السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: شهود من لا فرض عليه القتال باب: اس شخص کا جنگ میں حاضر ہونا جس پر قتال فرض نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 17851
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ فَقَالَ: " قَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى، وَلَمْ يَكُنْ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، وَلَكِنْ يُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَمَحْفُوظٌ أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِتَالَ الْعَبِيدُ وَالصِّبْيَانُ وَأَحْذَاهُمْ مِنَ الْغَنِيمَةِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کے ساتھ مل کر لڑائی کی ہے؟ اور کیا ان کو حصہ دیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: عورتیں آپ ﷺ کے لشکر کے ساتھ ہوتی تھیں اور وہ زخمیوں کا علاج معالجہ کرتی تھیں، لیکن ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ نہیں ہوتا تھا جبکہ آپ ﷺ ان کو عطیۃً کچھ دے دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: درست بات یہ ہے کہ نبی ﷺ کے ساتھ لڑائی میں بچے بھی ہوتے تھے۔ آپ ﷺ ان کو غنیمت سے عطیۃً دیتے تھے۔