کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حربی کافر جو امان لے کر آئے اور دار الحرب میں اس کا مال موجود ہو، پھر وہ اسلام لے آئے یا دار الحرب میں ہی اسلام لے آئے (تو اس کے مال کا حکم)۔
حدیث نمبر: 18262
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَسْلَمَ ابْنَا سَعْيَةَ الْقُرَظِيَّانِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَاصِرٌ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَأَحْرَزَ لَهُمَا إِسْلَامُهُمَا أَنْفُسَهُمَا وَأَمْوَالَهُمَا مِنَ النَّخْلِ وَالْأَرْضِ وَغَيْرِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”سعیہ قرظی کے دونوں بیٹے اس وقت اسلام لائے جب رسول اللہ ﷺ بنو قریظہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، تو ان کے اسلام نے ان کی جانوں اور ان کے مالوں، یعنی کھجور کے باغات، زمین اور دیگر چیزوں کو محفوظ کر دیا۔“
حدیث نمبر: 18262
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ، حَارَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے نبی ﷺ سے جنگ کی تو نبی ﷺ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا، جبکہ بنو قریظہ کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا، لیکن بعد میں بنو قریظہ نے آپ ﷺ سے لڑائی کی۔ آپ ﷺ نے ان کے مردوں کو قتل کیا اور ان کی عورتوں، مال اور اولاد کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ لیکن جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل گئے آپ ﷺ نے ان کو پناہ بھی دی تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
حدیث نمبر: 18263
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْظَةَ أَنَّهُ قَالَ: هَلْ تَدْرِي عَمَّ كَانَ إِسْلَامُ ثَعْلَبَةَ وَأُسَيْدٍ ابْنَيْ سَعْيَةَ، وَأَسَدِ بْنِ عُبَيْدٍ نَفَرٌ مِنْ هُدَلَ لَمْ يَكُونُوا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ وَلَا نَضِيرٍ كَانُوا فَوْقَ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ: لَا. قَالَ: فَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الشَّامِ مِنْ يَهُودَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْهَيْبَانِ فَأَقَامَ عِنْدَنَا، وَاللهِ مَا رَأَيْنَا رَجُلًا قَطُّ لَا يُصَلِّي الْخَمْسَ خَيْرًا مِنْهُ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا قَبْلَ مَبْعَثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَنَتَيْنِ، فَكُنَّا إِذَا قَحَطْنَا وَقَلَّ عَلَيْنَا الْمَطَرُ نَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ الْهَيْبَانِ اخْرُجْ فَاسْتَسْقِ لَنَا، فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ حَتَّى تُقَدِّمُوا أَمَامَ مَخْرَجِكُمْ صَدَقَةً، فَنَقُولُ: كَمْ نُقَدِّمُ؟ فَيَقُولُ: صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ مُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى ظَاهِرَةِ حَرَّتِنَا وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَسْتَسْقِي، فَوَاللهِ مَا يَقُومُ مِنْ مَجْلِسِهِ حَتَّى تُمَرَّ الشِّعَابُ، قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ لَا مَرَّتَيْنِ وَلَا ثَلَاثَةً، فَحَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ مَا تَرَوْنَهُ أَخْرَجَنِي مِنْ أَرْضِ الْخَمْرِ وَالْخَمِيرِ إِلَى أَرْضِ الْبُؤْسِ وَالْجُوعِ؟ فَقُلْنَا: أَنْتَ أَعْلَمُ، فَقَالَ: إِنَّهُ إِنَّمَا أَخْرَجَنِي أَتَوَقَّعُ خُرُوجَ نَبِيٍّ قَدْ أَظَلَّ زَمَانُهُ، هَذِهِ الْبِلَادُ مُهَاجَرُهُ، فَأَتَّبِعُهُ فَلَا تُسْبَقُنَّ إِلَيْهِ إِذَا خَرَجَ يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، فَإِنَّهُ يَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَيَسْبِي الذَّرَارِيَّ وَالنِّسَاءَ مِمَّنْ خَالَفَهُ، فَلَا يَمْنَعْكُمْ ذَلِكَ مِنْهُ. ثُمَّ مَاتَ، فَلَمَّا كَانَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ الَّتِي افْتُتِحَتْ فِيهَا قُرَيْظَةُ قَالَ أُولَئِكَ الْفِتْيَةُ الثَّلَاثَةُ، وَكَانُوا شُبَّانًا أَحْدَاثًا: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ لَلَّذِي كَانَ ذَكَرَ لَكُمُ ابْنُ الْهَيبَانِ. قَالُوا: مَا هُوَ؟ قَالُوا: بَلَى وَاللهِ لَهُوَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، إِنَّهُ وَاللهِ لَهُوَ لِصِفَتِهِ. ثُمَّ نَزَلُوا فَأَسْلَمُوا وَخَلَّوْا أَمْوَالَهَمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَهَالِيَهُمْ. قَالَ: وَكَانَتْ أَمْوَالُهُمْ فِي الْحِصْنِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ، فَلَمَّا فُتِحَ رُدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن عمر بن قتادہ بنو قریظہ کے ایک شیخ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ ثعلبہ اور اسید رضی اللہ عنہما جو سعید کے بیٹے تھے اور اسد بن عبید رضی اللہ عنہ جو بنو ہزل سے تھا، بنو نضیر اور بنو قریظہ سے نہ تھا بلکہ ان کے اعلیٰ لوگوں میں سے تھا، انہوں نے اسلام قبول کر لیا؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے فرمایا: بلکہ ہمارے پاس شام سے یہود کا ایک شخص آیا، اسے ابن ہیبان کہا جاتا تھا۔ اس نے ہمارے پاس قیام کیا۔ اللہ کی قسم! ہم نے اس جیسا شخص کوئی نہیں دیکھا۔ اس سے بہتر پانچ نمازیں کوئی نہ پڑھتا تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے دو سال پہلے آیا، جب قحط سالی یا بارش کم ہوئی۔ ہم کہتے: اے ابن ہیبان! چلو ہمارے لیے بارش کی دعا کرو۔ وہ کہتا کہ نہیں، پہلے صدقہ کرو پھر دعا کے لیے چلتے ہیں۔ ہم پوچھتے کتنا صدقہ کریں؟ وہ کہتا کہ ایک صاع کھجور یا دو مد جو۔ پھر وہ پتھریلی زمین کی طرف نکلتا ہے، ہم بھی ساتھ ہوتے اور وہ بارش کی دعا کرتا۔ اللہ کی قسم! ہم اپنی جگہ سے نہ ہٹتے کہ بادل آ جاتے۔ یہ کام اس نے کئی مرتبہ کیا۔ اس کی موت کا وقت آ گیا تو ہم اس کے پاس جمع ہو گئے۔ اس نے کہا: اے یہود کا گروہ! تمہارا اس کے بارے میں کیا خیال ہے کہ ایک نبی آئے گا جس کی حکومت ان شہروں تک اور یہ اس کی ہجرت گاہ بھی ہے؟ میں اس کی پیروی کروں گا جب اس کا ظہور ہو اور تم اس کے مدمقابل نہ آنا، کیونکہ وہ اپنے مخالفوں کا خون بہائے گا، بچوں اور عورتوں کو قیدی بنائے گا تو اس کے ماننے سے کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے۔ پھر وہ فوت ہو گیا۔ جس رات بنو قریظہ مغلوب کر دیے گئے، اس وقت یہ تینوں جوان تھے۔ انہوں نے کہا: اے یہود کا گروہ! ابن ہیبان نے تمہیں کچھ کہا تھا؟ انہوں نے کہا: وہ کیا؟ انہوں نے کہا: یہ وہی ہے، یہی صفات اس نے بیان کی تھیں۔ آپ ﷺ نے ان کے مال، اولاد اور گھر والے دے دیے۔ ان کے مال قلعہ میں مشرکین کے پاس تھے، جب فتح ہوئی تو ان کو واپس کر دیے۔
حدیث نمبر: 18264
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبُو حَفْصٍ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا أَبَانُ، قَالَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ صَخْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا ثَقِيفًا ⦗١٩٣⦘ فَلَمَّا أَنْ سَمِعَ ذَلِكَ صَخْرٌ رَكِبَ فِي خَيْلٍ يَمُدُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْصَرَفَ وَلَمْ يَفْتَحْ، فَجَعَلَ صَخْرٌ حِينَئِذٍ عَهْدَ اللهِ وَذِمَّتَهُ أَنْ لَا يُفَارِقَ هَذَا الْقَصْرَ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُفَارِقْهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ صَخْرٌ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ ثَقِيفًا قَدْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا مُقْبِلٌ إِلَيْهِمْ وَهُمْ فِي خَيْلٍ. فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً فَدَعَا لِأَحْمَسَ عَشْرَ دَعَوَاتٍ: " اللهُمَّ بَارِكْ لِأَحْمَسَ فِي خَيْلِهَا وَرِجَالِهَا ". وَأَتَاهُ الْقَوْمُ فَتَكَلَّمَ الْمُغِيرَةُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ صَخْرًا أَخَذَ عَمَّتِي وَدَخَلَتْ فِيمَا دَخَلَ فِيهِ الْمُسْلِمُونَ. فَدَعَاهُ فَقَالَ: " يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ فَادْفَعْ إِلَى الْمُغِيرَةِ عَمَّتَهُ ". فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، وَسَأَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لِبَنِي سُلَيْمٍ قَدْ هَرَبُوا عَنِ الْإِسْلَامِ وَتَرَكُوا ذَاكَ الْمَاءَ؟ " فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَنْزِلْنِيهِ أَنَا وَقَوْمِي. قَالَ: " نَعَمْ ". فَأَنْزَلَهُ وَأَسْلَمَ يَعْنِي السُّلَمِيِّينَ، فَأَتَوْا صَخْرًا فَسَأَلُوهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِمُ الْمَاءَ فَأَبَى، فَأَتَوْا نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ أَسْلَمْنَا وَأَتَيْنَا صَخْرًا لِيَدْفَعَ إِلَيْنَا مَاءَنَا فَأَبَى عَلَيْنَا، فَدَعَاهُ فَقَالَ: " يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ فَادْفَعْ إِلَى الْقَوْمِ مَاءَهُمْ ". قَالَ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللهِ. فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ عِنْدَ ذَلِكَ حُمْرَةً؛ حَيَاءً مِنْ أَخْذِهِ الْجَارِيَةَ وَأَخْذِهِ الْمَاءَ قَالَ الشَّيْخُ: وَالِاسْتِدْلَالُ وَقَعَ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ ". فَأَمَّا اسْتِرْدَادُ الْمَاءِ عَنْ صَخْرٍ بَعْدَ مَا مَلَكَهُ بِتَمْلِيكِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ فَإِنَّهُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ بِاسْتِطَابَةِ نَفْسِهِ، وَلِذَلِكَ كَانَ يَظْهَرُ فِي وَجْهِهِ أَثَرُ الْحَيَاءِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَأَمَّا عَمَّةُ الْمُغِيرَةِ، فَإِنْ كَانَتْ أَسْلَمَتْ بَعْدَ الْأَخْذِ فَكَأَنَّهُ رَأَى إِسْلَامَهَا قَبْلَ الْقِسْمَةِ يُحْرِزُ مَالَهَا، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِسْلَامُهَا قَبْلَ الْأَخْذِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَصَخْرٌ هَذَا هُوَ ابْنُ الْعَيْلَةِ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ أَبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَيْلَةِ لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ. وَرُوِيَ فِي قِصَّةِ رِعْيَةَ السُّحَيْمِيِّ مَا دَلَّ عَلَيْهِ ظَاهِرُ قِصَّةِ عَمَّةِ الْمُغِيرَةِ، فَإِنَّهُ أَسْلَمَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَهْلِي وَمَالِي. قَالَ: " أَمَّا مَالُكَ فَقَدْ قُسِمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا أَهْلُكَ فَانْظُرْ مَنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ مِنْهُمْ ". قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ ابْنَهُ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ أَهْلِ الْغَنِيمَةِ كَمَا فَعَلَ فِي سَبْيِ هَوَازِنَ وَعَوَّضَ أَهْلَ الْخُمُسِ مِنْ نَصِيبِهِمْ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَإِسْنَادُ الْحَدِيثَيْنِ غَيْرُ قَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
عثمان بن ابی حازم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا صخر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو ثقیف کے خلاف غزوہ کیا، صخر رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو وہ نبی ﷺ کی مدد کے لیے اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، انہوں نے دیکھا کہ نبی ﷺ (فتح کے بغیر) واپس ہو گئے ہیں تو صخر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وہ اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے حکم پر نہ اتر آئیں“۔ بالآخر وہ نبی ﷺ کے حکم پر اتر پڑے تو صخر رضی اللہ عنہ نے (آپ ﷺ کو) لکھا: ”حمد و ثنا کے بعد! اے اللہ کے رسول! وہ آپ کے حکم پر اتر پڑے ہیں اور آپ کے پاس ایک قافلے کی صورت میں آ رہے ہیں“۔ آپ ﷺ نے پکارنے کا حکم دیا: «الصَّلَاةَ جَامِعَةً» ”نماز جمع کرنے والی ہے (یعنی سب جمع ہو جائیں)“، پھر آپ ﷺ نے اہل احمس کے لیے دس دعائیں فرمائیں: ”اے اللہ! اہل احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت عطا فرما“۔ جب لوگ آئے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! صخر رضی اللہ عنہ نے میری پھوپھی کو قید کر لیا ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ مسلمان ہو گئی ہے۔ آپ ﷺ نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے صخر! جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں، لہٰذا مغیرہ کو ان کی پھوپھی واپس کر دو“۔ صخر رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس کر دیا اور بنو سلیم کے ان چشموں کے متعلق سوال کیا جن کے مالک اسلام سے بھاگ گئے تھے اور پانی چھوڑ گئے تھے کہ آپ ﷺ وہ مجھے اور میری قوم کو عطا فرما دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“۔ وہ وہاں چلے گئے تو پھر بنو سلیم والے مسلمان ہو کر آ گئے، انہوں نے صخر رضی اللہ عنہ سے اپنے پانی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا، وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے اور ہم نے صخر سے مطالبہ کیا کہ وہ ہمارے پانی واپس کر دیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا ہے۔ آپ ﷺ نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے صخر! جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں، لہٰذا آپ ان کے پانی واپس کر دیں“۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ٹھیک ہے۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ وہ حیا کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا کیونکہ آپ ﷺ نے ان سے لونڈی اور پانی دونوں واپس لیے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: اس قول سے استدلال کیا گیا ہے کہ ”جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں“، صخر رضی اللہ عنہ سے پانی واپس لینا بھی اسی کے مشابہ ہے کہ وہ اپنے دل کی خوشی سے واپس کریں، یہی وجہ تھی کہ حیا کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا تھا، اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی نے قید ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا لیکن تقسیم سے پہلے وہ اپنے مال کی مالک بن گئی تھی، اور یہ بھی احتمال ہے کہ پکڑے جانے سے پہلے ہی اس نے اسلام قبول کر لیا ہو۔ رعیہ حیمی کا قصہ بھی اسی طرح ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے اہل و عیال اور میرا مال؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا مال تو مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے، البتہ اپنے اہل کو دیکھ لو جن پر تمہیں قدرت حاصل ہو سکے“، چنانچہ ان کا بیٹا انہیں واپس کر دیا گیا، یہ بھی ممکن ہے کہ غنیمت پانے والوں نے اپنی خوشی سے اسے واپس کیا ہو۔
شیخ فرماتے ہیں: اس قول سے استدلال کیا گیا ہے کہ ”جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں“، صخر رضی اللہ عنہ سے پانی واپس لینا بھی اسی کے مشابہ ہے کہ وہ اپنے دل کی خوشی سے واپس کریں، یہی وجہ تھی کہ حیا کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا تھا، اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی نے قید ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا لیکن تقسیم سے پہلے وہ اپنے مال کی مالک بن گئی تھی، اور یہ بھی احتمال ہے کہ پکڑے جانے سے پہلے ہی اس نے اسلام قبول کر لیا ہو۔ رعیہ حیمی کا قصہ بھی اسی طرح ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے اہل و عیال اور میرا مال؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا مال تو مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے، البتہ اپنے اہل کو دیکھ لو جن پر تمہیں قدرت حاصل ہو سکے“، چنانچہ ان کا بیٹا انہیں واپس کر دیا گیا، یہ بھی ممکن ہے کہ غنیمت پانے والوں نے اپنی خوشی سے اسے واپس کیا ہو۔