کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس مسلمان کا بیان جو مسلمانوں کے کمزور پہلوؤں اور خفیہ رازوں کی نشاندہی مشرکین کو کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الطُّوسِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ: " انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ ". فَخَرَجْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا، فَإِذَا ⦗٢٤٧⦘ نَحْنُ بِظَعِينَةٍ فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَقُلْنَا لَهَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِينَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِمَّنْ بِمَكَّةَ، يُخْبِرُ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا حَاطِبُ "؟ قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَاتِهِمْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي بِمَكَّةَ قَرَابَةٌ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا، وَاللهِ مَا فَعَلْتُهُ شَكًّا فِي دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ قَدْ صَدَقَ ". فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ". وَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ} [الممتحنة: ١]. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ جَمَاعَةٍ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن ابی رافع سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا اور ہدایت فرمائی: ”تم روضہ خاخ نامی جگہ جاؤ، وہاں ایک مسافر عورت ہوگی جس کے پاس ایک خط ہے۔“ ہم نے اپنے گھوڑے دوڑائے اور جب وہاں پہنچے تو واقعی ایک عورت تھی۔ ہم نے اس سے کہا: ”خط نکالو۔“ وہ کہنے لگی: ”میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔“ ہم نے کہا: ”خط نکالو، وگرنہ ہم تلاشی لے کر تمہیں تنگ کریں گے۔“ تو اس نے اپنی مینڈھیوں (بالوں کی چوٹیوں) سے وہ خط نکال کر ہمیں دے دیا۔ ہم اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس خط میں لکھا تھا کہ یہ حاطب بن ابی بلتعہ کی جانب سے مشرکینِ مکہ کے کچھ لوگوں کی طرف ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ کے بعض ارادوں کی خبر دی گئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے حاطب! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں، میں قریش میں محض ایک حلیف تھا، ان میں سے (اصلاً) نہ تھا، جبکہ آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں، مکہ میں ان کی رشتہ داریاں ہیں جن کی وجہ سے وہ لوگ اپنے اہل و عیال اور اموال کی حفاظت کرتے ہیں۔ چونکہ مکہ میں میرا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں تھا، اس لیے میں نے چاہا کہ ان پر کوئی احسان کر دوں (تاکہ وہ اس کے بدلے میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں)۔ اللہ کی قسم! میں نے یہ کام اپنے دین میں شک کرتے ہوئے یا اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے ہرگز نہیں کیا ہے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے تم سے سچ کہا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔“ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ جنگِ بدر میں شریک ہوا ہے، اور آپ کو کیا معلوم، اللہ رب العزت نے اہل بدر کے احوال سے واقف ہو کر فرما دیا ہے: «اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ» ”تم جو چاہو عمل کرو، یقیناً میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے““ اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ﴾ [سورة الممتحنة: 1]
”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کی جانب محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18434
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، وَحَيَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُمَا كَانَا يَتَنَازَعَانِ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَانَ حَيَّانُ يُحِبُّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحِبُّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَتَبَ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى مَكَّةَ: إِنَّ مُحَمَّدًا يُرِيدُ أَنْ يَغْزُوَكُمْ بِأَصْحَابِهِ فَخُذُوا حِذْرَكُمْ. وَدَفَعَ كِتَابَهُ إِلَى امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: سَارَّةُ، فَجَعَلَتْهُ فِي إِزَارِهَا أَوْ فِي ذُؤَابَةٍ مِنْ ذَوَائِبِهَا فَانْطَلَقَتْ، فَأَطْلَعَ اللهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ عَلِيٌّ: فَبَعَثَنِي وَمَعِيَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَأَبُو مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ قَالَ: " انْطَلِقُوا فَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَهَا بِرَوْضَةِ كَذَا وَكَذَا فَفَتِّشُوهَا فَإِنَّ مَعَهَا كِتَابًا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ حَاطِبٍ ". فَانْطَلَقْنَا فَوَافَقْنَاهَا فَقُلْنَا: هَاتِي الْكِتَابَ الَّذِي مَعَكِ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ. قَالَ: قُلْتُ: مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، لَتُخْرِجِنَّهُ أَوْ لَأُجَرِّدَنَّكِ، فَلَمَّا عَرَفَتْ أَنِّي فَاعِلٌ أَخْرَجَتِ الْكِتَابَ، فَأَخَذْنَاهُ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَهُ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبٍ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُرِيدُكُمْ فَخُذُوا حِذْرَكُمْ وَتَأَهَّبُوا. أَوْ كَمَا قَالَ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ أَرْسَلَ إِلَى حَاطِبٍ فَقَالَ لَهُ: " أَكَتَبْتَ هَذَا الْكِتَابَ؟ " قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَا وَاللهِ مَا كَفَرْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَإِنِّي لِمُؤْمِنٌ بِاللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى مَا صَنَعْتُ مِنْ كِتَابِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلَّا وَلَهُ هُنَاكَ بِمَكَّةَ مَنْ يَدْفَعُ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لِي هُنَاكَ أَحَدٌ يَدْفَعُ عَنْ أَهْلِي وَمَالِي، فَأَحْبَبْتُ ⦗٢٤٨⦘ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَ الْقَوْمِ يَدًا، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّ اللهَ سَيُظْهِرُ رَسُولَهُ عَلَيْهِمْ. قَالَ: فَصَدَّقَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَبِلَ قَوْلَهُ، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ؛ فَإِنَّهُ قَدْ خَانَ اللهَ وَالْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ هُشَيْمٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ وَغَيْرِهِ عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " تَجَافَوْا لِذَوِي الْهَيْئَاتِ ". وَقِيلَ فِي الْحَدِيثِ مَا لَمْ يَكُنْ حَدًّا فَإِذَا كَانَ هَذَا مِنَ الرَّجُلِ ذِي الْهَيْئَةِ وَقِيلَ بِجَهَالَةٍ كَمَا كَانَ هَذَا مِنْ حَاطِبٍ بِجَهَالَةٍ وَكَانَ غَيْرَ مُتَّهَمٍ أَحْبَبْتُ أَنْ يُتَجَافَى لَهُ، وَإِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ ذِي الْهَيْئَةِ كَانَ لِلْإِمَامِ وَاللهُ أَعْلَمُ تَعْزِيرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے مکہ والوں کو خط لکھا کہ محمد (ﷺ) تم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں، اپنا دفاع کرو اور یہ خط دے کر سائرہ نامی عورت کو روانہ کر دیا تو اس نے خط کو میڈھیوں کے اندر چھپا لیا۔ وہ چل پڑی، ادھر اللہ رب العزت نے اپنے رسول ﷺ کو اطلاع دے دی تو آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ، تمام شاہسواروں کو بھیج دیا اور فرمایا: ”تم فلاں جگہ ایک عورت کو ملو گے، اس کی تلاشی لینا، اس کے پاس حاطب کی جانب سے مکہ والوں کے نام ایک خط ہے۔“ کہتے ہیں: ہم چلے، اسی جگہ ہم نے عورت کو پایا، ہم نے کہا: مکہ والوں کے نام خط ہے وہ نکال دے۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: نہ تو میں جھوٹ بولتا ہوں اور نہ میں تکذیب کرتا ہوں، تو خط نکال دے یا میں تیرے کپڑے اتار دوں گا۔ جب اس نے جان لیا کہ یہ ایسا ہی کریں گے تو اس نے خط نکال دیا، تو ہم لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے کھول کر پڑھا تو اس میں تھا کہ حاطب کی جانب سے مکہ والوں کی طرف کہ محمد (ﷺ) تم پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں، تم اپنے دفاع کی تیاری کرو۔ جب آپ ﷺ نے خط پڑھا تو حاطب کو بلایا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے یہ خط لکھا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ پوچھا: ”تجھے کس چیز نے اس پر ابھارا؟“ تو حاطب نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اسلام لانے کے بعد میں نے کفر نہیں کیا، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں، میں نے خط صرف اس لیے لکھا کہ مکہ میں میرے اہل و مال کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں، جس طرح دوسرے صحابہ کے مکہ میں موجود ہیں، میں صرف ان لوگوں پر احسان کرنا چاہتا تھا اور مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ اللہ اپنے رسول کو غلبہ دیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی تصدیق کی اور عذر قبول کر لیا۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے قتل کی اجازت طلب کی کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! یہ بدری ہے، تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے ان پر جھانک لیا اور فرمایا: جو تمہارا دل چاہے عمل کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔“
(ب) نبی ﷺ سے منقول ہے کہ ”تم معزز لوگوں سے حدوں کو دور کرو۔“ حدیث میں کہا گیا ہے کہ یہ حد نہ تھی اور جب یہ شخص معزز لوگوں سے ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہالت کی وجہ سے حد نہ لگائی جائے جیسے حاطب بن ابی بلتعہ سے بھول ہوئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18435
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»