کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: دار الحرب میں قیدیوں اور دیگر اشیاء کی خرید و فروخت کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ النِّسَاءِ الْحَبَالَى أَنْ يُوطَأْنَ حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ بَيْعِ الْخُمُسِ حَتَّى يُقْسَمَ ". وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: وَعَنْ شِرَى الْمَغْنَمِ حَتَّى يُقْسَمَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے ”گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے اور حاملہ عورتوں سے وطی سے منع کیا جب تک وہ وضع حمل نہ کر دیں اور درندوں کے گوشت سے اور خمس کو تقسیم سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا“ اور ایک دوسری جگہ فرمایا کہ ”مال غنیمت کو تقسیم سے پہلے فروخت سے منع فرمایا“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18303
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُوقَعَ عَلَى الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ، وَقَالَ: " زَرْعُ غَيْرِكَ ". وَعَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ، وَعَنْ أَكْلِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، دَلِيلُهُ أَنَّهَا إِذَا قُسِمَتْ جَازَ بَيْعُهَا. وَقَدْ مَضَتِ الدَّلَالَةُ عَلَى جَوَازِ قِسْمَتِهَا فِي دَارِ الْحَرْبِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حاملہ عورتوں سے وضع حمل تک ہمبستری کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”(یہ) دوسرے کی کھیتی ہے۔“ اور مال غنیمت کو تقسیم سے پہلے فروخت کرنے، گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے اور ہر کچلی والے درندے سے منع فرمایا۔
اس میں دلیل ہے کہ جب مال غنیمت تقسیم ہو جائے تو اس کی بیع جائز ہے۔ اور دار الحرب میں اس کی تقسیم کے جواز کی دلیل پہلے گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18304
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»