کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: فتح مکہ کا بیان، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے۔
حدیث نمبر: 18273
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَكَانَ يَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَى رَحْلِهِ، فَقُلْتُ: أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا وَأَدْعُوهُمْ إِلَى رَحْلِي؟ فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ فَصُنِعَ، ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعَشِيِّ، فَقُلْتُ: الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ. قَالَ: سَبَقْتَنِي؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَوْتُهُمْ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَلَا أُعْلِمُكُمْ حَدِيثًا مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ؟ ثُمَّ ذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ فَقَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى، وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَتِهِ فَنَظَرَ فَرَآنِي، فَقَالَ: " أَبُو هُرَيْرَةَ " قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: فَنَدَبَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ: " لَا يَأْتِينَا إِلَّا أَنْصَارِيٌّ " فَأَطَافُوا بِهِ، زَادَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ: فَقَالَ: " اهْتِفْ بِالْأَنْصَارِ وَلَا تَأْتِنِي إِلَّا بِأَنْصَارِيٍّ ". قَالَ: فَفَعَلْتُهُ. قَالَ شَيْبَانُ فِي رِوَايَتِهِ: وَأَوْبَشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا وَأَتْبَاعًا فَقَالُوا: نُقَدِّمُ هَؤُلَاءِ فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ كُنَّا مَعَهُمْ، وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ "؟ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ثُمَّ قَالَ: حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا. زَادَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَتِهِ: " احْصُدُوهُمْ حَصْدًا ". قَالَ شَيْبَانُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ: وَانْطَلَقْنَا فَمَا شَاءَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ، وَمَا أَحَدٌ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا. قَالَ: فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ، لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ. قَالَ: " مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ". زَادَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَتِهِ: " مَنْ ⦗١٩٨⦘ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ ".⦗١٩٩⦘ قَالَ شَيْبَانُ فِي رِوَايَتِهِ: فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرَابَتِهِ، وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَجَاءَ الْوَحْيُ وَكَانَ إِذَا جَاءَ لَا يَخْفَى عَلَيْنَا، فَإِذَا جَاءَ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ، فَلَمَّا قُضِيَ الْوَحْيُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ". قَالُوا: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: " قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرَابَتِهِ ". قَالُوا: قَدْ كَانَ ذَاكَ. قَالَ: " كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، هَاجَرْتُ إِلَى اللهِ وَإِلَيْكُمْ، الْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ". فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ يَقُولُونَ: وَاللهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللهِ وَرَسُولِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ ". فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى دَارِ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ، وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ فَأَتَى إِلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ كَانُوا يَعْبُدُونَهُ. قَالَ: وَفِي يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ وَهُوَ آخِذٌ بِسِيَةِ الْقَوْسِ، فَلَمَّا أَتَى عَلَى الصَّنَمِ جَعَلَ يَطْعَنُ فِي عَيْنِهِ وَيَقُولُ: {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} [الإسراء: ٨١]، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَى الصَّفَا فَعَلَا عَلَيْهِ حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ يَحْمَدُ اللهَ وَيَدْعُو بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَذَكَرَ اللَّفْظَةَ الَّتِي زَادَهَا أَبُو دَاوُدَ..
حافظ ثناء اللہ
عبد اللہ بن رباح، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ماہِ رمضان میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس وفد آتے تو ہم ایک دوسرے کے لیے کھانا بنایا کرتے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اکثر ہمیں اپنے گھر دعوت دیا کرتے تھے۔ میں نے کہا: کیا میں کھانا پکوا کر انھیں اپنے گھر میں دعوت نہ دوں؟ میں نے کھانا بنوایا۔ شام کے وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو کہا: رات کے کھانے کی دعوت میرے پاس ہوگی۔ انہوں نے کہا: آپ مجھ سے سبقت لے گئے۔ میں نے کہا: ہاں۔ میں نے ان کو دعوت دی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اے انصاریو! کیا میں تمہاری باتوں میں سے کوئی بات تمہیں نہ سکھاؤں؟“ پھر انہوں نے فتحِ مکہ کا تذکرہ کیا۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ آئے تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو لشکر کی ایک جانب اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دوسری جانب بھیجا اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو حسر پر۔ انہوں نے وادی کے نشیب میں پکڑ لیا اور رسول اللہ ﷺ اپنے قافلہ میں تھے۔ آپ ﷺ نے نظر دوڑائی تو مجھے دیکھا اور فرمایا: ”ابوہریرہ!“ میں نے کہا: «لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ» ”اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔“ آپ ﷺ نے انصار کو دعوت دی اور فرمایا کہ ”میرے پاس صرف انصاری آئیں“ تو انہوں نے آپ ﷺ کو گھیر لیا۔ ابو داؤد نے یہ لفظ زائد بیان کیے ہیں کہ ”انصار کو بلاؤ، صرف انصاری میرے پاس آئیں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ کام کیا۔
