حدیث نمبر: 18436
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْإِيَادِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنِ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ قَالَ: فَجَلَسَ فَتَحَدَّثَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ ثُمَّ انْسَلَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اطْلُبُوهُ فَاقْتُلُوهُ ". قَالَ: فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ سفر کے دوران نبی ﷺ کے پاس مشرکین کا جاسوس آیا، وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتا رہا، پھر کھسک گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پکڑ کر قتل کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اس کو قتل کر کے اس کا سامان لے لیا۔
حدیث نمبر: 18437
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنِ الْفُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِ، وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَحَلِيفًا أَظُنُّهُ قَالَ: لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَرَّ عَلَى حَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ يَقُولُ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْهُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمُ الْفُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ ".
حافظ ثناء اللہ
حارث بن مضرب، فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے قتل کا حکم دیا اور وہ ابوسفیان کا جاسوس اور حلیف تھا۔ میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے ایک انصاری شخص سے کہا تو وہ انصاری لوگوں کی مجلس کے پاس سے گزرا۔ اس نے کہا: ”میں مسلمان ہوں“ تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک ان میں سے بعض افراد ایسے ہیں کہ بزدلی ان کو ایمان کی طرف لے آتی ہے، ان میں سے فرات بن حیان بھی ہیں۔“