کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: (مقتولین کے) سروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18351
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَشُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ بَعَثَا عُقْبَةَ بَرِيدًا إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَأْسِ يَنَاقٍ بِطَرِيقِ الشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْكَرَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُمْ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ، قَالَ: أَفَاسْتِنَانٌ بِفَارِسَ وَالرُّومِ؟ لَا يُحْمَلْ إِلِيَّ رَأْسٌ، فَإِنَّمَا يَكْفِي الْكِتَابُ وَالْخَبَرُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہما نے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف یناق بطریق شام کا سر دے کر روانہ کیا۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سر لایا گیا تو انہوں نے انکار کردیا۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے خلیفۃ الرسول ﷺ! وہ ہمارے ساتھ یہ کرتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم فارس اور روم کی سنت کو اختیار کرنے والے ہو؟ میری جانب کوئی سر نہ لایا جائے، صرف خط اور خبر ہی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 18352
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: هَاجَرْنَا عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ قُدِمَ عَلَيْنَا بِرَأْسِ يَنَاقٍ الْبِطْرِيقِ، وَلَمْ تَكُنْ لَنَا بِهِ حَاجَةٌ، إِنَّمَا هَذِهِ سُنَّةُ الْعَجَمِ.
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہجرت کی، ہم ان کے پاس ہی تھے، جس وقت وہ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا کہ ہمارے پاس یناق بطریق کا سر لایا گیا ہے، حالانکہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں، یہ عجمیوں کا طریقہ ہے۔
حدیث نمبر: 18353
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِرَأْسٍ فَقَالَ: بَغَيْتُمْ. قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗٢٢٤⦘ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنِي صَاحِبٌ لَنَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: لَمْ يُحْمَلْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسٌ إِلَى الْمَدِينَةِ قَطُّ، وَلَا يَوْمَ بَدْرٍ، وَحُمِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَرِهَ ذَلِكَ. قَالَ: وَأَوَّلُ مَنْ حُمِلَتْ إِلَيْهِ الرُّءُوسُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ..
حافظ ثناء اللہ
عبدالکریم جزری فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سر لایا گیا تو فرمانے لگے: تم نے سرکشی کی ہے۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس مدینہ میں کبھی سر نہیں لایا گیا، جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سر لایا گیا تو انہوں نے ناپسند کیا، کہتے ہیں: سب سے پہلے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سر لائے گئے۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس مدینہ میں کبھی سر نہیں لایا گیا، جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سر لایا گیا تو انہوں نے ناپسند کیا، کہتے ہیں: سب سے پہلے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سر لائے گئے۔
حدیث نمبر: 18354
قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَدُوَّ فَقَالَ: " مَنْ جَاءَ بِرَأْسٍ فَلَهُ عَلَى اللهِ مَا تَمَنَّى ". فَجَاءَهُ رَجُلَانِ بِرَأْسٍ فَاخْتَصَمَا فِيهِ، فَقَضَى بِهِ لِأَحَدِهِمَا. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ. فَهَذَا حَدِيثٌ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ إِنْ ثَبَتَ تَحْرِيضٌ عَلَى قَتْلِ الْعَدُوِّ، وَلَيْسَ فِيهِ نَقْلُ الرَّأْسِ مِنْ بِلَادِ الشِّرْكِ إِلَى بِلَادِ الْإِسْلَامِ.
حافظ ثناء اللہ
بشیر بن عقبہ، ابو نضرہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ دشمن سے ملے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو سر لے کر آئے اس کے لیے وہی چیز ہے جو وہ اللہ سے خواہش کرے۔“ دو آدمی ایک سر لے کر آئے اور اس کے بارے میں جھگڑا کیا۔ آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کے لیے فیصلہ کر دیا۔
(ب) اگر یہ حدیث ثابت بھی ہو جائے تو صرف دشمنوں کے قتل پر ابھارنا مقصود ہے نہ کہ سروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔
(ب) اگر یہ حدیث ثابت بھی ہو جائے تو صرف دشمنوں کے قتل پر ابھارنا مقصود ہے نہ کہ سروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