شیبان کی روایت میں ہے کہ قریش کے اوباش لوگ تیزی سے ان کے پیچھے چلے اور انہوں نے کہا کہ ہم ان سے آگے بڑھ جائیں گے۔ اگر ان کو کوئی چیز حاصل ہوئی تو ہم بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا کیے گئے تو ہم وہ چیز عطا کر دیں گے جس کا ہم سے سوال کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”تم قریش کے اوباش لوگوں اور ان کے پیچھے چلنے والوں کی طرف دیکھو۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے فرمایا کہ ”تم مجھے صفا پہاڑی پر ملنا۔“
ابو داؤد نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے کہ ”تم ان کو کاٹ ڈالو۔“
شیبان اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ جب ہم چلے تو جس کو چاہتے قتل کر دیتے، کوئی چیز ہمارے سامنے رکاوٹ نہ تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ آئے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قریش کی اصل ختم ہو جائے گی۔ آج کے بعد قریش نہ ہوں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ابو سفیان (رضی اللہ عنہ) کے گھر داخل ہو گیا وہ امن میں ہے۔“
ابو داؤد نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے۔ ”جو اسلحہ ڈال دے وہ بھی حالتِ امن میں ہے۔“
شیبان اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ انصار نے ایک دوسرے سے کہا کہ کسی شخص کو اپنی بستی میں رغبت اور اپنے خاندان کے ساتھ الفت ہو جاتی ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وحی آ گئی۔ جب وحی آتی تو ہم سے پوشیدہ نہ رہتی۔ جب وحی آتی تو کوئی بھی رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنی نظر نہ اٹھاتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہو جائے۔ جب وحی مکمل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے انصاریو!“ انہوں نے کہا: «لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ» ”اے اللہ کے رسول! حاضر ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”تم نے کہا کہ کوئی شخص اپنی بستی میں آئے تو اس کو رغبت ہو ہی جاتی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں! یہ بات ہوئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول «عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ» ہوں۔ میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ میری زندگی اور موت تمہارے ساتھ ہے۔“ وہ آپ ﷺ کی طرف روتے ہوئے متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! جو ہم نے کہا، صرف گمان تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”اللہ اور اس کا رسول ﷺ تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارے عذر کو قبول کرتے ہیں۔“ لوگ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے دروازے بند کر لیے۔ رسول اللہ ﷺ حجرِ اسود کے پاس آئے۔ اس کا استلام کیا۔ بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر بیت اللہ کی ایک طرف بت کے پاس آئے، جس کی وہ عبادت کرتے تھے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں کمان تھی۔ جب آپ ﷺ کسی بت کے پاس آتے تو وہ کمان اس کی آنکھ پر مارتے اور فرماتے: ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [سورة الإسراء: 81] ”حق آگیا اور باطل مٹ گیا کیونکہ باطل کو مٹنا ہی ہوتا ہے۔“ جب آپ ﷺ طواف سے فارغ ہوئے تو صفا پہاڑی کے اوپر چڑھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی نظر بیت اللہ پر پڑی۔ آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد کی اور جو چاہا دعا کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18273
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١٧٧٠»
حدیث نمبر: 18274
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: فَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَأَحَاطُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الصَّفَا فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أُبِيدَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ. فَقَالَ: " مَنْ دَخَلَ دَارَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى سِلَاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ عَنْ حَمَّادٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: " مَنْ دَخَلَ دَارَهُ فَهُوَ آمِنٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن رباح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ انصاری لوگوں نے صفا پہاڑی کے قریب نبی کریم ﷺ کو گھیر لیا۔ ابوسفیان آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! قریش کی نسل ختم ہو جائے گی، آپ کے بعد قریش نہ رہیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے اس کو امن ہے، جو ہتھیار پھینک دے اسے بھی امن ہے اور جو اپنے گھر میں داخل ہو جائے اور دروازہ بند کر لے اس کو بھی امن ہے۔“
(ب) یحییٰ بن حسان حضرت حماد سے یہی نقل فرماتے ہیں، لیکن «مَنْ دَخَلَ دَارَهُ فَهُوَ آمِنٌ» ”جو اپنے گھر میں داخل ہوا اسے امن ہے“ کا قول ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18274
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 18275
