کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18021
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " الْإِمَامُ فِيهِمْ بِالْخِيَارِ بَيْنَ أَنْ يَقْتُلَهُمْ إِنْ لَمْ يُسْلِمْ أَهْلُ الْأَوْثَانِ، أَوْ يُعْطِيَ الْجِزْيَةَ أَهْلُ الْكِتَابِ، أَوْ يَمُنَّ عَلَيْهِمْ، أَوْ يُفَادِيَهِمْ بِمَالٍ يَأْخُذُهُ مِنْهُمْ أَوْ بِأَسْرَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُطْلَقُونَ لَهُمْ، أَوْ يَسْتَرِقَّهُمْ فَإِنِ اسْتَرَقَّهُمْ أَوْ أَخَذَ مِنْهُمْ مَالًا فَسَبِيلُهُ سَبِيلُ الْغَنِيمَةِ، يُخْمَسُ وَيَكُونُ أَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهَا لِأَهْلِ الْغَنِيمَةِ، فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: كَيْفَ حَكَمْتَ فِي الْمَالِ وَالْوِلْدَانِ وَالنِّسَاءِ حُكْمًا وَاحِدًا، وَحَكَمْتَ فِي الرِّجَالِ أَحْكَامًا مُتَفَرِّقَةً؟ قِيَلَ: ظَهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُرَيْظَةَ وَخَيْبَرَ، فَقَسَمَ عَقَارَهَا مِنَ الْأَرَضِينَ وَالنَّخْلِ قِسْمَةَ الْأَمْوَالِ، وَسَبَى وِلْدَانَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهَوَازِنَ وَنِسَاءَهُمْ، فَقَسَمَهُمْ قِسْمَةَ الْأَمْوَالِ ". قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا مَا قَالَ فِي قُرَيْظَةَ فَفِيمَا ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”امام کو ان (جنگی قیدیوں) کے بارے میں اختیار ہے کہ اگر بت پرست اسلام نہ لائیں اور اہل کتاب جزیہ نہ دیں تو انہیں قتل کر دے، یا ان پر احسان کرتے ہوئے (بلا معاوضہ) چھوڑ دے، یا ان سے فدیہ لے، خواہ وہ مال ہو جو ان سے وصول کرے یا مسلمان قیدی ہوں جو ان کے بدلے چھڑائے جائیں، یا انہیں غلام بنا لے، پس اگر وہ انہیں غلام بنا لے یا ان سے مال لے لے تو اس کا حکم مال غنیمت کا حکم ہے، اس کا خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا اور اس کے باقی چار حصے غنیمت کے حقداروں کے ہوں گے۔ پس اگر کوئی کہنے والا کہے: آپ نے مال، بچوں اور عورتوں کے بارے میں تو ایک ہی حکم لگایا ہے اور مردوں کے بارے میں مختلف احکام لگائے ہیں، ایسا کیوں؟ تو (اس سے) کہا جائے گا: رسول اللہ ﷺ بنو قریظہ اور خیبر پر غالب آئے تو آپ ﷺ نے ان کی غیر منقولہ جائیداد یعنی زمینوں اور کھجور کے باغات کو اموال کی طرح تقسیم فرمایا، اور آپ ﷺ نے بنو المصطلق اور ہوازن کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنایا تو انہیں بھی اموال کی طرح تقسیم فرما دیا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہا وہ جو انہوں نے بنو قریظہ کے بارے میں فرمایا، تو وہ اس (روایت) میں ہے جو...
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18021
حدیث نمبر: 18021
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ " يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنْ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَاربَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا، وَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي ابْنَ سَلَامٍ - وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہود نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لڑائی کی، آپ ﷺ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا اور قریظہ والوں کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا، اس کے بعد بنو قریظہ نے بھی لڑائی کی، آپ ﷺ نے ان کے مردوں کو قتل کیا اور عورتوں، بچوں اور مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور ان کو چھوڑ دیا جو رسول اللہ ﷺ سے مل گئے، آپ ﷺ نے ان کو امن دیا تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا، آپ ﷺ نے مدینہ کے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا، ان میں بنو قینقاع جو کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم کے لوگ تھے اور بنو حارثہ کے یہود تھے، اور ہر یہودی جو مدینہ میں تھا اس کو جلا وطن کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18021
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18022
وَأَمَّا مَا قَالَ فِي خَيْبَرَ فَفِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ بعد میں آنے والے لوگ تنگ دست ہو جائیں گے تو میں جو بھی علاقہ فتح ہوتا تو اس کو تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اکرم ﷺ نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18022
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18023
وَأَمَّا مَا قَالَ فِي وِلْدَانِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، ح، قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ قَبْلَ الْقِتَالِ، قَالَ: " إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ الدُّعَاءُ فِي أَصْلِ الْإِسْلَامِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ ". حَدَّثَنِي بِهَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ ". وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ إِنَّمَا ذَلِكَ بَعْدَ الدُّعَاءِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ وَالْبَاقِي سَوَاءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: غَزَوْنَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے نافع رحمہ اللہ کو لڑائی سے پہلے دعوت دینے کے بارے میں سوال لکھ کر بھیجا، انہوں نے کہا: دعوت دینا اسلام کی بنیاد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بنو مصطلق پر شب خون مارا کیونکہ وہ (حملے سے) غافل تھے، اس وقت ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کے جنگجوؤں کو قتل کیا، بچوں کو قیدی بنایا اور اسی دن آپ ﷺ کو سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ملی تھیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18023
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18024
