کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مشرکین کو قیدی بنانے کے بعد مثلہ (اعضاء کاٹنے) کے بجائے گردنیں اڑا کر قتل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18044
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے دو باتیں یاد رکھی ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کو فرض کیا ہے۔ جب تم قتل کرو تو احسن انداز سے اور جب تم ذبح کرو تب بھی احسن انداز سے ذبح کرو اور اپنی چھری کو تیز کر کے اپنے ذبیحہ کو راحت دو۔“
حدیث نمبر: 18045
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُثْلَةِ وَالنُّهْبَةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مثلہ اور ڈاکے“ سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 18046
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ ⦗١١٨⦘ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَمَرَهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: " اغْزُوا بِاسْمِ اللهِ، فَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَقَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللهِ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کو لشکر یا سریے کا امیر مقرر فرماتے تو اللہ سے ڈرنے اور مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت فرماتے، پھر فرماتے: ”اللہ کا نام لے کر غزوہ کرو اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو اور اللہ کے منکروں سے جہاد کرو، غزوہ کرو! خیانت، دھوکا، مثلہ اور غلام کو قتل نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 18047
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ الْبُرْجُمِيِّ، أَنَّ عَامِلًا لِأَبِيهِ أَبَقَ فَجَعَلَ لِلَّهِ عَلَيْهِ إِنْ قَدِرَ عَلَيْهِ لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ، فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهِ بَعَثَنِي إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَنَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ. قَالَ: وَبَعَثَنِي إِلَى سَمُرَةَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَحُثُّ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ قَدْ قَطَّعَ أَيْدِيَ الَّذِينَ اسْتَاقُوا لِقَاحَهُ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، فَإِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَجُلًا رَوَيَا هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَوَيَا فِيهِ، أَوْ أَحَدُهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْطُبْ بَعْدَ ذَلِكَ خُطْبَةً إِلَّا أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ، وَنَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ فِي حَدِيثِ أَنَسٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ہباج بن عمران رجمعی کہتے ہیں کہ میرے والد کا غلام بھاگ گیا۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے اسے پکڑ لیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا۔ جب غلام قابو میں آ گیا تو مجھے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے پوچھنے کے لیے روانہ کر دیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، ”آپ ﷺ خطبہ میں صدقہ کی ترغیب فرماتے اور «الْمُثْلَةِ» ”مثلہ“ سے منع کرتے تھے۔“ کہتے ہیں میں نے سمرہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، ”آپ ﷺ صدقہ پر ابھارتے اور «الْمُثْلَةِ» ”مثلہ“ سے منع فرماتے تھے۔“ آپ ﷺ نے ان لوگوں کے پاؤں کاٹ ڈالے، آنکھوں میں سیخ گرم کر کے پھیرے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور ایک شخص دونوں نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں، پھر اس کے بعد نبی ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا تو اس میں صدقہ پر ابھارا اور «الْمُثْلَةِ» ”مثلہ“ سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 18048
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ بَشَّارٍ، ثنا يَحْيَى بَنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْهَا، وَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَتَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا " فَفْعَلُوا فَصَحُّوا، ثُمَّ مَالُوا عَلَى الرِّعَاءِ فَقَتَلُوهُمْ وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي أَثَرِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا ". لَفْظُ حَدِيثِ هُشَيْمٍ، وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الْوَهَّابِ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: لَا أَحْفَظُ: اشْرَبُوا أَبْوَالَهَا ". ⦗١١٩⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عرینہ قبیلہ کے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ انہیں آب و ہوا موافق نہ آئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو صدقہ کے اونٹوں کے دودھ اور پیشاب پیو۔“ انہوں نے ایسا کیا تو تندرست ہو گئے۔ پھر انہوں نے چرواہوں کو قتل کیا اور مرتد ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ کے اونٹ بھی لے گئے۔ نبی ﷺ کو پتا چلا تو ان کا پیچھا کیا، جب پکڑ کر ان کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ، پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں پھروا دیں اور ان کو پتھریلی زمین میں پھینک دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