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ سَرَّحَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَأَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْخَيْلِ، وَقَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ اهْتِفْ بِالْأَنْصَارِ ". قَالَ: " اسْلُكُوا هَذَا الطَّرِيقَ فَلَا يُشْرِفَنَّ لَكُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَنَمْتُمُوهُ ". فَنَادَى مُنَادٍ: لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ. فَقَالَ ⦗٢٠٠⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دَخَلَ دَارًا فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ ". وَعَمَدَ صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ فَدَخَلُوا الْكَعْبَةَ فَغُصَّ بِهِمْ وَطَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ، ثُمَّ أَخَذَ بِجَنْبَيِ الْبَابِ فَخَرَجُوا فَبَايَعُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، زَادَ فِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ مِسْكِينٍ عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: ثُمَّ أَتَى الْكَعْبَةَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ: " مَا تَقُولُونَ وَمَا تَظُنُّونَ "؟ قَالُوا: نَقُولُ: ابْنُ أَخٍ وَابْنُ عَمٍّ حَلِيمٌ رَحِيمٌ. قَالَ: وَقَالُوا ذَلِكَ ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقُولُ كَمَا قَالَ يُوسُفُ: {لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ} [يوسف: ٩٢]. قَالَ: فَخَرَجُوا كَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن رباح انصاری حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو زبیر بن عوام، ابو عبیدہ بن جراح اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کو لشکر پر روانہ فرمایا اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ! انصار کو آواز دو کہ تم اس راستہ پر چلو۔“
تو اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ آج کے بعد قریش نہ ہوں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے گھر میں داخل ہو گیا اس کو امان ہے۔ جس نے ہتھیار پھینک دیے اس کو بھی امن ہے“ تو قریشی سردار کعبہ میں داخل ہو گئے اور کعبہ ان سے بھر گیا۔ نبی ﷺ نے طواف کیا اور مقامِ ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی۔ پھر آپ ﷺ نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑا تو انہوں نے نکل کر نبی ﷺ کی اسلام پر بیعت کی۔ (ب) قاسم بن سلام بن مسکین اپنے والد سے اسی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کعبہ میں آئے اور دروازے کی چوکھٹ کے دو بازوؤں کو پکڑا اور فرمایا: ”تم کیا کہتے ہو، تمہارا کیا گمان ہے؟“ انہوں نے کہا: ہم کہتے ہیں: بھتیجا اور چچے کا بیٹا بردبار رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات تین مرتبہ کہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں وہی بات کہتا ہوں جو یوسف علیہ السلام نے کہی تھی: ﴿قَالَ لَا تَثْرِیبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ [سورة يوسف: 92] ”فرمايا: تمہارے اوپر کوئی سرزنش نہیں، اللہ تمہیں معاف فرمائے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے“۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ نکلے جیسے قبروں سے اٹھائے گئے ہوں اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18275
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18276
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، فَذَكَرَهُ. وَفِيمَا حَكَى الشَّافِعِيُّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا فِي الْمَسْجِدِ: " مَا تَرَوْنَ أَنِّي صَانِعٌ بِكُمْ؟ " قَالُوا: خَيْرًا، أَخٌ كَرِيمٌ وَابْنُ أَخٍ كَرِيمٍ. قَالَ: " اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا أَطْلَقَهُمْ بِالْأَمَانِ الْأَوَّلِ الَّذِي عَقَدَهُ عَلَى شَرْطِ قَبُولِهِمْ، فَلَمَّا قَبِلُوهُ قَالَ: " أَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ ". يَعْنِي بِالْأَمَانِ الْأَوَّلِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ، ابو یوسف رحمہ اللہ سے اس قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ان سے کہا، جب وہ مسجد میں جمع ہو گئے کہ: ”میں تمہارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں؟“ انہوں نے کہا: بھلائی، معزز بھائی اور معزز بھائی کا بیٹا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ تم سب آزاد ہو۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ان کو پہلی امان کے ساتھ آزاد کر دیا، جو قبولیت کے لیے شرط لگائی تھی، جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تب فرمایا: ”تم آزاد ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18276
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 18277
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ جَاءَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ فَأَسْلَمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ هَذَا الْفَخْرَ، فَلَوْ جَعَلْتَ لَهُ شَيْئًا؟ قَالَ: " نَعَمْ، مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے۔ انہوں نے «مَرُّ الظَّهْرَانِ» نامی جگہ پر اسلام قبول کیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان ایسا آدمی ہے جو فخر کو پسند کرتا ہے، آپ ﷺ اس کو کسی اعزاز سے نوازیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوگیا وہ امن میں ہے اور جس نے اپنا دروازہ بند کرلیا وہ بھی امن میں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18277
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 18278
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ قَالَ الْعَبَّاسُ: قُلْتُ: وَاللهِ لَئِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَنْوَةً قَبْلَ أَنْ يَأْتُوهُ فَيَسْتَأْمِنُوهُ إِنَّهُ لَهَلَاكُ قُرَيْشٍ. فَجَلَسْتُ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: لَعَلِّي أَجِدُ ذَا حَاجَةٍ يَأْتِي أَهْلَ مَكَّةَ فَيُخْبِرُهُمْ بِمَكَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجُوا إِلَيْهِ فَيَسْتَأْمِنُوهُ، وَإِنِّي لَأَسِيرُ سَمِعْتُ كَلَامَ أَبِي سُفْيَانَ وَبُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَنْظَلَةَ، فَعَرَفَ صَوْتِي، قَالَ: أَبُو الْفَضْلِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: مَا لَكَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قُلْتُ: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ. قَالَ: فَمَا الْحِيلَةُ؟ ⦗٢٠١⦘ قَالَ: فَرَكِبَ خَلْفِي وَرَجَعَ صَاحِبُهُ فَلَمْ أُصْبِحْ غَدَوْتُ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ هَذَا الْفَخْرَ فَاجْعَلْ لَهُ شَيْئًا. قَالَ: " نَعَمْ، مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَيْهِ دَارَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ ". قَالَ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ إِلَى دُورِهِمْ وَإِلَى الْمَسْجِدِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مرالظہران پر پڑاؤ کیا تو عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے کہا: اگر رسول اللہ ﷺ مکہ میں ان کے آنے سے پہلے داخل ہوگئے کہ وہ اس کی درخواست کرلیں تو یہ قریشیوں کی ہلاکت ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے خچر پر بیٹھ گیا۔ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے کوئی کام ہے وہ مکہ والوں کے پاس آئے تاکہ انھیں رسول اللہ ﷺ کی جگہ کی خبر دیں کہ وہ آپ ﷺ سے امن کی درخواست کرسکیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے چلتے ہوئے ابوسفیان اور بدیل بن ورقاء کی بات چیت کو سنا۔ میں نے کہا: اے ابوحنظلہ! اس نے میری آواز کو پہچان لیا۔ اس نے کہا: ابوالفضل؟ میں نے کہا: ہاں! اس نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، کیا بات ہے؟ میں نے کہا: یہ اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ اس نے کہا: کیا بہانہ ہے؟ کہتے ہیں: وہ میرے پیچھے سوار ہوئے اور اس کا ساتھی چلا گیا اور میں صبح انھیں لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آگیا تو انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان ایسا شخص ہے جو فخر کو پسند کرتا ہے، آپ اس کے لیے جو مقرر فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ابوسفیان کے گھر داخل ہوگیا اور اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا یا مسجد میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے“۔ راوی کہتے ہیں: لوگ اپنے گھروں اور مسجد میں بکھر گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18278
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 18279
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَبَلَغَ ذَلِكَ قُرَيْشًا خَرَجَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ يَلْتَمِسُونَ الْخَبَرَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلُوا يَسِيرُونَ حَتَّى أَتَوْا مَرَّ الظَّهْرَانِ، فَإِذَا هُمْ بِنِيرَانٍ كَأَنَّهَا نِيرَانُ عَرَفَةَ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: مَا هَذِهِ؟ لَكَأَنَّهَا نِيرَانُ عَرَفَةَ. فَقَالَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ: نِيرَانُ بَنِي عَمْرٍو. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: عَمْرٌو أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ. فَرَآهُمْ نَاسٌ مِنْ حَرَسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكُوهُمْ فَأَخَذُوهُمْ، وَأَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ أَبُو سُفْيَانَ، فَلَمَّا سَارَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ: " احْبِسْ أَبَا سُفْيَانَ عِنْدَ حَطْمِ الْخَيْلِ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ ". فَحَبَسَهُ الْعَبَّاسُ فَجَعَلَتِ الْقَبَائِلُ تَمُرُّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَمُرُّ كَتِيبَةً كَتِيبَةً عَلَى أَبِي سُفْيَانَ، فَمَرَّتْ كَتِيبَةٌ، قَالَ: يَا عَبَّاسُ مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ: هَذِهِ غِفَارُ. قَالَ: مَا لِي وَلِغِفَارَ. ثُمَّ مَرَّتْ جُهَيْنَةُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَرَّتْ سَعْدُ بْنُ هُذَيْمٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَمَرَّتْ سُلَيْمٌ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى أَقْبَلَتْ كَتِيبَةٌ لَمْ يَرَ مِثْلَهَا، قَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ هَؤُلَاءِ الْأَنْصَارُ، عَلَيْهِمْ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَهُ الرَّايَةُ. فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا أَبَا سُفْيَانَ الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ، الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْكَعْبَةُ. فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا عَبَّاسُ حَبَّذَا يَوْمُ الذِّمَارِ. ثُمَّ جَاءَتْ كَتِيبَةٌ وَهِيَ أَقَلُّ الْكَتَائِبِ فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَرَايَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَلَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي سُفْيَانَ قَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ مَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ؟ قَالَ: " مَا قَالَ؟ " قَالَ: قَالَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ: " كَذَبَ سَعْدٌ، وَلَكِنْ هَذَا يَوْمٌ يُعَظِّمُ اللهُ فِيهِ الْكَعْبَةَ، وَيَوْمٌ تُكْسَى فِيهِ الْكَعْبَةُ ". قَالَ: وَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُرْكَزَ رَايَتُهُ بِالْحَجُونِ. قَالَ عُرْوَةُ: فَأَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ يَقُولُ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ هَهُنَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُرْكِزَ الرَّايَةَ. قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ مِنْ كُدَى، وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَدَاءَ، فَقُتِلَ مِنْ خَيْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ يَوْمَئِذٍ رَجُلَانِ، حُبَيْشُ بْنُ الْأَشْعَرِ، وَكُرْزُ بْنُ جَابِرٍ الْفِهْرِيُّ. ⦗٢٠٢⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ فتح (مکہ) کے سال جب رسول اللہ ﷺ (مکہ کی طرف) چلے تو قریش کو (اس کی) خبر ہوگئی۔ ابوسفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء (رضی اللہ عنہم) رسول اللہ ﷺ کے بارے میں خبر کی تلاش میں نکلے، وہ چلتے ہوئے مر الظہران نامی مقام پر پہنچے تو اچانک وہاں (لشکر کی) آگ دیکھی، گویا کہ وہ عرفہ کی آگ ہے۔ ابوسفیان کہنے لگے: ”یہ کیا ہے؟ گویا کہ یہ (عرفہ کی) آگ ہے۔“ تو بدیل نے کہا: ”یہ بنو عمرو کی آگ ہے۔“ ابوسفیان نے کہا: ”بنو عمرو کی تعداد تو اس سے کہیں کم ہے۔“ اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے پہرے داروں نے انہیں دیکھ لیا اور پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے، تو ابوسفیان رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے۔ جب آپ ﷺ (وہاں سے آگے) چلے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”(اے اللہ کے رسول!) ابوسفیان کو پہاڑ کی بلندی پر روک لیجیے تاکہ وہ مسلمانوں (کے لشکر) کو دیکھ سکیں۔“ چنانچہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو روک لیا، تو مختلف قبیلے نبی کریم ﷺ کے سامنے سے گزرنے لگے۔ وہ دستوں کی شکل میں ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرتے تو وہ پوچھتے: ”یہ کون ہیں؟“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے: ”یہ غفار قبیلہ ہے۔“ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے: ”مجھے غفار سے کیا واسطہ؟“ پھر جہینہ کے لوگ گزرے تو انہوں نے پھر اسی طرح کہا، پھر بنو سعد بن ہذیم گزرے تو انہوں نے ویسی ہی بات کہی، پھر بنو سلیم گزرے تو وہی بات کہی۔ پھر ایک بہت بڑا لشکر آیا تو ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ انصار ہیں جن کا جھنڈا سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہے۔“ تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے (ابوسفیان کو دیکھ کر) کہا: ”اے ابوسفیان! آج لڑائی کا دن ہے، آج حرم میں (قتال) حلال کر دیا جائے گا۔“ تو ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے) کہا: ”اے عباس! آج بہادری اور غصہ اتارنے کا دن ہے۔“ پھر ایک چھوٹا دستہ آیا جس میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے اور نبی ﷺ کا جھنڈا سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے عرض کیا: ”کیا آپ کو معلوم ہے جو سعد بن عبادہ نے کہا ہے؟“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس نے کیا کہا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”فلاں فلاں بات۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سعد نے غلط کہا ہے، بلکہ آج وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ کعبہ کی تعظیم بڑھائے گا اور آج کے دن کعبہ کو غلاف پہنایا جائے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جھنڈا (ایک مقام پر) گاڑ دیا جائے، میں اسے (مقامِ) حجون میں دیکھ رہا ہوں۔
(ب) جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے کہ: ”اے ابوعبداللہ! کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو (یہی) حکم دیا ہے کہ جھنڈا یہاں گاڑ دیں؟“
راوی کہتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ ﷺ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو 'کداء' کی جانب سے مکہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور خود نبی کریم ﷺ 'کدیٰ' کی جانب سے داخل ہوئے، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی حبیش بن اشعر اور کرز بن جابر فہری (رضی اللہ عنہما) شہید کر دیے گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18279
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٤٢٨٠»
حدیث نمبر: 18280
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَدِيبُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ " أُمِّنَ النَّاسُ إِلَّا هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةُ فَلَا يُؤَمَّنُونَ فِي حِلٍّ وَلَا حَرَمٍ، ابْنُ خَطَلٍ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ الْمَخْزُومِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ، وَابْنُ نُقَيْذٍ ". فَأَمَّا ابْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأُومِنَ، وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَلَمْ يُقْتَلْ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ قَتَلَهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ لَحًّا قَدْ سَمَّاهُ، وَقَتَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابْنَ نُقَيذٍ وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمَقِيسٍ فَقُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا وَأَفْلَتَتِ الْأُخْرَى وَأَسْلَمَتْ أَبُو جَدِّهِ سَعِيدُ بْنُ يَرْبُوعٍ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَهُ الْقَبَّانِيُّ، وَفِي حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِيمَنْ أَمَرَ بِقَتْلِهِ أُمُّ سَارَّةَ مَوْلَاةٌ لِقُرَيْشٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي الْمَغَازِي سَارَّةُ مَوْلَاةٌ لِبَعْضِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَتْ مِمَّنْ يُؤْذِيهِ بِمَكَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
عثمان بن عبدالرحمن بن سعید مخزومی فرماتے ہیں کہ میرے دادا اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ نے تمام لوگوں کو پناہ دی سوائے چار افراد کے، ”ان کو کسی صورت بھی امن نہ دیا جائے بلکہ قتل کیا جائے گا“: 1۔ ابن خطل، 2۔ مقیس بن ضبابہ، 3۔ عبداللہ بن ابی سرح، 4۔ ابن نقید۔ ابن خطل کو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔ عبداللہ بن ابی سرح کے لیے عثمان رضی اللہ عنہ نے امان حاصل کر لی کیونکہ وہ ان کے رضاعی بھائی تھے اور مقیس بن ضبابہ کو ان کے چچا کے بیٹے لحا نے قتل کیا۔ ابن نقید کو علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا اور مقیس کی دو گانے والیاں بھی تھیں؛ ایک قتل کر دی گئی اور ایک کو چھوڑ دیا گیا وہ مسلمان ہو گئی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جس کے قتل کا حکم دیا وہ ام سارہ قریش کی آزاد کردہ لونڈی تھی۔
ابن اسحاق کی روایت مغازی میں ہے کہ یہ بنو عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی تھی، جو مکہ والوں کو تکلیف دیتی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18280
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18281
