السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المسلم يدل المشركين على عورة المسلمين باب: اس مسلمان کا بیان جو مسلمانوں کے کمزور پہلوؤں اور خفیہ رازوں کی نشاندہی مشرکین کو کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، وَحَيَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُمَا كَانَا يَتَنَازَعَانِ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَانَ حَيَّانُ يُحِبُّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحِبُّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَتَبَ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى مَكَّةَ: إِنَّ مُحَمَّدًا يُرِيدُ أَنْ يَغْزُوَكُمْ بِأَصْحَابِهِ فَخُذُوا حِذْرَكُمْ. وَدَفَعَ كِتَابَهُ إِلَى امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: سَارَّةُ، فَجَعَلَتْهُ فِي إِزَارِهَا أَوْ فِي ذُؤَابَةٍ مِنْ ذَوَائِبِهَا فَانْطَلَقَتْ، فَأَطْلَعَ اللهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ عَلِيٌّ: فَبَعَثَنِي وَمَعِيَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَأَبُو مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ قَالَ: " انْطَلِقُوا فَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَهَا بِرَوْضَةِ كَذَا وَكَذَا فَفَتِّشُوهَا فَإِنَّ مَعَهَا كِتَابًا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ حَاطِبٍ ". فَانْطَلَقْنَا فَوَافَقْنَاهَا فَقُلْنَا: هَاتِي الْكِتَابَ الَّذِي مَعَكِ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ. قَالَ: قُلْتُ: مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، لَتُخْرِجِنَّهُ أَوْ لَأُجَرِّدَنَّكِ، فَلَمَّا عَرَفَتْ أَنِّي فَاعِلٌ أَخْرَجَتِ الْكِتَابَ، فَأَخَذْنَاهُ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَهُ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبٍ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُرِيدُكُمْ فَخُذُوا حِذْرَكُمْ وَتَأَهَّبُوا. أَوْ كَمَا قَالَ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ أَرْسَلَ إِلَى حَاطِبٍ فَقَالَ لَهُ: " أَكَتَبْتَ هَذَا الْكِتَابَ؟ " قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَا وَاللهِ مَا كَفَرْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَإِنِّي لِمُؤْمِنٌ بِاللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى مَا صَنَعْتُ مِنْ كِتَابِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلَّا وَلَهُ هُنَاكَ بِمَكَّةَ مَنْ يَدْفَعُ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لِي هُنَاكَ أَحَدٌ يَدْفَعُ عَنْ أَهْلِي وَمَالِي، فَأَحْبَبْتُ ⦗٢٤٨⦘ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَ الْقَوْمِ يَدًا، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّ اللهَ سَيُظْهِرُ رَسُولَهُ عَلَيْهِمْ. قَالَ: فَصَدَّقَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَبِلَ قَوْلَهُ، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ؛ فَإِنَّهُ قَدْ خَانَ اللهَ وَالْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُمَرُ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ هُشَيْمٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ وَغَيْرِهِ عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " تَجَافَوْا لِذَوِي الْهَيْئَاتِ ". وَقِيلَ فِي الْحَدِيثِ مَا لَمْ يَكُنْ حَدًّا فَإِذَا كَانَ هَذَا مِنَ الرَّجُلِ ذِي الْهَيْئَةِ وَقِيلَ بِجَهَالَةٍ كَمَا كَانَ هَذَا مِنْ حَاطِبٍ بِجَهَالَةٍ وَكَانَ غَيْرَ مُتَّهَمٍ أَحْبَبْتُ أَنْ يُتَجَافَى لَهُ، وَإِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ ذِي الْهَيْئَةِ كَانَ لِلْإِمَامِ وَاللهُ أَعْلَمُ تَعْزِيرُهُ.سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے مکہ والوں کو خط لکھا کہ محمد (ﷺ) تم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں، اپنا دفاع کرو اور یہ خط دے کر سارہ نامی عورت کو روانہ کر دیا تو اس نے خط کو میڈھیوں کے اندر چھپا لیا۔ وہ چل پڑی، ادھر اللہ رب العزت نے اپنے رسول ﷺ کو اطلاع دے دی تو آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ، تمام شاہسواروں کو بھیج دیا اور فرمایا: ”تم فلاں جگہ ایک عورت کو ملو گے، اس کی تلاشی لینا، اس کے پاس حاطب کی جانب سے مکہ والوں کے نام ایک خط ہے۔“ کہتے ہیں: ہم چلے، اسی جگہ ہم نے عورت کو پایا، ہم نے کہا: مکہ والوں کے نام خط ہے وہ نکال دے۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: نہ تو میں جھوٹ بولتا ہوں اور نہ میں تکذیب کرتا ہوں، تو خط نکال دے یا میں تیرے کپڑے اتار دوں گا۔ جب اس نے جان لیا کہ یہ ایسا ہی کریں گے تو اس نے خط نکال دیا، تو ہم لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے کھول کر پڑھا تو اس میں تھا کہ حاطب کی جانب سے مکہ والوں کی طرف کہ محمد (ﷺ) تم پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں، تم اپنے دفاع کی تیاری کرو۔ جب آپ ﷺ نے خط پڑھا تو حاطب کو بلایا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے یہ خط لکھا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ پوچھا: ”تجھے کس چیز نے اس پر ابھارا؟“ تو حاطب نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اسلام لانے کے بعد میں نے کفر نہیں کیا، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں، میں نے خط صرف اس لیے لکھا کہ مکہ میں میرے اہل و مال کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں، جس طرح دوسرے صحابہ کے مکہ میں موجود ہیں، میں صرف ان لوگوں پر احسان کرنا چاہتا تھا اور مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ اللہ اپنے رسول کو غلبہ دیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی تصدیق کی اور عذر قبول کر لیا۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے قتل کی اجازت طلب کی کیونکہ اس نے اللہ اور مومنوں سے خیانت کی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! یہ بدری ہے، تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے ان پر جھانک لیا اور فرمایا: جو تمہارا دل چاہے عمل کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ سے منقول ہے کہ ”معزز لوگوں (کی لغزشوں) سے درگزر کرو۔“ اس حدیث کے بارے میں کہا گیا ہے کہ (یہ درگزر اس وقت ہے) جب تک وہ حد (والا جرم) نہ ہو۔ پس جب یہ کام کسی معزز آدمی سے ہو اور کہا گیا ہے کہ لاعلمی میں ہو، جیسے حاطب رضی اللہ عنہ سے لاعلمی میں ہوا اور وہ متہم نہ تھے، تو میں پسند کرتا ہوں کہ اس سے درگزر کیا جائے، اور اگر وہ معزز آدمی نہ ہو تو امام کو، واللہ اعلم، اسے تعزیری سزا دینے کا اختیار ہے۔