السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما يستدل به على ترك تضعيف الغرامة باب: ان دلائل کا بیان جن سے جرمانہ دوگنا نہ کرنے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 17289
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، أَنَّ نَاقَةَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، دَخَلَتْ حَائِطَ رَجُلٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ عَلَى أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ، وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا "، وَقَدْ ذَكَرْنَا شَوَاهِدَهُ فِي مَوْضِعِهِ.حافظ ثناء اللہ
حرام بن سعد بن محیصہ سے روایت ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی تھی، وہ کسی آدمی کے باغ میں داخل ہوئی اور باغ میں نقصان کیا تو آپ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ”دن میں اس باغ کی حفاظت اس کے مالک پر ہے اور رات کو اگر جانور باغ خراب کرے تو اس کا ضامن اس جانور کا مالک ہوگا۔“