وَأَمَّا مَا قَالَ فِي هَوَازِنَ، فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلِيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدِ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ ". وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللهُ عَلَيْنَا ". فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ. فَقَالَ ⦗١١٠⦘ رَسُولُ اللهِ: " إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ ". فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا. " هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَأَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ بَدْرٍ مِنْهُمْ مَنْ مَنَّ عَلَيْهِمْ بِلَا شَيْءٍ أَخَذَهُ مِنْهُمْ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَ مِنْهُ فِدْيَةً، وَمِنْهُمْ مَنْ قَتَلَهُ، وَكَانَ الْمَقْتُولَانِ بَعْدَ الْإِسَارِ يَوْمَ بَدْرٍ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَالنَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہوازن کے وفد نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے مال و قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اور میرے ساتھیوں کو سچی بات زیادہ محبوب ہے۔ تمہیں دونوں میں سے ایک چیز کا اختیار ہے (مال یا قیدی) اور میں تمہیں مہلت دیتا ہوں۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے طائف سے واپسی پر دس راتوں کی مہلت دی۔ جب انہیں یقین ہو گیا کہ آپ ﷺ صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انہوں نے قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی تعریف فرمائی جس کا وہ اصل حق دار تھا، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”اما بعد! تمہارے بھائی توبہ کر کے آ گئے ہیں، میں ان کے قیدی واپس کرنا چاہتا ہوں۔ جو تم میں سے دل کی خوشی سے یہ کام کرنا چاہتا ہے تو کر لے اور جو کوئی ان کا عوض لینا چاہے تو ہم پہلے مالِ فیء سے اس کا بدل واپس کر دیں گے۔“ تو لوگوں نے کہا: ہم نے دل کی خوشی سے واپس کر دیے، اے اللہ کے رسول ﷺ! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں معلوم نہ ہو سکا کون اجازت دیتا ہے اور کون نہیں۔ تم اپنے سرداروں کو بتاؤ، وہ ہمیں خبر دیں۔“ تو لوگوں نے اپنے چوہدریوں سے بات کی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا کہ لوگوں نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔ یہ حدیث مجھے ہوازن کے قیدیوں کے بارے میں پہنچی۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑا، بعض سے کچھ بھی نہ لیا اور بعض کو قتل بھی کروا دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دو قیدیوں کو قتل کروایا: عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18024
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٤٣١٩»
حدیث نمبر: 18025
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَدَدٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْمَغَازِي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَ النَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ الْعَبْدِيَّ يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَتَلَهُ بِالْبَادِيَةِ أَوِ الْأَثِيلِ صَبْرًا، وَأَسَرَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ فَقَتَلَهُ صَبْرًا ". قَالَ الشَّيْخُ: " وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الْقَسْمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ صَاحِبِ الْمَغَازِي ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ اہل مغازی سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نضر بن حارث عبدری کو بدر کے دن الصفرہ یا اثیل کے مقام پر باندھ کر قتل کر دیا، یہی سلوک عقبہ بن ابی معیط کے ساتھ کیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18025
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18026
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَقْبَلَ بِالْأُسَارَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِعِرْقِ الظُّبْيَةِ أَمَرَ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ أَنْ يَضْرِبَ عُنُقَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، فَجَعَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ يَقُولُ: يَا وَيْلَاهُ، عَلَامَ أُقْتَلُ مِنْ بَيْنِ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعَدَاوَتِكَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ". فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَنُّكَ أَفْضَلُ، فَاجْعَلْنِي كَرَجُلٍ مِنْ قَوْمِي إِنْ قَتَلْتَهُمْ قَتَلْتَنِي، وَإِنْ مَنَنْتَ عَلَيْهِمْ مَنَنْتَ عَلَيَّ، وَإِنْ أَخَذْتَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ كُنْتُ كَأَحَدِهِمْ، يَا مُحَمَّدُ مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النَّارُ، يَا عَاصِمُ بْنَ ثَابِتٍ، قَدِّمْهُ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ ". فَقَدَّمَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن یحییٰ بن سہل بن ابی حثمہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عرقِ ظبیہ نامی جگہ پر جب رسول اللہ ﷺ کے پاس قیدی لائے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے عاصم بن ثابت بن ابی افلح رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عقبہ بن ابی معیط کی گردن جدا کر دیں۔ عقبہ بن ابی معیط نے کہا: ان کے درمیان سے مجھے کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اور رسول کی دشمنی کی وجہ سے۔“ تو عقبہ نے کہا: اے محمد! آپ مجھے میری قوم کے آدمیوں میں شمار کرتے ہوئے ان جیسا سلوک کریں، اگر ان کو قتل یا احسان کریں تو میرے ساتھ بھی یہ سلوک کر لینا۔ اے احمد! بچوں کا کون ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے آگ ہے۔“ ”اے عاصم بن عون! اس کی گردن تن سے جدا کر دو“، تو انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18026
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدًا
تخریج حدیث «ضعيف جدًا»
حدیث نمبر: 18027
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَرَادَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ أَنْ يَسْتَعْمِلَ مَسْرُوقًا، فَقَالَ لَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُقْبَةَ: أَتَسْتَعْمِلُ رَجُلًا مِنْ بَقَايَا قَتَلَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ فِي أَنْفُسِنَا مَوْثُوقَ الْحَدِيثِ، أَنَّ ⦗١١١⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ أَبِيكَ قَالَ: مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟ قَالَ: " النَّارُ "، قَدْ رَضِيتُ لَكَ مَا رَضِيَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے مسروق رحمہ اللہ کو عامل بنانا چاہا تو عمارہ بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں سے کسی کو عامل بنانا چاہتے ہیں؟ تو مسروق رحمہ اللہ نے عمارہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جو بات ہمارے دلوں میں پختہ ہے وہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے تیرے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے کہا تھا: بچوں کا کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آگ۔“ میں تیرے لیے وہ پسند کرتا ہوں جو تیرے لیے رسول اللہ ﷺ نے پسند فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18027
