السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: بيع السبي وغيره في دار الحرب باب: دار الحرب میں قیدیوں اور دیگر اشیاء کی خرید و فروخت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18304
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُوقَعَ عَلَى الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ، وَقَالَ: " زَرْعُ غَيْرِكَ ". وَعَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ، وَعَنْ أَكْلِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، دَلِيلُهُ أَنَّهَا إِذَا قُسِمَتْ جَازَ بَيْعُهَا. وَقَدْ مَضَتِ الدَّلَالَةُ عَلَى جَوَازِ قِسْمَتِهَا فِي دَارِ الْحَرْبِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حاملہ عورتوں سے وضع حمل تک ہمبستری کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”(یہ) دوسرے کی کھیتی ہے۔“ اور مال غنیمت کو تقسیم سے پہلے فروخت کرنے، گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے اور ہر کچلی والے درندے سے منع فرمایا۔
اس میں دلیل ہے کہ جب مال غنیمت تقسیم ہو جائے تو اس کی بیع جائز ہے۔ اور دار الحرب میں اس کی تقسیم کے جواز کی دلیل پہلے گزر چکی ہے۔