کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مشرکین کے قید ہونے سے قبل اسلام لانے کا بیان، اور امام و دیگر افراد پر تصدیق کی کیا ذمہ داری ہے جب مشرکین ایسے الفاظ بولیں جو اسلام کے اقرار سے بھی مشابہ ہوں اور دیگر باتوں سے بھی۔
حدیث نمبر: 18265
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا فَيَّاضٌ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، أَحْسَبُهُ قَالَ: إِلَى بَنِي جُذَيْمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا: أَسْلَمْنَا، فَقَالُوا: صَبَأْنَا صَبَأْنَا، وَجَعَلَ خَالِدٌ بِهِمْ قَتْلًا وَأَسْرًا، قَالَ: ثُمَّ دَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا، حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمًا أَمَرَنَا فَقَالَ لِيَقْتُلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمْ أَسِيرَهُ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ. قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مَا صَنَعَ خَالِدٌ قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو خزیمہ کی طرف بھیجا تو خالد نے انھیں اسلام کی دعوت دی۔ انھوں نے اچھا کلام نہ کیا کہ وہ کہتے کہ ہم مسلمان ہو گئے بلکہ انھوں نے کہا: ہم بے دین ہو گئے، تو خالد نے انھیں قتل کیا اور قیدی بنائے۔ کہتے ہیں: پھر ہر شخص کو اس کا قیدی دے دیا گیا تو ایک صبح سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اپنے قیدی قتل کر دو تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نہ تو میں اپنے قیدی کو قتل کروں گا اور نہ ہی میرا کوئی ساتھی، تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے ہاتھ بلند کر کے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ» ”اے اللہ! میں اس سے بری ہوں جو خالد نے کیا۔“
حدیث نمبر: 18266
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَقِيَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا فِي غَنِيمَةٍ لَهُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغَنِيمَةَ، فَنَزَلَ: {وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} [النساء: ٩٤]، وَقَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ: السَّلَامَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مسلمان کسی شخص کو اس کے مال میں ملا، اس نے کہا: ”تم پر سلامتی ہو“ تو انہوں نے پکڑ کر اس کو قتل کردیا اور اس کی بکریاں بھی لے لیں، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا﴾ [سورة النساء: 94] ”اور تم ایسے شخص کو نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے جو تمہاری طرف صلح چاہتا ہے۔“
حدیث نمبر: 18267
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غَنَمٌ لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ، فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ، فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} [النساء: ٩٤] إِلَى قَوْلِهِ: {كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا} [النساء: ٩٤].
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ بنو سلیم کا ایک شخص صحابہ کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا، اس کے پاس بکریاں بھی تھیں، اس نے سلام کیا، صحابہ کہنے لگے: ”اس نے صرف بچاؤ کے لیے سلام کہا ہے۔“ انہوں نے پکڑ کر اس کو قتل کر دیا اور اس کی بکریاں بھی لے لیں، وہ اس کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا﴾ [سورة النساء: 94] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم اللہ کے راستے میں چلو تو تحقیق کر لیا کرو، تم ایسے شخص کو یہ نہ کہہ دو کہ تو مؤمن نہیں ہے حالانکہ وہ تم پر سلام کہہ رہا ہو، تم پہلے اس طرح تھے اللہ نے تمہارے اوپر احسان فرمایا، لہٰذا تحقیق کر لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 18268
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ ⦗١٩٥⦘ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي الْقَعْقَاعِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي حَدْرَدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِضَمٍ، فَخَرَجْتُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ، وَمُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَطْنِ إِضَمٍ مَرَّ بِنَا عَامِرُ بْنُ الْأَضْبَطِ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ، فَلَمَّا مَرَّ عَلَيْنَا سَلَّمَ عَلَيْنَا بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ، فَأَمْسَكْنَا عَنْهُ، وَحَمَلَ عَلَيْهِ مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ فَقَتَلَهُ وَأَخَذَ بَعِيرَهُ وَمَا مَعَهُ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ، فَنَزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} [النساء: ٩٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. كَذَا رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ، عَنْ أَبِيهِ. وَرَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ. وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِي رِوَايَةِ حَجَّاجٍ عَنْهُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَقِيلَ غَيْرُ ذَلِكَ. وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ فِي سَرِيَّةٍ بَعَثَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِضَمٍ، وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ أَشْجَعَ. وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو حدرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اضم کی طرف روانہ کیا۔ میں مسلمانوں کے گروہ میں نکلا جس میں ابو قتادہ، حارث بن ربعی، محلم بن جثامہ رضی اللہ عنہم تھے۔ جب ہم اضم وادی کے نشیب میں آئے تو ہمارے پاس سے عامر بن اضبط اپنے اونٹ پر سوار ہو کر گزرا۔ جب وہ ہمارے پاس سے گزرا تو اس نے ہمیں سلام کہا۔ ہم نے اسے روک لیا اور محلم بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا اور اونٹ قبضے میں لے لیا۔ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو بتایا تو ہمارے بارے میں قرآن نازل ہوا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا﴾ [سورة النساء: 94] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم اللہ کے راستہ میں چلو تو تحقیق کر لیا کرو، تم ایسے شخص کو یہ نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے حالانکہ وہ تم پر سلام کہہ رہا ہو۔ تم پہلے اس طرح تھے، اللہ نے تمہارے اوپر احسان فرمایا، لہٰذا تحقیق کر لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 18269
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ، فَرَآهُمْ رَجُلٌ وَهُوَ فِي جَبَلٍ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ فَفِيهِ نَزَلَتْ: {وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [النساء: ٩٤]، وَالرَّجُلُ الَّذِي قَتَلُوهُ عَامِرُ بْنُ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک لشکر میں تھا کہ انہیں پہاڑ سے ایک شخص نے دیکھا تو ان کے پاس آ کر سلام کیا، انہوں نے پکڑ کر اس کو قتل کر دیا تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [سورة النساء: 94] ”اور تم نہ کہو ایسے شخص کو جو تمہیں سلام کہتا ہے کہ تم مومن نہیں تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔“ کہ وہ شخص جسے انہوں نے قتل کیا وہ عامر بن اضبط تھا۔
حدیث نمبر: 18270
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗١٩٦⦘ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ ضُمَيْرَةَ بْنِ سَعْدٍ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَاهُ وَجَدَّهُ شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ يَخْتَصِمَانِ فِي دَمِ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيِّ، وَكَانَ قَتَلَهُ مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ بْنِ قَيْسٍ، فَعُيَيْنَةُ يَطْلُبُ بِدَمِ الْأَشْجَعِيِّ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ؛ لِأَنَّهُ مِنْ قَيْسٍ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ يَدْفَعُ عَنْ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ؛ لِأَنَّهُ مِنْ خِنْدِفَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ سَيِّدُ خِنْدِفَ، فَسَمِعْنَا عُيَيْنَةَ يَقُولُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ لَا أَدَعُهُ حَتَّى أُذِيقَ نِسَاءَهُ مِنَ الْحَرِّ مَا أَذَاقَ نِسَائِي. وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا، وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا "، وَهُوَ يَأْبَى، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ مَجْمُوعٌ قَصِيرٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَجَدْتُ لِهَذَا الْقَتِيلِ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ إِلَّا كَعِيرٍ وَرَدَتْ فَرُمِيَتْ أُولَاهَا فَنَفَرَتْ أُخْرَاهَا، اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا. فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ: " تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا "، فَقَبِلَهَا الْقَوْمُ، ثُمَّ قَالَ: " ائْتُوا بِصَاحِبِكُمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءُوا بِهِ فَقَامَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِيلٌ ضَرَبَ عَلَيْهِ حُلَّةً لَهُ قَدْ تَهَيَّأَ فِيهَا لِلْقَتْلِ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: " مَا اسْمُكَ؟ " فَقَالَ: مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ، اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ، اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ ". ثُمَّ قَالَ لَهُ: " قُمْ "، فَقَامَ وَهُوَ يَتَلَقَّى دَمْعَهُ بِفَضْلِ رِدَائِهِ، فَأَمَّا نَحْنُ فِيمَا بَيْنَنَا فَنَقُولُ: إِنَّا لَنَرْجُو أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَغْفَرَ لَهُ، وَلَكِنْ أَظْهَرَ هَذَا لِيَنْزِعَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ، فَأَمَّا مَا ظَهَرَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ..
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد اور دادا نبی ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں موجود تھے۔ دونوں رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر سایہ دار درخت کے نیچے چلے گئے تو اقرع بن حابس اور عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہما، عامر بن اضبط رضی اللہ عنہ کے خون کا جھگڑا لے کر آگئے، جسے محلم بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہ، عامر بن اضبط رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کر رہے تھے کیونکہ وہ قیس سے تھے اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ محلم بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا دفاع کر رہے تھے کیونکہ وہ ان دنوں قبیلہ خندف کے سردار تھے۔ ہم نے عیینہ رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: ”اے اللہ کے رسول! میں اس کو نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ میں اس کی عورتوں کو غم پہنچاؤں جو میری عورتوں نے غم پایا ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں حاصل کرلو اور پچاس جب ہم واپس پلٹیں گے تب لے لینا۔“ لیکن وہ انکار کر رہا تھا، تو بنو لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جس کو مکتل کہا جاتا تھا، وہ چھوٹے قد کا تھا۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس مقتول کے لیے میں کچھ نہیں پاتا مگر اونٹوں کے اس قافلے کی مثل جس کے پہلے کو پھینک دیا جائے اور آخری کو بھگا دیا جائے۔ آج چھری تیز کی جائے اور کل ذبح کردیا جائے۔“
رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: ”تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں لے لو اور پچاس اونٹ تب لے لینا جب ہم واپس جائیں گے۔“ لوگوں نے دیت کو قبول کیا، پھر کہا: تم اپنے ساتھی کو لاؤ کہ رسول اللہ ﷺ اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ وہ لے کر آئے تو ایک شخص گندمی رنگ، لمبے قد کا کھڑا ہوا جس نے حلہ پہن رکھا تھا۔ وہ قتل کے لیے تیار تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ» ”اے اللہ! تو محلم بن جثامہ کو معاف نہ کر۔“ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر اسے کہا: ”کھڑا ہوجا۔“ وہ کھڑا ہوا تو اس نے اپنے خون کو پایا کہ چادر کے زائد حصے کو لگا ہوا ہے اور ہمارے درمیان یہ باتیں ہو رہی تھیں۔ ہم کہہ رہے تھے کہ ہمیں امید ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس کے لیے بخشش کی دعا کردیں گے، لیکن آپ ﷺ کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ چیز لوگوں کے درمیان جھگڑے کا باعث بنے گی۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: ”تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں لے لو اور پچاس اونٹ تب لے لینا جب ہم واپس جائیں گے۔“ لوگوں نے دیت کو قبول کیا، پھر کہا: تم اپنے ساتھی کو لاؤ کہ رسول اللہ ﷺ اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ وہ لے کر آئے تو ایک شخص گندمی رنگ، لمبے قد کا کھڑا ہوا جس نے حلہ پہن رکھا تھا۔ وہ قتل کے لیے تیار تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ» ”اے اللہ! تو محلم بن جثامہ کو معاف نہ کر۔“ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر اسے کہا: ”کھڑا ہوجا۔“ وہ کھڑا ہوا تو اس نے اپنے خون کو پایا کہ چادر کے زائد حصے کو لگا ہوا ہے اور ہمارے درمیان یہ باتیں ہو رہی تھیں۔ ہم کہہ رہے تھے کہ ہمیں امید ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس کے لیے بخشش کی دعا کردیں گے، لیکن آپ ﷺ کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ چیز لوگوں کے درمیان جھگڑے کا باعث بنے گی۔
حدیث نمبر: 18271
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيِّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ سَعْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ مُحَلِّمَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ فِي الْإِسْلَامِ، وَذَلِكَ أَوَّلُ عِيرٍ قَضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُيَيْنَةُ أَلَا تَقْبَلُ الْعِيرَ "؟ يُرِيدُ الدِّيَةَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقَتَلْتَهُ بِسِلَاحِكَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ؟ اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ " بِصَوْتٍ عَالٍ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ محلم بن جثامہ لیثی نے اشجع کے ایک فرد کو اسلام میں قتل کر دیا۔ یہ دیت تھی، جس کا رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عیینہ! کیا آپ دیت قبول نہیں کریں گے؟“ راوی کہتے ہیں کہ اس کے آخر میں تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اس کو اپنے اسلحہ سے قتل کیا، اسلام کی علامت کے باوجود؟“ پھر آپ ﷺ نے بلند آواز سے فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ» ”اے اللہ! تو محلم کو معاف نہ کر۔“
حدیث نمبر: 18272
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: أَتَيْنَا نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّيْثِيَّ، فَقَالَ نَصْرٌ: ثنا ⦗١٩٧⦘ عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ، وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَأَغَارُوا عَلَى قَوْمٍ، فَشَذَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ مَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرٌ، فَقَالَ الشَّاذُّ مِنَ الْقَوْمِ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيهِ فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا، فَقَالَ الْقَاتِلُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثَلَاثًا، فَأَعَادَهُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبَى عَلَى مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا " قَالَهَا ثَلَاثًا. تَابَعَهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (میں بھی اس گروہ میں تھا) رسول اللہ ﷺ نے ایک چھوٹا لشکر بھیجا، انہوں نے ایک قوم پر حملہ کر دیا تو قوم سے ایک فرد الگ ہو گیا تو لشکر کے ایک فرد نے اس کا پیچھا کیا جس کے پاس سونتی ہوئی تلوار تھی، قوم سے الگ ہونے والے فرد نے کہا: میں مسلمان ہوں، اس نے اس کا خیال نہ کیا اور اسے قتل کر دیا، جب بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے اس کے بارے میں سخت بات کہی تو قاتل نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے قتل سے بچنے کی غرض سے یہ بات کہی تھی، آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا اور یہی بات دہرائی، آپ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو ناراضگی آپ ﷺ کے چہرے سے پہچانی جا سکتی تھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت اس شخص پر انکار کرتے ہیں جو کسی مومن کو قتل کرتا ہے“ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