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18028
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَكَانَ الْمَمْنُونُ عَلَيْهِمْ بِلَا فِدْيَةٍ أَبَا عَزَّةَ الْجُمَحِيَّ، تَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنَاتِهِ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ عَهْدًا أَنْ لَا يُقَاتِلَهُ، فَأَخْفَرَهُ وَقَاتَلَهُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يُفْلِتَ، فَمَا أُسِرَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَجُلٌ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ امْنُنْ عَلَيَّ وَدَعْنِي لِبَنَاتِي وَأُعْطِيَكَ عَهْدًا أَنْ لَا أَعُودَ لِقِتَالِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَمْسَحُ عَلَى عَارِضَيْكَ بِمَكَّةَ تَقُولُ: قَدْ خَدَعْتُ مُحَمَّدًا مَرَّتَيْنِ ". فَأَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ عُنُقُهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ. " وَقَدْ رُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ غَيْرِ الشَّافِعِيِّ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عزہ جمحی کو رسول اللہ ﷺ نے بغیر فدیہ کے احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا، (یہ) اس کی بیٹیوں کی وجہ سے (کیا) اور وعدہ لیا کہ آئندہ وہ لڑائی کے لیے نہ آئے گا، لیکن اس نے وعدہ خلافی کی تو رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن اسے قتل کروا دیا، مشرکین کا کوئی اور شخص قیدی نہ تھا، ابو عزہ جمحی نے کہا: اے محمد! آپ میری بیٹیوں کی وجہ سے احسان فرمائیں، میں آئندہ قتال کے لیے نہ آؤں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکہ جانے کے بہانے چاپلوسی مت کرو، پھر تم کہو گے: میں نے محمد ﷺ کو دو مرتبہ دھوکا دیا ہے“، پھر آپ ﷺ نے حکم فرمایا تو اس کی گردن تن سے جدا کر دی گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18028
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18029
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ أَبَا عَزَّةَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْجُمَحِيَّ، وَكَانَ شَاعِرًا، وَكَانَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ لِي خَمْسَ بَنَاتٍ لَيْسَ لَهُنَّ شَيْءٌ فَتَصَدَّقْ بِي عَلَيْهِنَّ، فَفَعَلَ، وَقَالَ أَبُو عَزَّةَ: أُعْطِيكَ مَوْثِقًا أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أُكْثِرَ عَلَيْكَ أَبَدًا، فَأَرْسَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أُحُدٍ جَاءَهُ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، فَقَالَ: اخْرُجْ مَعَنَا، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُ مُحَمَّدًا مَوْثِقًا أَنْ لَا أُقَاتِلَهُ، فَضَمِنَ صَفْوَانُ أَنْ يَجْعَلَ بَنَاتِهِ مَعَ بَنَاتِهِ إِنْ قُتِلَ، وَإِنْ عَاشَ أَعْطَاهُ مَالًا كَثِيرًا، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى خَرَجَ مَعَ قُرَيْشٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَأُسِرَ وَلَمْ يُؤْسَرْ غَيْرُهُ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّمَا أُخْرِجْتُ كَرْهًا وَلِي بَنَاتٌ فَامْنُنْ عَلَيَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ مَا أَعْطَيْتَنِي مِنَ الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ؟ لَا، وَاللهِ لَا تَمْسَحُ عَارِضَيْكَ بِمَكَّةَ تَقُولُ: سَخِرْتُ بِمُحَمَّدٍ مَرَّتَيْنِ ". قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ، يَا عَاصِمُ بْنَ ثَابِتٍ قَدِّمْهُ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ ". فَقَدَّمَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " ثُمَّ أَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِيَّ بَعْدُ فَمَنَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ عَادَ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ بَعْدُ فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدری قیدی ابو عزہ عبداللہ بن عمرو بن عمیر جمحی شاعر کو احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ میری پانچ بچیاں ہیں، ان کی وجہ سے میرے اوپر احسان کریں، تو آپ ﷺ نے احسان کر دیا۔ ابو عزہ نے کہا: نہ تو خود آپ ﷺ کے خلاف آؤں گا اور نہ ہی تعداد کو زیادہ کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ جب قریشی غزوۂ احد کے لیے نکلے تو صفوان بن امیہ نے ابو عزہ سے نکلنے کا مطالبہ کر دیا، تو ابو عزہ نے کہا: میں نے محمد ﷺ سے نہ لڑنے کا پختہ عہد کیا ہوا ہے، تو صفوان بن امیہ نے اس کی بیٹیوں کی پرورش کا ذمہ لیا، اگر وہ قتل کر دیا گیا؛ اور اگر زندہ رہا تو اسے بہت زیادہ مال دیا جائے گا۔ پھر جب غزوۂ احد میں وہ قریشیوں کے ساتھ نکلا تو یہ اکیلا قیدی بنایا گیا، تو اس نے کہا: اے محمد ﷺ! مجھے زبردستی لایا گیا، آپ میرے اوپر بچیوں کی وجہ سے احسان کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا وہ وعدہ کہاں گیا؟ تو نے کہا کہ میں نے محمد ﷺ سے دو مرتبہ مذاق کیا ہے۔“
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مومن ایک بل سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا، اے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ! اس کی گردن تن سے جدا کر دو“، تو انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو قیدی بنایا تو احسان کر کے چھوڑ دیا، تو ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا، پھر ان کا اسلام اچھا ہو گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18029
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدًا
تخریج حدیث «ضعيف جدًا»
حدیث نمبر: 18030
