السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: شهود من لا فرض عليه القتال باب: اس شخص کا جنگ میں حاضر ہونا جس پر قتال فرض نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 17857
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِي، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ثنا عُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، فَلَمْ يَضْرِبْ لِي بِسَهْمٍ وَأَعْطَانِي سَيْفًا فَقُلِّدْتُهُ أَجُرُّ بِنَعْلِهِ فِي الْأَرْضِ، وَأَمَرَ لِي مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خیبر کی جنگ نبی ﷺ کے ساتھ مل کر لڑی اور میں اس وقت غلام تھا، میرے لیے حصہ تو مقرر نہ ہوا مگر اللہ کے نبی ﷺ نے مجھے تلوار دی جو میرے گلے میں ڈال دی گئی، میں اس کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلتا تھا اور آپ ﷺ نے میرے لیے ردی مال کا بھی حکم دیا۔