کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مشرکین کو معاف کرنے کے منسوخ ہونے، مشرکین کے حملہ کرنے تک ان سے قتال نہ کرنے کی ممانعت کے منسوخ ہونے، اور حرمت والے مہینوں میں قتال کی ممانعت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17742
قَالَ الشَّافِعِيُّ: يُقَالُ نُسِخَ النَّهْيُ هَذَا كُلُّهُ بِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ} [البقرة: 193].
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کہا جاتا ہے کہ یہ ساری ممانعت اللہ عزوجل کے اس فرمان سے منسوخ ہو گئی: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ ’اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے۔‘ [سورة البقرة: 193]“
حدیث نمبر: 17742
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، ⦗٢٠⦘ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ: {فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ} [التوبة: ٥]، وَقَوْلِهِ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ} [التوبة: ٢٩]، قَالَ: فَنَسَخَ هَذَا الْعَفْوَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ، وَقَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ} [التوبة: ٧٣]، فَأَمَرَهُ اللهُ بِجِهَادِ الْكُفَّارِ بِالسَّيْفِ، وَالْمُنَافِقِينَ بِاللِّسَانِ، وَأَذْهَبَ الرِّفْقَ عَنْهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ﴾ [سورة التوبة: 5] ”مشرکین کو جہاں پاؤ ان کو قتل کر دو۔“ اور اسی طرح اس آیت ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [سورة التوبة: 29] ”تم ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان آیات سے مشرکین سے درگزر کو منسوخ کر دیا گیا، اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة التوبة: 73] ”اے نبی ﷺ! کفار اور منافقین سے قتال کیجیے اور ان پر سختی کیجیے۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس آیت میں کفار سے جہاد بالسیف کرنے کا حکم دیا اور منافقین سے جہاد باللسان کا حکم دیا اور ان پر نرمی کرنے کو ختم کر دیا۔
حدیث نمبر: 17743
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَوْلُهُ: " {وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ} [الحجر: ٩٤]، وَ {لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ} [الغاشية: ٢٢]، يَقُولُ: لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ {فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ} [المائدة: ١٣]، {وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا} [التغابن: ١٤]، {فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ} [البقرة: ١٠٩]، {قُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللهِ} [الجاثية: ١٤]، وَنَحْوُ هَذَا فِي الْقُرْآنِ أَمَرَ اللهُ بِالْعَفْوِ عَنِ الْمُشْرِكِينَ وَأَنَّهُ نَسْخَ ذَلِكَ كُلَّهُ قَوْلُهُ: {فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ} [التوبة: ٥]، وَقَوْلُهُ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ} [التوبة: ٢٩] إِلَى قَوْلِهِ: {وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: ٢٩]، فَنَسَخَ هَذَا الْعَفْوَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
اسی سند سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق فرمایا: ﴿وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 106] اور ﴿لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ﴾ [سورة الغاشية: 22] انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہیں اور اسی طرح یہ قول ﴿فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ﴾ [سورة المائدة: 13] ”ان کو معاف کیجیے اور ان سے درگزر کیجیے۔“ اور ایسے ہی ﴿وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا﴾ [سورة التغابن: 14] اور ﴿فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ﴾ [سورة البقرة: 109] ”ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنا کوئی اور حکم صادر فرمائیں۔“ اور یہ آیت کریمہ ﴿قُل لِّلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّهِ﴾ [سورة الجاثية: 14] ”آپ ﷺ ایمان والوں سے کہہ دیں کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے“ اور ان جیسی جتنی بھی قرآن مجید میں آیات ہیں جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے درگزر کرنے کا حکم دیا وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ﴾ [سورة التوبة: 5] اور اس فرمان ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [سورة التوبة: 29] ”تم ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔“ سے مشرکین سے درگزر کو منسوخ کردیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 17744