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو بَكْرٍ ⦗١١٢⦘ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا نَحْوَ أَرْضِ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِيُّ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ " قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ "، فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ. فَرَدَّهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ ". فَخَرَجَ ثُمَامَةُ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ إِلِيَّ، وَاللهِ مَا كَانَ دِينٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ وَقَدْ أَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الْأَدْيَانِ إِلِيَّ، وَوَاللهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، وَقَدْ أَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبُلْدَانِ كُلِّهَا إِلِيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ لَهُ رِجَالٌ بِمَكَّةَ: أَصَبَوْتَ يَا ثُمَامَةُ؟ فَقَالَ: لَا، وَاللهِ مَا صَبَوْتُ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَا يَأْتِيكُمْ حَبَّةُ حِنْطَةٍ مِنَ الْيَمَامَةِ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا، وہ دستہ ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر کے لایا جو یمامہ کے علاقے کا رئیس تھا، انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، رسول معظم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اس سے دریافت فرمایا: ”اے ثمامہ! تیرا کیا حال ہے؟“ اس نے جواب دیا: میرا حال اچھا ہے، اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اور اگر آپ احسان کریں گے تو احسان کا شکریہ ادا ہو گا اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو طلب کریں جتنا چاہتے ہو مال مل جائے گا، رسول معظم ﷺ اس کو چھوڑ کر چلے گئے، جب دوسرا دن ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے حال دریافت فرمایا: ”ثمامہ! تمہارا کیا ذہن ہے؟“ اس نے جواب دیا: اگر آپ احسان کریں گے تو آپ ﷺ کے احسان کا شکریہ ادا کیا جائے گا، اگر آپ قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا، اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جتنا مال چاہتے ہیں اتنا ہی دیا جائے گا، رسول اللہ ﷺ اسے پھر چھوڑ کر چلے گئے، جب تیسرا دن ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا تو اس نے وہی جواب دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ثمامہ کو کھول دو۔“ چنانچہ وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں گیا، غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوا اور اس نے اقرار کیا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“ اے محمد ﷺ! اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی چہرہ ایسا نہ تھا جو مجھے آپ کے چہرے سے زیادہ برا لگتا ہو مگر اب آپ کا چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب لگتا ہے، اللہ کی قسم! آپ کے شہر سے زیادہ برا مجھے کوئی شہر نہیں لگتا تھا مگر اب مجھے آپ کا شہر تمام شہروں سے زیادہ اچھا لگتا ہے اور آپ کے لشکر نے مجھے اس وقت گرفتار کیا جب میں عمرہ ادا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، اب آپ کی کیا رائے ہے؟ رسول کریم ﷺ نے اسے خوشخبری دی اور فرمایا: ”جاؤ عمرہ ادا کرو۔“ جب وہ مکہ آیا تو کسی کہنے والے نے کہا: تو صابی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ میں تو رسول اللہ ﷺ کے اسلام میں داخل ہو گیا ہوں، اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ کی گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا جب تک اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ اجازت نہ دیں گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18030
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18031
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، ثنا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ إِسْلَامُ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ الْحَنَفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا اللهَ حِينَ عَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَرَضَ لَهُ أَنْ يُمَكِّنَهُ اللهُ مِنْهُ، وَكَانَ عَرَضَ لَهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ فَأَرَادَ قَتْلَهُ، فَأَقْبَلَ ثُمَامَةُ مُعْتَمِرًا وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَتَحَيَّرَ فِيهَا حَتَّى أُخِذَ، وَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُبِطَ إِلَى عَمُودٍ مِنْ عُمُدِ الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا لَكَ يَا ثُمَامَةُ هَلْ أَمْكَنَ اللهُ مِنْكَ؟ ". قَالَ: وَقَدْ كَانَ ذَلِكَ يَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاكِرٍ، وَإِنْ تَسْأَلْ مَالًا تُعْطَهُ. فَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ مَرَّ بِهِ، فَقَالَ: " مَا لَكَ يَا ثُمَامَ؟ ". فَقَالَ: خَيْرًا يَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاكِرٍ، وَإِنْ تَسْأَلْ مَالًا تُعْطَهُ. ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ ⦗١١٣⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَجَعَلْنَا - الْمَسَاكِينَ - نَقُولُ بَيْنَنَا: مَا نَصْنَعُ بِدَمِ ثُمَامَةَ؟، وَاللهِ لَأَكْلَةٌ مِنْ جَزُورٍ سَمِينَةٍ مِنْ فِدَائِهِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ دَمِ ثُمَامَةَ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ مَرَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا لَكَ يَا ثُمَامَ؟ ". فَقَالَ: خَيْرًا يَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاكِرٍ، وَإِنْ تَسَألْ مَالًا تُعْطَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْلِقُوهُ فَقَدْ عَفَوْتُ عَنْكَ يَا ثُمَامَ ". فَخَرَجَ ثُمَامَةُ حَتَّى أَتَى حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَاغْتَسَلَ فِيهِ وَتَطَهَّرَ وَطَهَّرَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، وَاللهِ لَقَدْ كُنْتَ وَمَا وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَلَا دِينَ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ، وَلَا بَلَدَ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، ثُمَّ لَقَدْ أَصْبَحْتَ وَمَا وَجْهٌ أَحَبَّ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَلَا دِينَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ، وَلَا بَلَدَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ قَدْ خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا وَأَنَا عَلَى دِينِ قَوْمِي، فَبَشِّرْنِي صَلَّى الله عَلَيْكَ فِي عُمْرَتِي. فَبَشَّرَهُ وَعَلَّمَهُ، فَخَرَجَ مُعْتَمِرًا، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ وَسَمِعَتْهُ قُرَيْشٌ يَتَكَلَّمُ بِأَمْرِ مُحَمَّدٍ مِنَ الْإِسْلَامِ، قَالُوا: صَبَأَ ثُمَامَةُ، فَأَغْضَبُوهُ، فَقَالَ: إِنِّي وَاللهِ مَا صَبَوْتُ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ مُحَمَّدًا، وَآمَنْتُ بِهِ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ ثُمَامَةَ بِيَدِهِ لَا يَأْتِيكُمْ حَبَّةٌ مِنَ الْيَمَامَةِ، وَكَانَتْ رِيفَ مَكَّةَ، مَا بَقِيتُ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَانْصَرَفَ إِلَى بَلَدِهِ، وَمَنَعَ الْحَمْلَ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى جَهَدَتْ قُرَيْشٌ، فَكَتَبُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ بِأَرْحَامِهِمْ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى ثُمَامَةَ يُخَلِّي إِلَيْهِمْ حَمْلَ الطَّعَامِ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثمامہ بن اثال حنفی کے اسلام کا واقعہ پیش آیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اللہ سے دعا فرمائی جس وقت آپ کے لیے کوئی واقعہ پیش آیا کہ اللہ آپ کو غلبہ عطا فرما دے اور وہ ابھی مشرک ہی تھا۔ آپ نے اس کے قتل کا ارادہ فرمایا اور ثمامہ حالت شرک میں عمرہ کی غرض سے مدینہ میں سے گزر رہا تھا کہ صحابہ نے پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے دربار میں پیش کر دیا۔ آپ کے حکم سے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”اے ثمامہ! کیا حال ہے؟ کیا اللہ نے تیرے اوپر غلبہ دے دیا ہے؟“ اس نے کہا: ”اے محمد! اگر تو مجھے قتل کر دے تو ایسے شخص کو قتل کرو گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ ﷺ معاف کریں گے تو معافی کا شکریہ ادا کیا جائے گا۔ اگر آپ ﷺ مال چاہتے ہیں تو مال بھی دیا جائے گا۔“ اسے اس حالت میں چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ چلے گئے۔ دوسرے دن پھر آئے اور پوچھا: ”تیرا کیا حال ہے ثمامہ!“ اس نے کہا: ”میرا حال اچھا ہے اے محمد! اگر مجھے قتل کر دیں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ معاف کر دیں تو معاف کرنے کا شکریہ ادا ہوگا۔ اگر مال طلب کرو تو دیا جائے گا۔“ رسول اللہ ﷺ پھر چلے گئے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مسکین بیٹھ کر ثمامہ کے خون کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ اللہ کی قسم! ثمامہ کے خون کی بجائے اس کے مقابلے میں موٹے تازے اونٹ فدیہ میں زیادہ بہتر رہیں گے۔ پھر صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”ثمامہ کیا حال ہے؟“ اس نے کہا: ”میرا حال اچھا ہے اے محمد! اگر قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ معاف کر دیں تو معاف کرنے کا شکریہ ادا ہوگا۔ اگر مال طلب کرو گے تو مال بھی دیا جائے گا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ثمامہ کو رہا کر دو۔ اے ثمامہ! میں نے تجھے معاف کر دیا۔“ پھر ثمامہ نے مدینہ کے کسی باغ میں غسل کر کے اپنے کپڑوں اور جسم کو پاک کیا اور واپس آیا تو رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ میں تشریف فرما تھے۔ اس نے کہا: ”اے محمد ﷺ! تیرے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ میرے نزدیک برا نہ تھا، آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین میرے لیے برا نہ تھا اور آپ کے شہر سے زیادہ برا کوئی شہر مجھے نہیں لگتا تھا۔“ پھر اس نے کہا: ”اب آپ کے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ محبوب نہیں، آپ کے دین سے بڑھ کر کوئی دین اچھا نہیں لگتا اور آپ کے شہر سے بڑھ کر کوئی شہر اچھا نہیں لگتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کے دین پر ہی عمرہ کے لیے نکلا تھا، آپ میرے عمرہ کے بارے میں خوشخبری دیں۔ اللہ آپ پر رحمت فرمائے۔“ آپ نے خوشخبری بھی دی اور طریقہ بھی سکھایا۔ وہ عمرہ کی غرض سے نکلے۔ جب وہ مکہ آئے تو قریشیوں نے ان سے آپ کے دین کے بارے میں سنا تو کہنے لگے کہ ثمامہ بے دین ہو گیا ہے۔ انہوں نے ثمامہ کو غصہ دلایا۔ ثمامہ کہنے لگے: ”میں بے دین نہیں ہوا، میں نے اسلام قبول کیا۔ محمد ﷺ کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لایا۔ اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ آئے گا (اور یمامہ سرسبز جگہ تھی) جب تک میں ہوں لیکن نبی ﷺ اجازت دے دیں۔“ وہ اپنے شہر واپس چلے گئے۔ جا کر مکہ کا غلہ روک دیا یہاں تک کہ قریش مشکل میں پڑ گئے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی رشتہ داریوں کا واسطہ دے کر سوال کیا کہ آپ ثمامہ کو خط لکھیں کہ وہ غلہ روانہ کر دے تو رسول اللہ ﷺ نے ثمامہ کو غلہ روانہ کرنے کا حکم صادر فرما دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18031
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18032
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: وَأَقْبَلَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَبْ لِي الزُّبَيْرَ الْيَهُودِيَّ أَجْزِيهِ، فَقَدْ كَانَتْ لَهُ عِنْدِي يَوْمَ بُعَاثٍ. فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَقْبَلَ ثَابِتٌ حَتَّى أَتَاهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ تَعْرِفُنِي؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَهَلْ يُنْكِرُ الرَّجُلُ أَخَاهُ؟ قَالَ ثَابِتٌ: أَرَدْتُ أَنْ أَجْزِيَكَ الْيَوْمَ بِيَدٍ لَكَ عِنْدِي يَوْمَ بُعَاثٍ. قَالَ: فَافْعَلْ فَإِنَّ الْكَرِيمَ يَجْزِي الْكَرِيمَ. قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَهَبَكَ لِي. فَأَطْلَقَ عَنْهُ إِسَارَهُ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ: لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ أَخَذْتُمُ امْرَأَتِي وَبَنِيَّ. فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: رَدَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَكَ وَبَنِيكَ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ: حَائِطٌ لِي فِيهِ أَعْذُقٌ لَيْسَ لِي وَلَا لِأَهْلِي عَيْشٌ إِلَّا بِهِ. فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَهَبَ لَهُ، فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ: قَدْ رَدَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَكَ وَمَالَكَ فَأَسْلِمْ تَسْلَمْ. قَالَ: مَا فَعَلَ الْجَلِيسَانِ، وَذَكَرَ رِجَالَ قَوْمِهِ، قَالَ ثَابِتٌ: قَدْ قُتِلُوا وَفُرِغَ مِنْهُمْ، وَلَعَلَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يَكُونَ أَبْقَاكَ لَخَيْرٍ. قَالَ الزُّبَيْرُ: أَسْأَلُكَ بِاللهِ يَا ثَابِتُ وَبِيَدِي الْخَصِيمِ عِنْدَكَ يَوْمَ بُعَاثٍ إِلَّا أَلْحَقْتَنِي بِهِمْ، فَلَيْسَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ بَعْدَهُمْ. ⦗١١٤⦘ فَذَكَرَ ذَلِكَ ثَابِتٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِالزُّبَيْرِ فَقُتِلَ. " وَذَكَرَهُ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَذَكَرَ أَنَّهُ الزُّبَيْرُ بْنُ بَاطَا الْقُرَظِيُّ، وَذَكَرَهُ أَيْضًا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يَوْمَئِذٍ كَبِيرًا أَعْمَى ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ مجھے زبیر یہودی ہبہ کر دیں تاکہ بعاث کے احسان کا بدلہ دیا جا سکے، جو اس نے میرے اوپر کیا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے ہبہ کر دیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ زبیر سے پوچھتے ہیں: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں! کیا کوئی شخص اپنے بھائی کو نہ پہچانے گا؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں تیرے بعاث کے دن کے احسان کا بدلہ دینا چاہتا ہوں۔ زبیر یہودی نے کہا: بدلہ دو، معزز انسان کسی معزز کا ہی بدلہ دیتا ہے۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے مجھے ہبہ فرما دیا تھا۔ میں نے اپنے اس قیدی کو آزاد کر دیا تو زبیر نے کہا: میری بیوی اور بچے؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہاری بیوی اور بچے بھی واپس کر دیے ہیں۔ زبیر کہنے لگا: میرا وہ باغ جس پر میرے گھر والوں کی گزر اوقات تھی؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے تو آپ ﷺ نے وہ بھی ہبہ کر دیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہارا اہل و عیال اور مال واپس کر دیا ہے، ”مسلمان ہو جاؤ، محفوظ ہو جاؤ گے۔“ تو زبیر نے کہا: میرے ان دو ساتھیوں کا کیا بنا؟ اس نے اپنی قوم کے اشخاص کا تذکرہ کیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کے قتل سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے، شاید کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھلائی کے لیے ہی باقی رکھا ہے، تو زبیر نے کہا: اے ثابت! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ تم میرے احسان کا بدلہ تب ہی ادا کر سکو گے جب مجھے بھی میرے ان ساتھیوں کے ساتھ ملا دو، کیونکہ ان کے بعد میری زندگی اچھی نہیں ہے، چنانچہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے عرض کیا تو زبیر کے قتل کا حکم دے دیا گیا۔ (ب) موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ اس دن بوڑھا اور نابینا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18032
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18033
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُسَارَى بَدْرٍ: " لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا فَكَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَخَلَّيْتُهُمْ لَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد (سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بدری قیدیوں کے بارے میں فرمایا: ”اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا تو وہ مجھ سے ان بدبودار اشخاص کے بارے میں کلام کرتا تو اس کی وجہ سے میں ان کو رہا کردیتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18033
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٣١٣٩-٤٠٢٤»
حدیث نمبر: 18034
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنَبٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ " ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَفَا عَنْهُمْ، قَالَ: وَنَزَلَ الْقُرْآنُ: {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ} [الفتح: ٢٤]. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
ثابت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مکہ کے اسی افراد نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر جبل تنعیم سے اتر کر نماز فجر کے وقت حملے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں پکڑ کر معاف کر دیا۔ قرآن نازل ہوا: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الفتح: 24] ”کہ اللہ نے ان کے ہاتھوں سے تمہیں بچایا اور تمہارے ہاتھوں سے ان کو مکہ کی وادی میں محفوظ رکھا تمہارے غلبہ حاصل کر لینے کے بعد۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18034
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١٨٠٨»
حدیث نمبر: 18035
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَزَلَ مَنْزِلًا وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ تَحْتَهَا، فَعَلَّقَ النَّاسُ سِلَاحَهُمْ فِي شَجَرَةٍ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى سَيْفِهِ فَأَخَذَهُ وَسَلَّهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللهُ ". فَشَامَ الْأَعْرَابِيُّ السَّيْفَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ وَأَخْبَرَهُمْ بِصَنِيعِ الْأَعْرَابِيِّ وَهُوَ جَالِسٌ إِلَى جَنْبِهِ لَمْ يُعَاقِبْهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَحْمُودٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ فرمایا تو لوگ کانٹے دار درختوں کے سایہ کی تلاش میں نکلے۔ لوگوں نے اپنا اسلحہ درختوں پر لٹکا دیا۔ ایک دیہاتی آپ ﷺ کی تلوار پکڑ کر سونت کر کہنے لگا: ”آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ۔“ دیہاتی نے تلوار رکھ دی۔ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو بلایا اور دیہاتی کی حرکت کی خبر دی، وہ آپ ﷺ کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے سزا نہ دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18035
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 18036
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ نَحْوَ ⦗١١٥⦘ هَذَا، وَيَذْكُرُ أَنَّ قَوْمًا مِنَ الْعَرَبِ أَرَادُوا أَنْ يَفْتِكُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلُوا هَذَا الْأَعْرَابِيَّ، وَيَتْلُو: {اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ} الْآيَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ اس کی مثل ذکر کرتے ہیں کہ عرب کی ایک قوم نے نبی ﷺ کو دھوکے سے قتل کرنے کی سازش کی تو انہوں نے اس دیہاتی کو بھیجا، پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ﴾ [سورة المائدة: 11] ”تم اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب ایک قوم نے (ہلاک) کرنے کا قصد کیا تھا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18036
