السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: من سرق من بيت المال شيئا باب: اس شخص کا بیان جس نے بیت المال سے کوئی چیز چرائی ہو۔
حدیث نمبر: 17305
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، أنبأ أَحْمَدُ، أنبأ سَعِيدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ الْأَبْرَصِ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ خُمُسًا بَيْنَ النَّاسِ، فَسَرَقَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ مِغْفَرَ حَدِيدٍ مِنَ الْمَتَاعِ، فَأُتِيَ بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " لَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ، هُوَ خَائِنٌ، وَلَهُ نَصِيبٌ " وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ دِثَارِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ الْأَبْرَصِ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرَجُلٍ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
ابن عبید بن ابرص کہتے ہیں کہ میں رحبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، آپ لوگوں میں خمس تقسیم کر رہے تھے کہ حضرموت کے ایک شخص نے سامان میں سے لوہے کا ایک خود چوری کر لیا، اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا ہاتھ نہیں کٹے گا، یہ خائن ہے، اس کے لیے (اس میں) حصہ ہے۔