کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کفار میں سے جو جنگ نہ کرے اسے قتل کرنا بھی جائز ہے، اگرچہ اس کے علاوہ (جنگجوؤں کے خلاف) مشغول ہونا زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 18161
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو هُوَ ابْنُ حَمْدَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشِ أَوْطَاسٍ، فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ فَقُتِلَ دُرَيْدٌ وَهَزَمَ اللهُ أَصْحَابَهُ "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: عَنْ أَبِي مُوسَى، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي بَيْتٍ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ، وَعِنْدَهُ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرِ بِظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَنْبِهِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِي وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَرَّادٍ، وَأَخْرَجَاهُ جَمِيعًا عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبردہ بن ابی موسیٰ اپنے والد (سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابو عامر رضی اللہ عنہ کو لشکرِ اوطاس پر روانہ کر دیا، وہ درید بن صمہ سے جا ملے جو قتل ہو چکا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دے دی تھی، اس نے حدیث ذکر کی ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نبی ﷺ کے پاس واپس آیا تو آپ ﷺ گھر میں باریک بُنی ہوئی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کے نشانات آپ ﷺ کی کمر مبارک اور پہلوؤں پر تھے، تو میں نے اپنی اور سیدنا ابو عامر رضی اللہ عنہ کی خبر آپ ﷺ کو دی۔
حدیث نمبر: 18162
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، فِي قِصَّةِ أَوْطَاسٍ، قَالَ: فَأَدْرَكَ رَبِيعَةُ بْنُ رُفَيْعٍ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ فَأَخَذَ بِخِطَامِ جَمَلِهِ وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهُ امْرَأَةٌ، وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ فِي شِجَارٍ لَهُ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ، فَأَنَاخَ بِهِ فَإِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ وَإِذَا هُوَ دُرَيْدٌ وَلَا يَعْرِفُهُ الْغُلَامُ، فَقَالَ دُرَيْدٌ: " مَاذَا تُرِيدُ؟ ". قَالَ: قَتْلَكَ. قَالَ: " وَمَنْ أَنْتَ؟ ". قَالَ رَبِيعَةُ بْنُ رُفَيْعٍ السُّلَمِيُّ، ثُمَّ ضَرَبَهُ بِسَيْفِهِ فَلَمْ يُغْنِ شَيْئًا، فَقَالَ دُرَيْدٌ: " بِئْسَ مَا سَلَّحَتْكَ أُمُّكَ، خُذْ سَيْفِي هَذَا مِنْ مُؤَخَّرِ الشِّجَارِ ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ، وَارْفَعْ عَنِ الْعِظَامِ وَاخْفِضْ عَنِ الدِّمَاغِ، فَإِنِّي كَذَلِكَ كُنْتُ أَقْتُلُ الرِّجَالَ ". فَقَتَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ اوطاس کے قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ربیعہ بن رفیع رضی اللہ عنہ نے درید بن صمہ کو پا لیا اور اس کے اونٹ کی مہار پکڑ لی، اس نے سمجھا کہ یہ عورت ہے اور یہ درختوں میں تھا، جب اونٹ کو بٹھایا تو وہ بوڑھا درید تھا، غلام اسے جانتا نہیں تھا، درید نے کہا: تیرا کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: تیرے قتل کا۔ درید نے پوچھا: تو کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں ربیعہ بن رفیع سلمی ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے تلوار ماری، لیکن درید کو قتل نہ کر سکے تو درید نے کہا: تیرے والد نے تجھے اچھے اسلحہ سے لیس نہیں کیا، جاؤ درختوں کے پیچھے سے میری تلوار لاؤ، ہڈی سے بچا کر دماغ پر مارو، میں بھی اس طرح افراد کو قتل کرتا تھا، تو اس طرح انہوں نے اسے قتل کر دیا۔
حدیث نمبر: 18163
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: " قُتِلَ يَوْمَ حُنَيْنٍ دُرَيْدُ بْنُ الصِّمَّةِ ابْنُ خَمْسِينَ وَمِائَةِ سَنَةٍ فِي شِجَارٍ لَا يَسْتَطِيعُ الْجُلُوسَ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْ قَتْلَهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَقُتِلَ أَعْمَى مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ بَعْدَ الْإِسَارِ، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى قَتْلِ مَنْ لَا يُقَاتِلُ مِنَ الرِّجَالِ الْبَالِغِينَ إِذَا أَبَى الْإِسْلَامَ وَالْجِزْيَةَ ". قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَاطَا الْقُرَظِيُّ قَدْ ذَكَرْنَا قِصَّتَهُ فِيمَا مَضَى ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ درید بن صمہ ١٥٠ سال کی عمر میں اپنے باغ میں قتل کیا گیا۔ وہ بیٹھنے کی طاقت نہ رکھتا تھا۔ جب نبی ﷺ کے سامنے اس کے قتل کا تذکرہ ہوا تو آپ ﷺ نے اس کا انکار نہ کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بنو قریظہ کا نابینا شخص قید کے بعد قتل کر دیا گیا۔ یہ دلالت ہے کہ بالغ آدمی جب اسلام و جزیہ سے بھاگ جائے تو قتل کرنا جائز ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بنو قریظہ کا نابینا شخص قید کے بعد قتل کر دیا گیا۔ یہ دلالت ہے کہ بالغ آدمی جب اسلام و جزیہ سے بھاگ جائے تو قتل کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 18164
