَرَ "، فَخَرَجَ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ حِصْنِهِ مَنْظَرَ الْعَيْنِ، وَفِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ صَافِيَةٍ وَهُوَ عَلَى سَطْحٍ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ، فَأَتَتِ الْبَقَرُ تَحُكُّ بِقُرُونِهَا بَابَ الْقَصْرِ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: هَلْ رَأَيْتَ مِثْلَ هَذَا قَطُّ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ، قَالَتْ: فَمَنْ يَتْرُكُ مِثْلَ هَذَا؟ قَالَ: لَا أَحَدَ، فَنَزَلَ فَأَمَرَ بِفَرَسِهِ فَأُسْرِجَ ⦗٣١٥⦘ وَرَكِبَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فِيهِمْ أَخٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ حَسَّانُ، فَخَرَجُوا مَعَهُ بِمَطَارِفِهِمْ، فَتَلَقَّاهُمْ خَيْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْهُ وَقَتَلُوا أَخَاهُ حَسَّانَ، وَكَانَ عَلَيْهِ قُبَاءُ دِيبَاجٍ مَخُوصٍ بِالذَّهَبِ، فَاسْتَلَبَهُ إِيَّاهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ قُدُومِهِ عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّ خَالِدًا قَدِمَ بِالْأُكَيْدِرِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ عَلَى الْجِزْيَةِ وَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَرَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِزْيَةَ مِنْ أَهْلِ ذِمَّةِ الْيَمَنِ، وَعَامَّتُهُمْ عَرَبٌ، وَمَنْ أَهْلِ نَجْرَانَ وَفِيهِمْ عَرَبٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اکیدر بن عبد الملک، جو رومہ کا عیسائی بادشاہ اور کندہ کا ایک فرد تھا، کی جانب روانہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تُو اس کو گائے کا شکار کرتے ہوئے پائے گا۔“ جب خالد رضی اللہ عنہ اس کے قلعہ پر پہنچے تو چاندنی رات میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ چھت پر موجود تھا، گائے نے آ کر محل کے دروازے کے ساتھ خارش کرنا شروع کر دی تو اس کی بیوی نے کہا: کیا آپ نے اس جیسا کبھی دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ اس کی بیوی نے کہا: اس جیسے کو کون چھوڑے گا؟ اس نے کہا: کوئی بھی نہیں۔ تو وہ نیچے اترا اور گھوڑے لانے کا حکم دیا۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کے درمیان، جس میں اس کا بھائی حسان بھی تھا، نکلا۔ نبی ﷺ کے ایک گروہ نے انہیں پکڑ لیا اور اس کے بھائی حسان کو قتل کر دیا۔ اس پر ریشمی قباء تھی جس پر سونے کا کام ہوا تھا، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے پاس آنے سے پہلے اسے روانہ کر دیا۔ پھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اکیدر کو لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے خون معاف کر دیا اور جزیہ پر صلح کر لی اور اسے واپس جانے کی اجازت دے دی۔
شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یمن کے ذمیوں اور عام عرب سے جزیہ وصول کیا اور اہل نجران میں بھی عرب تھے۔
شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یمن کے ذمیوں اور عام عرب سے جزیہ وصول کیا اور اہل نجران میں بھی عرب تھے۔
حدیث نمبر: 18643
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ. قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: وَإِنَّمَا هَذِهِ الْجِزْيَةُ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَهُمْ قَوْمٌ عُرْبٌ؛ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ قَالَ: لَا يُفْتَنُ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِيَّةٍ " يَعْنِي فِي رِوَايَتِهِ عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن بھیجا اور حکم دیا کہ ”میں ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا وصول کروں۔“ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ یمن والے عرب لوگ تھے، ان سے جزیہ وصول کیا گیا، اس لیے کہ وہ اہل کتاب ہیں اور کہا: آپ کو معلوم نہیں کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”یہودی کی یہودی کے ذریعہ آزمائش نہ کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 18644
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، أنبأ أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَالَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ نَجْرَانَ عَلَى أَلْفَيْ حُلَّةٍ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران سے دو سو سوٹ پر صلح کی۔
حدیث نمبر: 18645
