کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: حربی کافروں کے جاسوس کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْإِيَادِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنِ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ قَالَ: فَجَلَسَ فَتَحَدَّثَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ ثُمَّ انْسَلَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اطْلُبُوهُ فَاقْتُلُوهُ ". قَالَ: فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ سفر کے دوران نبی ﷺ کے پاس مشرکین کا جاسوس آیا، وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتا رہا، پھر کھسک گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پکڑ کر قتل کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اس کو قتل کر کے اس کا سامان لے لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18436
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنِ الْفُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِ، وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَحَلِيفًا أَظُنُّهُ قَالَ: لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَرَّ عَلَى حَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ يَقُولُ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْهُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمُ الْفُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ ".
حافظ ثناء اللہ
حارثہ بن مضرب، فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے قتل کا حکم دیا تھا اور وہ ابوسفیان کا جاسوس اور میرا گمان ہے کہ راوی نے کہا: ایک انصاری شخص کا حلیف تھا۔ وہ انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: ”میں مسلمان ہوں“ تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک ان میں سے بعض افراد ایسے ہیں جنہیں ہم ان کے ایمان کے سپرد کر دیتے ہیں، ان میں سے فرات بن حیان بھی ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18437
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم برقم ١١٦٨٣١»