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ هُوَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " {فَإِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا، إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ} [النساء: ٩٠] الْآيَةَ، وَقَالَ: {لَا يَنْهَاكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ} [الممتحنة: ٨]، الْآيَةَ، ثُمَّ نَسَخَ هَؤُلَاءِ فَأَنْزَلَ اللهُ: {بَرَاءَةٌ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ} [التوبة: ١] إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ} [التوبة: ٥]، وَأَنْزَلَ {وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً} [التوبة: ٣٦]، قَالَ: {وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا} [الأنفال: ٦١] ثُمَّ نَسْخَ ذَلِكَ هَذِهِ الْآيَةُ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ} [التوبة: ٢٩] ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَإِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ﴾ [سورة النساء: 89-90] ”پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو انھیں پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی ہاتھ لگ جائیں۔ خبردار! ان میں سے کسی کو بھی اپنا رفیق اور مددگار نہ بنا بیٹھنا سوائے ان لوگوں کے جو اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جن سے تمہارا معاہدہ ہو چکا ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ﴾ [سورة الممتحنة: 8] ”جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں کی اور نہ تم کو جلا وطن کیا، اللہ تعالیٰ تم کو ان کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کرنے سے نہیں روکتا۔۔۔“ پھر یہ آیات منسوخ ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿بَرَاءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة التوبة: 1] اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک: ﴿فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ﴾ [سورة التوبة: 5] ”اللہ اور اس کا رسول ان مشرکین سے اعلانِ برائت کرتے ہیں جن سے تم نے عہد کیا ہے۔“ یہاں تک: ”جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو جہاں بھی تم پاؤ قتل کر دو۔“ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: ﴿وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً﴾ [سورة التوبة: 36] ”مشرکین سے تم سب مل کر قتال کرو جس طرح وہ سب مل کر تم سے قتال کرتے ہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ﴾ [سورة الأنفال: 61] ”اور اگر یہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ ﷺ بھی ہو جائیں۔“ یہ والی آیت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہو گئی: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ﴾ [سورة التوبة: 29] ”ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور نہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 17745
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَاقُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عُبَيْدَةَ بْنَ الْحَارِثِ. قَالَ: فَلَمَّا انْطَلَقَ لِيَتَوَجَّهَ بَكَى صَبَابَةً إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ مَكَانَهُ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَحْشٍ وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا، وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَقْرَأَهُ إِلَّا لِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، لَا تُكْرِهَنَّ أَحَدًا مِنْ ⦗٢١⦘ أَصْحَابِكَ عَلَى الْمَسِيرِ مَعَكَ، فَلَمَّا صَارَ إِلَى ذَلِكَ الْمَوْضِعِ قَرَأَ الْكِتَابَ وَاسْتَرْجَعَ، قَالَ: سَمْعًا وَطَاعَةً لِلَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: فَرَجَّعَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ وَمَضَى بَقِيَّتُهُمْ مَعَهُ، فَلَقُوا ابْنَ الْحَضْرَمِيِّ فَقَتَلُوهُ، فَلَمْ يَدْرِ ذَلِكَ مِنْ رَجَبٍ أَوْ مِنْ جُمَادَى الْآخِرَةِ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: قَتَلَهُمْ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَنَزَلَتْ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ} [البقرة: ٢١٧]، إِلَى قَولِهِ: {وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ} [البقرة: ٢١٧]. قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: لَئِنْ كَانُوا أَصَابُوا خَيْرًا مَا لَهُمْ أَجْرٌ، فَنَزَلَتْ: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللهِ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گروہ کو روانہ کیا اور اس پر عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور جب وہ جانے کے لیے نکلا تو اس کو رسول اللہ ﷺ کی محبت نے رلا دیا۔ آپ ﷺ نے ان کی جگہ پر عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو امیر بنا دیا اور ایک خط لکھ کر دیا اور ان سے کہا کہ اس کو فلاں جگہ پر کھول کر پڑھنا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھ سفر پر لے جانے کے لیے اپنے کسی بھی ساتھی پر جبر نہ کرنا۔“ جب وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں پر آپ ﷺ نے خط کھولنے کا حکم دیا تھا تو انہوں نے خط کھول کر پڑھا اور ساتھ ہی «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“ بھی پڑھ دیا اور کہا کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی بات سنی اور اس کی اطاعت کی۔ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھیوں میں سے آدمی واپس آگئے اور باقی ان کے ساتھ چلتے رہے اور ابن حضرمی ملے اور انہوں نے اس کو قتل کر دیا اور ان کو پتہ نہ چلا کہ یہ رجب کا مہینہ ہے یا جمادی الآخرۃ کا تو مشرکین نے کہا کہ تم نے حرمت والے مہینے میں قتل کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ والی آیات نازل فرمائیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ﴾ [سورة البقرة: 217] اس قول تک ﴿وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ﴾ [سورة البقرة: 217] ”یہ لوگ آپ ﷺ سے حرمت والے مہینے میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ ان میں قتال کرنا تو کبیرہ گناہ ہے ۔۔۔ لیکن فتنہ پھیلانا تو قتل کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ بعض مسلمانوں نے کہا کہ اگر انہوں نے اچھا کام بھی کیا ہے تو اس پر ان کو اجر نہیں ملے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 218] ”جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا تو یہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔“
حدیث نمبر: 17746
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ سَرِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَحْشٍ الْأَسَدِيَّ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى هَبَطُوا نَخْلَةَ فَوَجَدُوا بِهَا عَمْرَو بْنَ الْحَضْرَمِيِّ فِي عِيرِ تِجَارَةٍ لِقُرَيْشٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِ ابْنِ الْحَضْرَمِيِّ، وَنُزُولِ قَوْلِهِ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ} [البقرة: ٢١٧]، قَالَ: فَبَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَ ابْنَ الْحَضْرَمِيِّ، وَحَرَّمَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ كَمَا كَانَ يُحَرِّمُهُ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {بَرَاءَةٌ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ} [التوبة: ١] ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَكَأَنَّهُ أَرَادَ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً} [التوبة: ٣٦]، وَالْآيَةُ الَّتِي ذَكَرَهَا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَعَمُّ فِي النَّسْخِ، وَاللهُ أَعْلَمُ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں میں سے ایک لشکر روانہ کیا اور اس پر عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا۔ وہ سفر کرتے کرتے ایک نخلستان میں اترے، وہاں پر انہوں نے قریش کے تجارتی قافلے میں عمرو بن حضرمی کو پایا اور انہیں قتل کر دیا اور اسی طرح انہوں نے پوری حدیث بیان کی جس میں اس آیت کے نزول کا بھی ذکر ہے ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ﴾ [سورة البقرة: 217] اور اس میں انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرمی کی دیت دی اور حرمت والے مہینے کی حرمت کو برقرار رکھا جیسا کہ اس کی حرمت کو وہ لوگ باقی رکھتے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ [سورة التوبة: 1] ”اللہ اور اس کا رسول بری ہیں۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس آیت: ﴿وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً﴾ [سورة التوبة: 36] کہ ”مشرکین سے سب مل کر قتال کرو“ اس کو نسخ میں عام قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس آیت: ﴿وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً﴾ [سورة التوبة: 36] کہ ”مشرکین سے سب مل کر قتال کرو“ اس کو نسخ میں عام قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 17747
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَاسْتُفْتِيَ: " هَلْ يَصْلُحُ لِلْمُسْلِمِينَ أَنْ يُقَاتِلُوا الْكُفَّارَ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ؟ ". فَقَالَ سَعِيدٌ: نَعَمْ وَقَالَ ذَلِكَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ.
حافظ ثناء اللہ
مخرمہ بن بکیر رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ کفار سے حرمت والے مہینوں میں مسلمانوں کا قتال کرنا درست ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں! اور کہا کہ یہ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کا قول ہے۔
حدیث نمبر: 17748
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ سُفْيَانَ عَنْ قَوْلِ اللهِ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ} [البقرة: ٢١٧]، قَالَ: " هَذَا شَيْءٌ مَنْسُوخٌ وَقَدْ مَضَى، وَلَا بَأْسَ بِالْقِتَالِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَغَيْرِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سفیان رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ...﴾ [سورة البقرة: 217] کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے اور اب حرمت والے مہینوں اور اس کے علاوہ میں ان سے قتال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