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مُوسَى وَحَدِيثُ عُرْوَةَ بِمَعْنَاهُ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَنِي نُفَاثَةَ مِنْ بَنِي الدِّيلِ أَغَارُوا عَلَى بَنِي كَعْبٍ وَهُمْ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ قُرَيْشٍ، وَكَانَ بَنُو كَعْبٍ فِي صُلْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ بَنُو نُفَاثَةَ فِي صُلْحِ قُرَيْشٍ، فَأَعَانَتْ بَنُو بَكْرٍ بَنِي نُفَاثَةَ وَأَعَانَتْهُمْ قُرَيْشٌ بِالسِّلَاحِ وَالرَّقِيقِ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ قَالَ: فَخَرَجَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي كَعْبٍ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ الَّذِي أَصَابَهُمْ وَمَا كَانَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ خُرُوجِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَقِصَّةَ الْعَبَّاسِ وَأَبِي سُفْيَانَ حِينَ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَمَعَهُ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَحَكِيمٌ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ النَّاسَ إِلَى الْأَمَانِ، أَرَأَيْتَ إِنِ اعْتَزَلَتْ قُرَيْشٌ فَكَفَّتْ أَيْدِيَهُمْ آمِنُونَ هُمْ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ، مَنْ كَفَّ يَدَهُ وَأَغْلَقَ دَارَهُ فَهُوَ آمِنٌ ". قَالُوا: فَابْعَثْنَا نُؤَذِّنْ بِذَلِكَ فِيهِمْ. قَالَ: " انْطَلِقُوا فَمَنْ دَخَلَ دَارَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ وَدَارَكَ يَا حَكِيمُ وَكَفَّ يَدَهُ فَهُوَ آمِنٌ ". وَدَارُ أَبِي سُفْيَانَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، وَدَارُ حَكِيمٍ بِأَسْفَلِ مَكَّةَ، فَلَمَّا ⦗٢٠٣⦘ تَوَجَّهَا ذَاهِبَيْنِ قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَا آمَنُ أَبَا سُفْيَانَ أَنْ يَرْجِعَ عَنْ إِسْلَامِهِ. قَالَ: " رُدَّهُ حَتَّى يَقِفَ وَيَرَى جُنُودَ اللهِ مَعَكَ ". فَأَدْرَكَهُ عَبَّاسٌ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَغَدْرًا يَا بَنِي هَاشِمٍ؟ فَقَالَ الْعَبَّاسُ: سَتَعْلَمُ أَنَّا لَسْنَا بِغُدُرٍ وَلَكِنْ لِي إِلَيْكَ حَاجَةٌ فَأَصْبِحْ حَتَّى تَنْظُرَ جُنُودَ اللهِ. ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ إِيقَافِ أَبِي سُفْيَانَ حَتَّى مَرَّتْ بِهِ الْجُنُودُ، قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمُهَاجِرِينَ وَخَيْلِهِمْ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ كَدَاءَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ، وَأَعْطَاهُ رَايَتَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْرِزَهَا بِالْحَجُونِ وَلَا يَبْرَحَ حَيْثُ أَمَرَهُ يَغْرِزُهَا حَتَّى يَأْتِيَهُ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فِيمَنْ كَانَ أَسْلَمَ مِنْ قُضَاعَةَ وَبَنِي سُلَيْمٍ وَنَاسًا أَسْلَمُوا قَبْلَ ذَلِكَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْرِزَ رَايَتَهُ عِنْدَ أَدْنَى الْبُيُوتِ بِأَسْفَلِ مَكَّةَ، وَبِأَسْفَلِ مَكَّةَ بَنُو بَكْرٍ وَبَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةٍ وَهُذَيْلٌ وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنَ الْأَحَابِيشِ قَدِ اسْتَنْصَرَتْ بِهِمْ قُرَيْشٌ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَكُونُوا بِأَسْفَلِ مَكَّةَ، وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي كَتِيبَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي مُقَدِّمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا أَيْدِيَهُمْ فَلَا يُقَاتِلُوا أَحَدًا إِلَّا مَنْ قَاتَلَهُمْ، وَأَمَرَ بِقَتْلِ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ مِنْهُمْ، عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، وَالْحَارِثِ بْنِ نُقَيْذٍ، وَابْنِ خَطَلٍ، وَمَقِيسِ بْنِ صُبَابَةَ، وَأَمَرَ بِقَتْلِ قَيْنَتَيْنِ لِابْنِ خَطَلٍ كَانَتَا تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّتِ الْكَتَائِبُ تَتْلُو بَعْضُهَا بَعْضًا عَلَى أَبِي سُفْيَانَ وَحَكِيمٍ وَبُدَيْلٍ، لَا يَمُرُّ عَلَيْهِمْ كَتِيبَةٌ إِلَّا سَأَلُوا عَنْهَا، حَتَّى مَرَّتْ عَلَيْهِمْ كَتِيبَةُ الْأَنْصَارِ فِيهَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَنَادَى سَعْدٌ أَبَا سُفْيَانَ: الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْحُرْمَةُ. فَلَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي سُفْيَانَ فِي الْمُهَاجِرِينَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَرْتَ بِقَوْمِكَ أَنْ يُقَتَّلُوا، فَإِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ وَمَنْ مَعَهُ حِينَ مَرُّوا بِي نَادَانِي سَعْدٌ فَقَالَ: الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ، الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْحُرْمَةُ، وَإِنِّي أُنَاشِدُكَ اللهَ فِي قَوْمِكَ. فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَعَزَلَهُ، وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ مَكَانَهُ عَلَى الْأَنْصَارِ مَعَ الْمُهَاجِرِينَ، فَسَارَ الزُّبَيْرُ بِالنَّاسِ حَتَّى وَقَفَ بِالْحَجُونِ وَغَرَزَ بِهَا رَايَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْدَفَعَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَتَّى دَخَلَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ، فَلَقِيَهُ بَنُو بَكْرٍ فَقَاتَلُوهُ فَهُزِمُوا وَقُتِلَ مِنْ بَنِي بَكْرٍ قَرِيبٌ مِنْ عِشْرِينَ رَجُلًا، وَمِنْ هُذَيْلٍ ثَلَاثَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ وَانْهَزَمُوا، وَقُتِلُوا بِالْحَزْوَرَةِ حَتَّى بَلَغَ قَتْلُهُمْ بَابَ الْمَسْجِدِ، وَفَرَّ فَضَضُهُمْ حَتَّى دَخَلُوا الدُّورَ، وَارْتَقَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ عَلَى الْجِبَالِ وَاتَّبَعَهُمُ الْمُسْلِمُونَ بِالسُّيُوفِ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، وَصَاحَ أَبُو سُفْيَانَ حِينَ دَخَلَ مَكَّةَ: مَنْ أَغْلَقَ دَارَهُ وَكَفَّ يَدَهُ فَهُوَ آمِنٌ. فَقَالَتْ لَهُ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ وَهِيَ امْرَأَتَهُ: قَبَّحَكَ اللهُ مِنْ طَلِيعَةِ قَوْمٍ وَقَبَّحَ عَشِيرَتَكَ مَعَكَ. وَأَخَذَتْ بِلِحْيَةِ أَبِي سُفْيَانَ وَنَادَتْ: يَا آلَ غَالِبٍ، اقْتُلُوا الشَّيْخَ الْأَحْمَقَ، هَلَّا قَاتَلْتُمْ وَدَفَعْتُمْ عَنْ أَنْفُسِكُمْ وَبِلَادِكُمْ؟ فَقَالَ لَهَا أَبُو سُفْيَانُ: وَيْحَكِ اسْكُتِي وَادْخُلِي بَيْتَكِ فَإِنَّهُ جَاءَنَا بِالْحَقِّ. وَلَمَّا عَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَنِيَّةَ كَدَاءَ نَظَرَ إِلَى الْبَارِقَةِ عَلَى الْجَبَلِ مَعَ فَضَضِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: " مَا هَذَا⦗٢٠٤⦘ وَقَدْ نَهَيْتُ عَنِ الْقِتَالِ "؟ فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: نَظُنُّ أَنَّ خَالِدًا قُوتِلَ وَبُدِئَ بِالْقِتَالِ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنْ أَنْ يُقَاتِلَ مَنْ قَاتَلَهُ، وَمَا كَانَ يَا رَسُولَ اللهِ لِيَعْصِيَكَ وَلَا لِيُخَالِفَ أَمْرَكَ. فَهَبَطَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الثَّنِيَّةِ فَأَجَازَ عَلَى الْحَجُونِ، وَانْدَفَعَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى وَقَفَ بِبَابِ الْكَعْبَةِ وَذَكَرَ الْقِصَّةَ، قَالَ فِيهَا: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: " لِمَ قَاتَلْتَ وَقَدْ نَهَيْتُكَ عَنِ الْقِتَالِ؟ " فَقَالَ: هُمْ بَدَؤُونَا بِالْقِتَالِ وَوَضَعُوا فِينَا السِّلَاحَ وَأَشْعَرُونَا بِالنَّبْلِ، وَقَدْ كَفَفْتُ يَدِي مَا اسْتَطَعْتُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَضَاءُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے نقل فرماتے ہیں، یہ لفظ موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور عروہ کی حدیث اس کے ہم معنی ہے۔ فرماتے ہیں کہ بنو نفاثہ بنو دیل سے ہیں، انہوں نے بنو کعب پر حملہ کر دیا۔ یہ وہ مدت ہے جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان جنگ بندی تھی اور بنو کعب صلح میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شامل تھے اور بنو نفاثہ قریش کے حامی تھے۔ تو بنو بکر والوں نے بنو نفاثہ کی اسلحہ اور غلاموں سے مدد کی۔ انہوں نے قصہ ذکر کیا ہے۔
کہتے ہیں: بنو کعب کا ایک سوار رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اپنا قصہ رسول اللہ ﷺ کو سنایا اور قریش کا ان کے خلاف مدد کرنا ذکر کیا۔ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا مکہ کی طرف آنے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو مر الظہران میں نبی ﷺ کے پاس لانے اور ان کے ساتھ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ اور بدیل بن ورقاء کو لانے کا تذکرہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوسفیان اور سیدنا حکیم رضی اللہ عنہما نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو امان کی طرف دعوت دیں، آپ کا کیا خیال ہے کہ قریش الگ ہو جائیں، لڑائی سے باز رہیں، کیا وہ امان میں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو لڑائی سے باز رہا، اپنے گھر کا دروازہ بند کر لیا، اس کو امن ہے۔“ انہوں نے کہا: ہمیں بھیج دیں تاکہ ہم ان میں اعلان کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، جو ابوسفیان اور حکیم کے گھر میں بھی داخل ہو گیا اور لڑائی سے باز رہا اس کو بھی امن ہے۔“ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا گھر مکہ کی بالائی جانب تھا جبکہ سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ کا گھر نچلی سطح پر تھا۔ جب وہ دونوں جانے لگے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ابوسفیان پر مطمئن نہیں کہ وہ اسلام سے نہ پلٹ جائے، آپ اس کو واپس کریں، وہ ہمارے پاس ٹھہرے اور آپ کے ساتھ لشکروں کو دیکھ لے۔ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں روک لیا۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بنو ہاشم! کیا عذر ہے؟ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ جان لیں گے ہم دھوکا باز نہیں، لیکن مجھے آپ سے کام ہے، آپ صبح کریں اور اللہ کے لشکروں کا مشاہدہ کریں۔ پھر اس نے ابوسفیان کو روکنے کا قصہ ذکر کیا یہاں تک کہ لشکر گزرے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو مہاجرین اور اپنے لشکر پر مقرر فرمایا، انہیں حکم فرمایا کہ وہ کداء کی جانب سے مکہ کی اوپر کی جانب سے داخل ہوں۔ آپ ﷺ نے اپنا جھنڈا دیا اور فرمایا: ”حجون نامی جگہ پر گاڑ دینا۔“ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اس جگہ رہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آئے اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ بنو قضاعہ، بنو سلیم اور جو ان سے پہلے مسلمان ہوئے تھے کو روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ مکہ کی نچلی جانب سے داخل ہونا اور جھنڈے کو نچلی سطح کے قریبی گھروں کے پاس لگانے کا حکم دیا اور یہاں بنو بکر، بنو حارث بن عبد مناف، ہذیل اور کچھ دوسرے قبائل تھے۔ قریش نے ان سے مدد طلب کی اور مکہ کی نچلی جانب آنے کا کہا اور رسول اللہ ﷺ نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو انصاری لشکر اور اپنے ابتدائی حصہ پر مقرر فرمایا تھا اور حکم دیا کہ صرف اس سے لڑائی کرنا جو لڑنے کے لیے آئے اور چار افراد کے قتل کا حکم دیا: 1۔ عبداللہ بن سعد بن سرح، 2۔ حارث بن نقید، 3۔ ابن خطل، 4۔ مقیس بن صبابہ، اور ابن خطل کی دو گانے والی لونڈیوں کے قتل کا حکم دیا جو رسول اللہ ﷺ کی مذمت کرتی تھیں۔ مختلف لشکر سیدنا ابوسفیان، بدیل اور سیدنا حکیم رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرتے تو وہ ان کے بارے میں سوال کرتے یہاں تک کہ انصاری لشکر جس کے امیر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے، تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو آواز دی: آج لڑائی کا دن ہے، آج تو حرم میں بھی لڑائی جائز ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ مہاجرین کے ساتھ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ وہ قتل کریں؟ کیونکہ سعد بن عبادہ اپنے لوگوں کے ساتھ میرے پاس سے گزرے تو آواز دے کر کہنے لگے کہ آج قتل کا دن ہے آج حرم میں بھی لڑائی جائز ہے اور میں آپ ﷺ کو اپنی قوم کے بارے میں خدا کا واسطہ دیتا ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے انصار و مہاجرین کا امیر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو مقرر کر دیا اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے حجون نامی جگہ پر جا کر رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا لگایا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مکہ کی نچلی جانب سے داخل ہوئے تو بنو بکر نے ان سے لڑائی کی، وہ شکست کھا گئے۔ بنو بکر کے بیس افراد، ہذیل کے تین یا چار افراد مارے گئے۔ انہیں شکست ہوئی اور ان کی لڑائی مسجد کے دروازے تک جاری رہی اور ان کے بکھرے ہوئے افراد بھاگ گئے اور گھروں میں داخل ہو گئے اور ایک گروہ پہاڑ پر چڑھ گیا، جن کا مسلمانوں نے تلواروں کے ذریعے پیچھا کیا اور رسول اللہ ﷺ پہلے مہاجرین اور دوسرے لوگوں کے ساتھ داخل ہوئے اور سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے مکہ میں داخل ہوتے وقت کہا: جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا، لڑائی سے باز رہا وہ امن میں ہے، تو اس کی بیوی ہندہ بنت عقبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ قوم کے سردار کا برا کرے اور ساتھ ہی اس کے کنبے کا، اور ابوسفیان کی داڑھی پکڑ کر اونچی آواز دی: اے آل غالب! اس احمق بوڑھے کو قتل کر دو، کیا تم نے لڑائی اور دفاع کیا اپنی جانوں اور شہروں سے؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: افسوس ہے تجھ پر، خاموش ہو جا اور گھر میں داخل ہو جا، وہ تو ایسی مخلوق لے کر آئے ہیں (جس کا تم مقابلہ نہیں کر سکتے) اور جب رسول اللہ ﷺ ثنیہ کے راستہ پر آئے تو آپ ﷺ نے اسلحہ کی چمک پہاڑ پر دیکھی، مشرکین کے بکھرے ہوئے افراد سے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا میں نے لڑائی سے منع نہ کیا تھا؟“ تو مہاجرین نے کہا: ہمارا گمان ہے کہ خالد بن ولید قتال میں مصروف ہیں، کیونکہ لگتا ہے ان کو قتال پر مجبور کیا گیا، وگرنہ وہ آپ ﷺ کے حکم کی نافرمانی اور مخالفت نہ کرتے۔ رسول اللہ ﷺ ثنیہ سے اترے تو حجون مقام پر ٹھہرے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے قصہ ذکر کیا ہے۔ اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم نے لڑائی کیوں کی جبکہ میں نے تجھے منع کیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا کہ لڑائی کی ابتدا انہوں نے کی، اسلحہ کا استعمال شروع کیا اور ہمیں تیر مارے، میں نے حتی الوسع لڑائی سے گریز کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا فیصلہ بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18281
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18282
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا هَلْ غَنِمُوا يَوْمَ الْفَتْحِ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن عقیل بن معقل اپنے والد سے اور وہب سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”کیا فتح مکہ کے دن غنیمت بھی حاصل ہوئی؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18282
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 18283
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ أَبِي قُحَافَةَ وَابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ كَانَتْ تَقُودُهُ يَوْمَ الْفَتْحِ، حَتَّى إِذَا هَبَطَتْ بِهِ إِلَى الْأَبْطَحِ لَقِيَتْهَا الْخَيْلُ وَفِي عُنُقِهَا طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ، فَاقْتَطَعَهُ إِنْسَانٌ مِنْ عُنُقِهَا، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى جَاءَ بِأَبِيهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِهِ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ وَالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي. فَوَاللهِ مَا أَجَابَهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ فَمَا أَجَابَهُ أَحَدٌ فَقَالَ: يَا أُخَيَّةُ احْتَسِبِي طَوْقَكِ فَوَاللهِ إِنَّ الْأَمَانَةَ الْيَوْمَ فِي النَّاسِ لَقَلِيلٌ. وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُمْ لَمْ يَغْنَمُوا شَيْئًا، وَأَنَّهَا فُتِحَتْ صُلْحًا إِذْ لَوْ فُتِحَتْ عَنْوَةً لَكَانَتْ وَمَا مَعَهَا غَنِيمَةً، وَلَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَطْلُبُ طَوْقَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما اپنے والد ابوقحافہ اور ان کی چھوٹی بیٹی کے بارے میں فرماتی ہیں کہ وہ فتح کے دن اونٹ چلا رہی تھی۔ جب وہ ابطح سے نیچے اتری تو اسے ایک شہسوار ملا، اس کے گلے میں چاندی کا ہار تھا۔ کسی انسان نے اس کی گردن سے اسے کاٹ لیا۔ جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کو لے کر آئے۔ ان کے اسلام کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمانے لگے: ”میں انہیں اللہ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں، یہ ہار میری بہن کا ہے۔“ اللہ کی قسم! کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر انہوں نے دوسری مرتبہ کہا، تب بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر فرمایا: ”اے بہن! صبر کرو، اللہ کی قسم! آج لوگوں میں امانت داری کم ہے۔“ یہ دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے غنیمت حاصل نہ کی، بلکہ صلح کی فتح تھی۔ اگر زبردستی فتح ہوئی تو غنیمت بھی ہوتی، ان کے پاس غنیمت کا مال نہ تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہار کا مطالبہ نہ کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18283
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 18284
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ؟ ". وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ وَلَمْ يَرِثْهُ عَلِيٌّ وَلَا جَعْفَرٌ شَيْئًا؛ لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اپنے مکہ کے گھر میں رہیں گے؟ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑے ہیں؟“ کیونکہ عقیل ابو طالب کا وارث تھا، علی اور جعفر رضی اللہ عنہما ان کے وارث نہیں تھے کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے، عقیل اور طالب دونوں کافر تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18284
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»