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 18037
وَأَمَّا الْمُفَادَاةُ بِالنَّفْسِ، فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ بْنِ وَاقِدٍ الْكِلَابِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ ثَقِيفٌ حُلَفَاءَ لِبَنِي عَقِيلٍ، فَأَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَاءَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْوَثَاقِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَأَتَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا شَأْنُكَ؟ ". فقَالَ: بِمَ أَخَذْتَنِي، وَبِمَ أَخَذْتَ سَابِقَ الْحَاجِّ؟ فَقَالَ: " إِعْظَامًا لِذَاكَ أُخِذْتَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ ". ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ، فَنَادَاهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا شَأْنُكَ؟ ". فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ. قَالَ: " لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ ". ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: " مَا شَأْنُكَ؟ ". فَقَالَ: إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي. قَالَ: " هَذِهِ حَاجَتُكَ ". قَالَ: فَفُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثقیف بنو عقیل کے حلیف تھے، تو بنو ثقیف نے دو صحابہ کو قیدی بنا لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بنو عقیل کے ایک آدمی کو قید کر لیا اور اسے جکڑ دیا۔ اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ اس کے پاس سے گزرے تو اس نے آواز دی: اے محمد! اے محمد! آپ ﷺ اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: آپ نے مجھے کس جرم کی پاداش میں گرفتار کیا ہے؟ اور کیوں کر حج کرنے والوں کو گرفتار کرتے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بڑی بات ہے، تو اپنے حلیف بنو ثقیف کے جرم کی وجہ سے پکڑا گیا ہے۔“ پھر آپ ﷺ چلے گئے۔ اس نے آواز دی: اے محمد! اے محمد! آپ ﷺ رحیم اور رقیق القلب تھے، اس لیے واپس آئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تیری کیا حالت ہے؟“ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بات تو تب کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا تو مکمل فلاح پا لیتا۔“ آپ ﷺ پھر چلے گئے۔ اس نے آواز دی: اے محمد! اے محمد! پھر آپ ﷺ اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”تیری کیا حالت ہے؟“ اس نے کہا: میں بھوکا ہوں، کھانا کھلاؤ، پیاسا ہوں، پانی پلاؤ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیری ضرورت ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ دو صحابہ کے عوض اس کو چھوڑا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18037
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١٦٤»
حدیث نمبر: 18038
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَدَى رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَى رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ". " قَالَ سُفْيَانُ: " يَعْنِي أَخَذَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَى رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مسلمانوں کے دو آدمیوں کے فدیے میں مشرکین کا ایک آدمی دیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مسلمانوں کے دو آدمی لیے اور مشرکین کا ایک آدمی دیا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18038
حدیث نمبر: 18039
وَأَمَّا الْمُفَادَاةُ بِالْمَالِ فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَكَانَ أَكْثَرُ حَدِيثِهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ: " مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى؟ ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةُ ⦗١١٦⦘ وَالْإِخْوَانُ، غَيْرَ أَنَّا نَأْخُذُ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ؛ لِيَكُونَ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْمُشْرِكِينَ، وَعَسَى الله عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَهْدِيَهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَيَكُونُوا لَنَا عَضُدًا. قَالَ: " فَمَاذَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ ". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهُمْ فَقَرِّبْهُمْ وَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ. قَالَ: فَهَوِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ أَنَا، فَأَخَذَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَانِ يَبْكِيَانِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أِيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِلَّا تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا. قَالَ: الَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُكُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، وَشَجَرَةٌ قُرَيْبَةٌ حِينَئِذٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ} [الأنفال: ٦٧] الْآيَةَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، زَادَ إِلَى قَوْلِهِ: {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: ٦٩]، فَأَحَلَّ اللهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْقَسْمِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں (ان کی اکثر احادیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہیں): جب بدر کا دن تھا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا ان قیدیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے: اے اللہ کے نبی! یہ ہمارے چچا کے بیٹے، خاندان کے لوگ اور ہمارے بھائی ہیں، اگر ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیں تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دے اور ہمیں مشرکین کے خلاف مالی قوت بھی حاصل ہوجائے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے ابن خطاب! تیرا کیا خیال ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میری رائے ابوبکر رضی اللہ عنہ والی نہیں ہے بلکہ یہ کفر کے سردار ہیں، ان کے سر تن سے جدا کر دیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو قبول فرمایا اور میری رائے قبول نہ فرمائی۔ آپ ﷺ نے ان سے فدیہ لے لیا۔ جب صبح ہوئی تو میں آپ ﷺ کے پاس گیا، دیکھتا ہوں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ ﷺ بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے بتائیں کہ آپ کو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کس چیز نے رونے پر مجبور کر دیا ہے؟ اگر رونے کی وجہ ہو تو میں بھی رو لوں یا پھر آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے (ہی) رو لوں۔۔۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! تمہارے ساتھیوں کو (فدیہ لینے کی پاداش میں) میرے سامنے پیش کیا گیا اور اس درخت سے زیادہ قریب اللہ کا عذاب پیش کیا گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ﴾ [سورة الأنفال: 67] ”کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں (دشمن کا) خون بہا لے۔ تم دنیا کا مال و متاع چاہتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ رکھتا ہے۔“ “ (ب) عکرمہ بن عمار رحمہ اللہ نے کچھ اضافہ کیا ہے: ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ [سورة الأنفال: 69] ”پس جو کچھ تم نے غنیمت پایا ہے اسے حلال اور طیب سمجھ کر کھاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18039
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ١٧٦٣»
حدیث نمبر: 18040
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرُلُّسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَرْعَرَةَ، ثنا أَزْهَرُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ: " إِنْ شِئْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ فَادَيْتُمُوهُمْ وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِالْفِدَاءِ وَاسْتُشْهِدَ مِنْكُمْ بِعُدَّتِهِمْ ". قَالَ: فَكَانَ آخِرُ السَّبْعِينَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ، قُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ ". زَادَ الْبُرُلُّسِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ ابْنُ عَرْعَرَةَ: رَدَدْتُ هَذَا عَلَى أَزْهَرَ فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَقُولَ: عُبَيْدَةُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبیدہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدری قیدیوں کے بارے میں فرمایا: ”اگر تم قتل کرنا یا فدیہ لینا چاہو اور فدیہ سے فائدہ اٹھاؤ اور اتنی تعداد میں تمہارے ساتھی شہید کیے جائیں گے۔“ فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ان ستر میں سے آخری تھے جو یمامہ کے دن شہید کیے گئے۔
(ب) برلسی نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ ابن عرعرہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ معاملہ ازہر پر پیش کیا تو اس نے انکار کر دیا بلکہ وہ کہتے ہیں کہ عبیدہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18040
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18041
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَا: ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ الْأُسَارَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ أَرْبَعَمِائَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قیدیوں کے فدیہ میں جاہلیت کے چار سو لیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18041
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 18042
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي قِصَّةِ بَدْرٍ، قَالَ: " وَكَانَ فِي ⦗١١٧⦘ الْأُسَارَى أَبُو وَدَاعَةَ السَّهْمِيُّ، فَقَدِمَ ابْنُهُ الْمُطَّلِبُ الْمَدِينَةَ فَأَخَذَ أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ، فَانْطَلَقَ بِهِ، ثُمَّ بَعَثَ قُرَيْشٌ فِي فِدَاءِ الْأُسَارَى، فَقَدِمَ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصٍ فِي فِدَاءِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: اجْعَلُوا رِجْلِيَّ مَكَانَ رِجْلِهِ وَخَلُّوا سَبِيلَهُ حَتَّى يُبْعَثَ إِلَيْكَم بِفِدَائِهِ. فَخَلَّوْا سَبِيلَ سُهَيْلٍ وَحَبَسُوا مِكْرَزًا. قَالَ: فَفَدَى كُلُّ قَوْمٍ أَسِيرَهُمْ بِمَا رَضُوا. قَالَ: وَكَانَ أَكْثَرُ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ فِدَاءً الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَذَلِكَ لَأَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا، فَافْتَدَى نَفْسَهُ بِمِائَةِ أُوقِيَّةِ ذَهَبٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق بدر کے قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ابو وداعہ سہمی بدری قیدی تھا، اس کے بیٹے نے اپنے باپ کو چار ہزار درہموں میں حاصل کیا۔ قریشیوں نے اس کے اور اپنے قیدیوں کے فدیے روانہ کیے۔ مکرز بن حفص، سہیل بن عمرو کا فدیہ لے کر آیا، اس نے کہا: سہیل کی جگہ مجھے قید کر لو، جب اس کا فدیہ آئے گا مجھے چھوڑ دینا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے سہیل کو چھوڑ کر مکرز کو قید کر لیا۔ راوی کہتے ہیں: تمام قوم نے اپنے قیدیوں کا فدیہ دیا، جتنے پر وہ راضی ہوئے اور بدر کے قیدیوں میں سے سب سے زیادہ فدیہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا تھا، یہ مالدار آدمی تھے، انہوں نے ایک سو اوقیہ سونا ادا کیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18042
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18043
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا الْقَبَّانِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، قَالُوا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: " ائْذَنْ لَنَا فَلْنَتْرُكْ لِابْنِ أُخْتِنَا الْعَبَّاسِ فِدَاءَهُ. فَقَالَ: " وَاللهِ لَا تَذَرُونَ دِرْهَمًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ، " وَسَائِرُ الْأَحَادِيثِ فِي هَذَا الْبَابِ قَدْ مَضَتْ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصاری لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی، انہوں نے عرض کی کہ آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے بھانجے عباس رضی اللہ عنہ کا فدیہ معاف کر دیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم ایک درہم بھی نہیں چھوڑو گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18043
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٢٥٣٧- ٣٠٤٩-٤٠١٨»