أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ فَقَالَ: " قَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى، وَلَمْ يَكُنْ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، وَلَكِنْ يُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَمَحْفُوظٌ أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِتَالَ الْعَبِيدُ وَالصِّبْيَانُ وَأَحْذَاهُمْ مِنَ الْغَنِيمَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کے ساتھ مل کر لڑائی کی ہے؟ اور کیا ان کو حصہ دیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: عورتیں آپ ﷺ کے لشکر کے ساتھ ہوتی تھیں اور وہ زخمیوں کا علاج معالجہ کرتی تھیں، لیکن ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ نہیں ہوتا تھا جبکہ آپ ﷺ ان کو عطیۃً کچھ دے دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: درست بات یہ ہے کہ نبی ﷺ کے ساتھ لڑائی میں بچے بھی ہوتے تھے۔ آپ ﷺ ان کو غنیمت سے عطیۃً دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: درست بات یہ ہے کہ نبی ﷺ کے ساتھ لڑائی میں بچے بھی ہوتے تھے۔ آپ ﷺ ان کو غنیمت سے عطیۃً دیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَسْأَلُهُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ، هَلْ لَهُمَا مِنَ الْمَغْنَمِ شَيْءٌ؟ قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ: " لَيْسَ لَهُمَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا ". ⦗٥٢⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَذَكَرَ أَبُو يُوسُفَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، يَسْأَلُهُ عَنِ الصَّبِيِّ مَتَى يَخْرُجُ مِنَ الْيُتْمِ؟ وَمَتَى يُضْرَبُ لَهُ بِسَهْمِهِ؟ فَقَالَ: " إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنَ الْيُتْمِ إِذَا احْتَلَمَ، وَيُضْرَبُ لَهُ بِسَهْمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت نجدہ رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ کیا غلام اور عورت کا مالِ غنیمت میں حصہ ہے؟ تو انہوں نے ان کو لکھا کہ ان دونوں کا کوئی حصہ نہیں ہے مگر یہ کہ ان کو «عَطِيَّةً» ”عطیہ“ دیا جائے۔
ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ان کو لکھا اور بچے کے بارے میں سوال کیا کہ کب وہ یتیمی سے نکلتا ہے اور اس کے لیے مالِ غنیمت سے حصہ دیا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: جب بچہ بالغ ہو جائے تو وہ یتیم نہیں رہتا، اس سے نکل جاتا ہے اور اس کے لیے مالِ غنیمت میں حصہ بھی ہوگا۔
ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ان کو لکھا اور بچے کے بارے میں سوال کیا کہ کب وہ یتیمی سے نکلتا ہے اور اس کے لیے مالِ غنیمت سے حصہ دیا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: جب بچہ بالغ ہو جائے تو وہ یتیم نہیں رہتا، اس سے نکل جاتا ہے اور اس کے لیے مالِ غنیمت میں حصہ بھی ہوگا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ الْقُرَشِيِّ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: " وَسَأَلَ عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَخْرُجُ مِنَ الْيُتْمِ وَيَقَعُ حَقُّهُ فِي الْفَيْءِ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِذَا احْتَلَمَ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْيُتْمِ وَوَقَعَ حَقُّهُ فِي الْفَيْءِ. يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَسَقَطَ مِنْ إِسْنَادِهِ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ سے مذکورہ روایت کے بعد یہ منقول ہے کہ یتیم کب یتیمی سے نکلتا ہے اور مالِ فئے سے کب اس کا حق رکھا جائے گا؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”جب بالغ ہو جائے تو بچہ یتیم نہیں رہتا اور اس کا حق مالِ فئے میں ثابت ہو جاتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، أنبأ أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُوبُ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ. الْحَدِيثَ. قَالَ: " وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا، ثُمَّ تُفْرِغَانِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآنِهَا ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ الدَّارِمِيِّ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن جب کچھ لوگ نبی ﷺ سے الگ ہو گئے اور سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے سامنے ڈھال سے آپ ﷺ کو بچا رہے تھے، (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا، وہ اپنی پیٹھوں پر مشکیزے اٹھاتی تھیں اور لوگوں کے منہ میں ڈالتی تھیں، پھر واپس آتی تھیں اور مشکیزے بھر کر پھر جاتیں اور لوگوں کے منہ میں پانی ڈالتی تھیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا، فَيَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى. ⦗٥٣⦘ وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، وَأُمِّ عَطِيَّةَ، وَغَيْرِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگوں میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور انصار کی کچھ دوسری عورتیں رضی اللہ عنہن نبی ﷺ کے ساتھ ہوتی تھیں، جب لڑائی ہوتی یہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: جُرِحَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ، فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ، وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْكُبُ الْمَاءَ عَلَيْهِ بِالْمِجَنِّ، فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ الْمَاءَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا كَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى إِذَا صَارَ رَمَادًا أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ، فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے رسول اکرم ﷺ کے زخم کے بارے میں سوال ہوا جو احد میں لگا تھا۔ انہوں نے کہا: آپ ﷺ کے چہرے کو زخمی کیا گیا تھا اور آپ ﷺ کے رباعی دانت ٹوٹ گئے تھے اور خود آپ ﷺ کے سر پر ٹوٹ گیا تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کا خون دھو رہی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی ڈال رہے تھے۔ جب خون نہ رکا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چٹائی کا ٹکڑا جلا کر اس کی راکھ زخم پر لگائی تو خون بند ہو گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِي، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ثنا عُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، فَلَمْ يَضْرِبْ لِي بِسَهْمٍ وَأَعْطَانِي سَيْفًا فَقُلِّدْتُهُ أَجُرُّ بِنَعْلِهِ فِي الْأَرْضِ، وَأَمَرَ لِي مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خیبر کی جنگ نبی ﷺ کے ساتھ مل کر لڑی اور میں اس وقت غلام تھا، میرے لیے حصہ تو مقرر نہ ہوا مگر اللہ کے نبی ﷺ نے مجھے تلوار دی جو میرے گلے میں ڈال دی گئی، میں اس کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلتا تھا اور آپ ﷺ نے میرے لیے ردی مال کا بھی حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " كُنْتُ أَمْنَحُ أَصْحَابِي الْمَاءَ يَوْمَ بَدْرٍ ". وَفِي رِوَايَةٍ: " كُنْتُ أَسْقِي ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بدر کے دن اپنے ساتھیوں کے لیے پانی بھرتا تھا۔
احمد کی روایت میں ہے: «كُنْتُ أَسْقِي» یعنی ”میں پانی پلاتا تھا۔“
احمد کی روایت میں ہے: «كُنْتُ أَسْقِي» یعنی ”میں پانی پلاتا تھا۔“