کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان دلائل کا بیان جن سے جرمانہ دوگنا نہ کرنے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: لَا تُضَعَّفُ الْغَرَامَةُ عَلَى أَحَدٍ فِي شَيْءٍ، إِنَّمَا الْعُقُوبَةُ فِي الْأَبْدَانِ لَا فِي الْأَمْوَالِ، وَإِنَّمَا تَرَكْنَا تَضْعِيفَ الْغَرَامَةِ مِنْ قِبَلِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيمَا أَفْسَدَتْ نَاقَةُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا، قَالَ: فَإِنَّمَا يَضْمَنُونَهُ بِالْقِيمَةِ لَا بِقِيمَتَيْنِ، قَالَ: وَلَا يُقْبَلُ قَوْلُ الْمُدَّعِي، يَعْنِي فِي مِقْدَارِ الْقِيمَةِ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: چٹی کو کسی چیز پر بھی نہیں بڑھایا جائے گا اور جسم کے اعضاء میں بدلہ لیا جائے گا مال میں نہیں اور ہم نے چٹی بڑھانے کو چھوڑا ہے اس سے پہلے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس اونٹنی کا فیصلہ کیا جو براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی تھی کہ ”دن کی حفاظت مال والے پر ہے اور جو چوپائے رات کو خراب کریں تو اس کا ضامن بھی اس کا اہل ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی ضمانت ایک قیمت ہے، دو قیمتیں نہیں“ اور دعویٰ کرنے والے کی بات کو قیمت کی مقدار میں انہیں قبول کیا جائے گا کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دعویٰ کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ دلیل دے اور جس پر دعویٰ کیا جا رہا ہے اس پر قسم ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، أَنَّ نَاقَةَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا "، وَقَدْ ذَكَرْنَا شَوَاهِدَهُ فِي مَوْضِعِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حرام بن سعد بن محیصہ سے روایت ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی تھی، وہ کسی آدمی کے باغ میں داخل ہوئی اور باغ میں نقصان کیا تو آپ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ”دن میں اس باغ کی حفاظت اس کے مالک پر ہے اور رات کو اگر جانور باغ خراب کرے تو اس کا ضامن اس جانور کا مالک ہوگا۔“