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِزْيَةَ مِنْ أُكَيْدِرَ الْغَسَّانِيِّ وَيَرْوُونَ أَنَّهُ صَالَحَ رِجَالًا مِنَ الْعَرَبِ عَلَى الْجِزْيَةِ، فَأَمَّا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ إِلَى الْيَوْمِ فَقَدْ أَخَذُوا الْجِزْيَةَ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ وَتَنُّوخَ وَبَهْرَاءَ وَخُلْطٍ مِنْ خُلْطِ الْعَرَبِ، وَهُمْ إِلَى السَّاعَةِ مُقِيمُونَ عَلَى النَّصْرَانِيَّةِ، يُضَاعَفُ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةُ وَذَلِكَ جِزْيَةٌ، وَإِنَّمَا الْجِزْيَةُ عَلَى الْأَدْيَانِ لَا عَلَى الْأَنْسَابِ، وَلَوْلَا أَنْ نَأْثَمَ بِتَمَنِّي بَاطِلٍ وَدِدْنَا أَنَّ الَّذِي قَالَ أَبُو يُوسُفَ كَمَا قَالَ، وَأَنْ لَا يُجْرَى صَغَارٌ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَكِنَّ اللهَ أَجَلُّ فِي أَعْيُنِنَا مِنْ أَنْ نُحِبَّ غَيْرَ مَا قَضَى بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اکیدر غسانی سے جزیہ وصول کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے عرب لوگوں سے جزیہ پر صلح کی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد آج تک جتنے خلفاء ہوئے ہیں سب نے بنو تغلب، تنوخ، بہراء اور عرب کے لوگوں سے جزیہ وصول کیا اور قیامت تک وہ عیسائیت پر رہیں گے اور ان سے جزیہ دو گنا وصول کیا جائے گا اور جزیہ ادیان پر ہوتا ہے نہ کہ نسلوں پر۔ اگر ہم باطل کی تمنا کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوتے تو ہمیں وہ بات پسند ہے جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے کہی کہ ذلت کسی عربی پر مسلط نہ کی جائے گی، لیکن ہماری آنکھوں کے سامنے واضح ہے کہ ہم اس کو پسند کرتے ہیں جس کے مطابق فیصلہ نہیں کیا گیا۔
حدیث نمبر: 18646
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَوْمَ الْمَرْجِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَمْنَعُ الدِّينَ بِنَصَارَى مِنْ رَبِيعَةَ عَلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ " مَا تَرَكْتُ عَرَبِيًّا إِلَّا قَتَلْتُهُ أَوْ يُسْلِمَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن عمرو بن سعید نے اپنے والد سے مرج کے دن سنا کہ وہ کہہ رہے تھے: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ”اللہ رب العزت ربیعہ کے انصاری سے دین کو فرات کے کنارے پر روک دیں گے“ تو میں کسی عربی کو قتل کرنے سے نہ چھوڑتا یا وہ اسلام قبول کر لیتا۔
حدیث نمبر: 18647
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ وُرُودِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ مِنْ جِهَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحِيرَةَ وَمُحَاوَرَةِ هَانِئِ بْنِ قَبِيصَةَ إِيَّاهُ فَقَالَ خَالِدٌ: أَدْعُوكُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَإِلَى أَنْ تَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتُقِرُّوا بِأَحْكَامِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى أَنَّ لَكُمْ مِثْلَ مَا لَهُمْ وَعَلَيْكُمْ مِثْلَ مَا عَلَيْهِمْ. فَقَالَ هَانِئٌ: وَإِنْ لَمْ أَشَأْ ذَلِكَ فَمَهْ؟ قَالَ: فَإِنْ أَبَيْتُمْ ذَلِكَ أَدَّيْتُمُ الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ. قَالَ: فَإِنْ أَبَيْنَا ذَلِكَ؟ قَالَ: فَإِنْ أَبَيْتُمْ ذَلِكَ وَطِئْتُكُمْ بِقَوْمٍ الْمَوْتُ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الْحَيَاةِ إِلَيْكُمْ. فَقَالَ هَانِئٌ: أَجِّلْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ فَنَنْظُرَ فِي أَمْرِنَا. قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ. فَلَمَّا أَصْبَحَ الْقَوْمُ غَدَا هَانِئٌ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ أَجْمَعَ أَمْرُنَا عَلَى أَنْ نُؤَدِّيَ الْجِزْيَةَ فَهَلُمَّ فَلْأُصَالِحْكَ. فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ: فَكَيْفَ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ تَكُونُ الْجِزْيَةُ وَالذُّلُّ أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ الْقِتَالِ وَالْعِزِّ؟ فَقَالَ: نَظَرْنَا فِيمَا يُقْتَلُ مِنَّا فَإِذَا هُمْ لَا يَرْجِعُونَ، وَنَظَرْنَا إِلَى مَا يُؤْخَذُ مِنَّا مِنَ الْمَالِ فَقَلَّمَا نَلْبَثُ حَتَّى يُخْلِفَهُ اللهُ لَنَا. قَالَ: فَصَالَحَهُمْ خَالِدٌ عَلَى تِسْعِينَ أَلْفًا.
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جانب سے حیرہ شہر میں ورود کے قصے کے بارے میں بیان کرتے ہیں اور ہانی بن قبیصہ کا محاورہ بیان کرتے ہیں کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں اور اس بات کی کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ بندے اور رسول ہیں اور تم قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور تم پر مسلمانوں والے احکام جاری ہوں گے اور تم پر وہ ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ان پر ہیں۔ ہانی نے کہا: اگر ہم اس کو بھی نہ مانیں؟ فرمایا: اگر تم اس بات کو بھی نہیں مانتے تو تم جزیہ ادا کرو۔ اس نے کہا: اگر میں یہ نہ چاہوں؟ فرمایا: اگر تم اس بات کو نہیں مانتے تو پھر تمہارا واسطہ ایسی قوم سے پڑے گا جنہیں موت زندگی سے زیادہ محبوب ہے جیسے تمہیں زندگی محبوب ہے۔ ہانی نے کہا: آپ ہمیں ایک رات مہلت دیں، ہم اپنے معاملے میں سوچ بچار کر لیں۔ کہنے لگے: میں آپ کو مہلت دیتا ہوں۔ جب لوگوں نے صبح کی تو ہانی نے آ کر کہا کہ ہم اس پر متفق ہوئے ہیں کہ ہم جزیہ ادا کیا کریں گے۔ آؤ میں آپ سے صلح کرنا چاہتا ہوں۔ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: تم عرب لوگ ہو، جزیہ اور ذلت کو لڑائی اور عزت پر ترجیح دے رہے ہو۔ اس نے کہا: ہم نے غور و فکر کیا، جو ہمارے قتل کیے جائیں گے وہ کبھی واپس نہ لوٹیں گے اور جو ہم سے مال لیا جائے گا تھوڑی مدت کے بعد اللہ رب العزت اور دے دیں گے، تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے نوے ہزار پر صلح کی۔