کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام جن لوگوں پر غالب آ جائے ان کی اولاد کے ساتھ کیا سلوک کرے۔
حدیث نمبر: 18017
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِي الْحَمَّامِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ بَنِي قُرَيْظَةَ لَمَّا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ، أَوْ إِلَى خَيْرِكُمْ "، فَقَالَ: " إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ". قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ يُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَكَمْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ، وَرُبَّمَا قَالَ، حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللهِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بنوقریظہ نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو اپنا ثالث بنایا تو نبی ﷺ نے ان کو پیغام بھیجا، وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب وہ مسجد کے قریب آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے سردار یا اپنے اچھے کی طرف اٹھو۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان لوگوں نے آپ کو ثالث بنایا ہے۔“ تو انہوں نے کہا: میں ان کے متعلق یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ لڑائی کے قابل لوگوں کو قتل کر دیا جائے اور بچوں کو قیدی بنایا جائے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے مالک (اللہ) کے فیصلے کے ساتھ فیصلہ کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 18018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَسَدِيُّ الْحَافِظُ بَهَمَذَانَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَكَمَ عَلَى بَنِي قُرَيْظَةَ أَنْ يُقْتَلَ مِنْهُمْ كُلُّ مَنْ جَرَتْ عَلَيْهِ الْمُوسَى، وَأَنْ تُقَسَمَ أَمْوَالُهُمْ وَذَرَارِيُّهُمْ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَقَدْ حَكَمَ الْيَوْمَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللهِ الَّذِي حَكَمَ بِهِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنی قریظہ کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان میں سے بالغوں کو قتل کیا جائے اور مال اور بچوں کو مالِ غنیمت کے طور پر تقسیم کیا جائے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے پاس ذکر کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سعد نے وہ فیصلہ کیا جو اللہ نے سات آسمانوں پر کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 18019
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: " كُنْتُ فِيهِمْ، وَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ تُرِكَ، فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بھی بنی قریظہ میں سے تھا، جس کے زیرِ ناف بال تھے اس کو قتل کیا گیا اور جس کے بال نہ تھے اس کو چھوڑ دیا گیا۔ میں اس وقت بغیر بال کے تھا۔
حدیث نمبر: 18020
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: " كُنْتُ فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ. قَالَ: فَجَاءُوا بِي، وَلَا أَرَانِي إِلَّا سَيَقْتُلُونَنِي فَكَشَفُوا عَانَتِي فَوَجَدُوهَا لَمْ تَنْبُتْ؛ فَجَعَلُونِي فِي السَّبْيِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جن کے متعلق فیصلہ کیا تھا ان میں میں بھی شامل تھا، رسول اللہ ﷺ نے جنگجوؤں کے بارے میں قتل کا حکم دیا اور بچوں کو قیدی بنایا گیا، لوگ مجھے لائے اور وہ مجھے بھی قتل کرنے والے تھے، انہوں نے میرا ستر کھول کر دیکھا تو میرے زیرِ ناف بال نہیں نکلے تھے (میں بالغ نہیں ہوا تھا) تو انہوں نے مجھے قیدیوں میں رکھا۔