(ب) عبدالوہاب، حمید سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ ”تم ان کے پیشاب پیو“ کا ذکر ہے یا نہیں۔
(ب) عبدالوہاب، حمید سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ ”تم ان کے پیشاب پیو“ کا ذکر ہے یا نہیں۔
حدیث نمبر: 18049
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ حُمَيْدٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ، قَالَ: " فَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُثْلَةِ بَعْدَ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں، (یہ) حمید کی حدیث کے ہم معنیٰ ہے کہ عکل قبیلہ کا گروہ تھا، اس کے بعد نبی ﷺ نے ”مثلہ سے منع فرما دیا“۔
حدیث نمبر: 18050
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، زَادَ: ثُمَّ " نَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس حدیث کو نقل فرماتے ہیں، اس میں اضافہ ہے کہ اس کے بعد نبی ﷺ نے ”مثلہ“ سے منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 18051
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ قَتَادَةُ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ يُنْكِرُ حَدِيثَ أَنَسٍ فِي أَصْحَابِ اللِّقَاحِ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عکل و عرینہ کا گروہ۔۔۔ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا۔۔۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے یہ خبر ملی کہ آپ ﷺ اس کے بعد ”صدقہ پر ابھارتے اور مثلہ سے منع فرماتے تھے“۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی بن حسین، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی اونٹنیوں والوں کی حدیث کا انکار کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی بن حسین، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی اونٹنیوں والوں کی حدیث کا انکار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 18052
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، قَالَ: " لَا وَاللهِ مَا سَمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنًا، وَلَا زَادَ أَهْلَ اللِّقَاحِ عَلَى قَطْعِ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلِهِمْ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ ثَابِتٌ صَحِيحٌ، وَمَعَهُ رِوَايَةُ ابْنِ عُمَرَ، وَفِيهِمَا جَمِيعًا أَنَّهُ سَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، فَلَا مَعْنَى لِإِنْكَارِ مَنْ أَنْكَرَ، وَالْأَحْسَنُ حَمْلُهُ عَلَى النَّسْخِ "..
حافظ ثناء اللہ
حضرت جعفر رحمہ اللہ اپنے والد علی بن حسین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے آنکھوں میں سلائیاں نہیں پھیریں، صرف ہاتھ اور پاؤں کاٹے ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات صحیح ثابت ہیں، ان میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری ہیں تو کسی کے انکار کر دینے سے کیا حاصل۔
شیخ فرماتے ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات صحیح ثابت ہیں، ان میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری ہیں تو کسی کے انکار کر دینے سے کیا حاصل۔
حدیث نمبر: 18053
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ قَتَادَةُ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ سِيرِينَ أَنَّ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ، وَفِي رِوَايَةِ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ مَا دَلَّ عَلَى هَذَا، أَوْ حَمَلَهُ عَلَى أَنَّهُ فَعَلَ بِهِمْ مَا فَعَلُوا بِالرِّعَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عرینہ قبیلے کا ایک گروہ نبی ﷺ کے پاس آیا، قتادہ کہتے ہیں کہ ابن سیرین فرماتے ہیں کہ یہ حدود نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
(ب) ہشام قتادہ سے نقل فرماتے ہیں کہ چرواہوں کے ساتھ انہوں نے یہ سلوک کیا تھا جو آپ ﷺ نے عرینہ کے گروہ کے ساتھ کیا تھا۔
(ب) ہشام قتادہ سے نقل فرماتے ہیں کہ چرواہوں کے ساتھ انہوں نے یہ سلوک کیا تھا جو آپ ﷺ نے عرینہ کے گروہ کے ساتھ کیا تھا۔
حدیث نمبر: 18054
وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيَّ، ثنا يَحْيَى بْنُ ⦗١٢٠⦘ غَيْلَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ، قَالَا: ثنا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا " سَمَلَ أَعْيُنَ أُولَئِكَ لِأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرُّعَاةِ ". " لَفْظُ حَدِيثِ الْأَعْرَجِ، وَفِي رِوَايَةِ الْمَرْوَزِيِّ: إِنَّمَا سَمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَهُمْ؛ لِأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرُّعَاةِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَهْلٍ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان تیمی، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیریں؛ کیونکہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔
حدیث نمبر: 18055
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ جَعْفَرٍ الرُّصَافِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ جَدِّهِ الْحَسَنِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا " مَثَّلَ بِهِمْ؛ لِأَنَّهُمْ مَثَّلُوا بِالرَّاعِي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا مثلہ صرف اس لیے کیا؛ کیونکہ انہوں نے چرواہوں کا مثلہ کیا تھا۔