السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: بيع السبي وغيره في دار الحرب باب: دار الحرب میں قیدیوں اور دیگر اشیاء کی خرید و فروخت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18303
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ النِّسَاءِ الْحَبَالَى أَنْ يُوطَأْنَ حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ بَيْعِ الْخُمُسِ حَتَّى يُقْسَمَ ". وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: وَعَنْ شِرَى الْمَغْنَمِ حَتَّى يُقْسَمَ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے ”گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے اور حاملہ عورتوں سے وطی سے منع کیا جب تک وہ وضع حمل نہ کر دیں اور درندوں کے گوشت سے اور خمس کو تقسیم سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا“ اور ایک دوسری جگہ فرمایا کہ ”مال غنیمت کو تقسیم سے پہلے فروخت سے منع فرمایا“۔