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ، وَاسْتَبْقُوا شَرْخَهُمْ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَلَوْ جَازَ أَنْ يُعَابَ قَتْلَ مَنْ عَدَا الرُّهْبَانَ لِمَعْنَى أَنَّهُمْ لَا يُقَاتِلُونَ، لَمْ يُقْتَلِ الْأَسِيرُ، وَلَا الْجَرِيحُ الْمُثْبَتُ، وَقَدْ ذُفِّفَ عَلَى الْجَرْحَى بِحَضْرَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، ذَفَّفَ عَلَيْهِ ابْنُ مَسْعُودٍ وَغَيْرُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مشرکین کے بوڑھے اشخاص کو قتل کرو اور ان کے بچوں کو باقی رکھو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر راہب کے علاوہ کسی کو قتل کرنے پر عیب لگایا جاتا تو قیدی اور زخمی کو کبھی قتل نہ کیا جاتا۔ حالانکہ نبی ﷺ کی موجودگی میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابو جہل بن ہشام زخمی کو قتل کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر راہب کے علاوہ کسی کو قتل کرنے پر عیب لگایا جاتا تو قیدی اور زخمی کو کبھی قتل نہ کیا جاتا۔ حالانکہ نبی ﷺ کی موجودگی میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابو جہل بن ہشام زخمی کو قتل کیا تھا۔
حدیث نمبر: 18165
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ؟ ". قَالَ: فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ، فَنَزَلَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، قَالَ: أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ؟ قَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَهُ قَوْمُهُ؟ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو ابو جہل کا کیا بنا؟“ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گئے تو دیکھا کہ ابن عفراء نے اس کو قتل کر دیا ہے، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نیچے اتر کر اس کی داڑھی پکڑ لی اور پوچھا: ”کیا تو ابو جہل ہے؟“ اس نے کہا: ”کیا تم نے مجھ سے کسی بڑے آدمی کو قتل کیا ہے یا اس کو اس کی قوم نے قتل کیا ہو۔“
حدیث نمبر: 18166
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ وَهُوَ مَصْرُوعٌ، فَضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي، فَمَا صَنَعَ شَيْئًا وَنَدَرَ سَيْفُهُ، فَضَرَبْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ كَأَنَّمَا أَقَلَّ مِنَ الْأَرْضِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا عَدُوُّ اللهِ أَبُو جَهْلٍ قَدْ قُتِلَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آللَّهِ لَقَدْ قُتِلَ؟ ". قُلْتُ: آللَّهِ لَقَدْ قُتِلَ. قَالَ: فَانْطَلِقْ بِنَا فَأَرِنَاهُ. فَجَاءَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: " هَذَا كَانَ فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ ". كَذَا قَالَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَدْ مَضَى ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن میں ابو جہل تک پہنچا، وہ گرا ہوا تھا، میں نے اسے اپنی تلوار ماری، اس نے کچھ بھی نہ کیا، اس کی تلوار گر گئی، میں نے اسے مارا، پھر میں نبی ﷺ کے پاس خوشخبری لے کر آیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اللہ کا دشمن ابو جہل قتل کر دیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”«آللّٰهِ؟» ”اللہ کی قسم! کیا وہ قتل کر دیا گیا؟“” میں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم وہ قتل کر دیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلو ہمیں دکھاؤ“، آپ ﷺ نے آ کر دیکھا اور فرمایا: ”یہ اس امت کا فرعون تھا“۔
حدیث نمبر: 18167
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ " كَانَ مَعَ أَبِيهِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ، فَلَمَّا انْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ وَحَمَلَ، فَجَعَلَ يُجِيزُ عَلَى جَرْحَاهُمْ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَلَا أَعْلَمُ يَثْبُتُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خِلَافُ هَذَا، وَلَوْ كَانَ ثَبَتَ لَكَانَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَمَرَهُمْ بِالْجِدِّ عَلَى قِتَالِ مَنْ يُقَاتِلُهُمْ، وَلَا يَتَشَاغَلُوا بِالْمُقَامِ عَلَى مَوْضِعِ هَؤُلَاءِ ". قَالَ الشَّيْخُ: " وَإِنَّمَا قَالَ هَذَا لِأَنَّ الرِّوَايَاتِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّهَا مَرَاسِيلُ، إِلَّا أَنَّهَا رُوِيَتْ مِنْ أَوْجُهٍ وَرَوَاهَا ابْنُ الْمُسَيِّبِ، وَهُوَ حَسَنُ الْمُرْسَلِ، ⦗١٥٩⦘ وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ عَنْهُ حَدِيثَ الْمُرَقَّعِ، ثُمَّ ضَعَّفَهُ بِأَنَّ مُرَقَّعًا لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ، وَذَكَرَ حَدِيثَ أَيُّوبَ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ، ثُمَّ قَالَ: وَهَذَا كَالَّذِي ذَكَرْنَا مِنْ قَبْلِهِ مَجْهُولٌ، وَأَمَّا حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ فَلَمْ يَذْكُرْهُ الشَّافِعِيُّ وَهُوَ أَضْعَفُ مِمَّا رَدَّهُ بِالْجَهَالَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں غزوہ یرموک میں اپنے باپ کے ساتھ تھا۔ جب مشرکین کو شکست ہوئی اور قیدی بنائے گئے تو وہ اپنے زخمیوں کا فدیہ دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ان کے خلاف ثابت نہیں ہے۔ اگر ان سے ثابت ہو تو یہ اس کے مناسب ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے دادا کو حکم دیا کہ ”وہ لڑنے والوں سے لڑائی کرے اور ان جگہوں پر وہ مصروف نہ ہو جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ان کے خلاف ثابت نہیں ہے۔ اگر ان سے ثابت ہو تو یہ اس کے مناسب ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے دادا کو حکم دیا کہ ”وہ لڑنے والوں سے لڑائی کرے اور ان جگہوں پر وہ مصروف نہ ہو جائے۔“