حدیث نمبر: 17286
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَجُلًا، مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ قَالَ: " هِيَ وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلَّا فِيمَا آوَاهُ الْمُرَاحُ وَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَكَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ قَالَ: " هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلَّا مَا آوَاهُ الْجَرِينُ، فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی مزینہ قبیلے سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی رائے پہاڑ کے اوپر بکریوں کے متعلق کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے مثل اور کچھ اس سے زیادہ اور چرنے والے جانور میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر عبرت والی سزا دی جائے گی اور اگر اس کی قیمت ایک ڈھال جتنی ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر اس کی قیمت ایک ڈھال جتنی نہ ہو تو پھر اس کی مثل چٹی دی جائے گی اور اس کو عبرت کے لیے کوڑے مارے جائیں گے۔“ پھر اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق کیا خیال ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے مثل ہے اور عبرت ہے اور لٹکے ہوئے پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر اس کو عبرت والی سزا دی جائے گی۔ کھلیان کھجور کے عوض جب ان کھجوروں کی قیمت ایک ڈھال کے مثل ہو تو ہاتھ کاٹا جائے اور جس کی قیمت اس کو نہ پہنچے تو اس میں اس کے مثل چٹی ہے اور اس کو کوڑے مارے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 17287
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: أَصَابَ غِلْمَانٌ لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ بِالْعَالِيَةِ نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا وَاعْتَرَفُوا بِهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَقَالَ: هَؤُلَاءِ أَعْبُدُكَ قَدْ سَرَقُوا وَانْتَحَرُوا نَاقَةَ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ وَاعْتَرَفُوا بِهَا، فَأَمَرَ كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ، ثُمَّ أَرْسَلَ بَعْدَمَا ذَهَبَ فَدَعَاهُ وَقَالَ: " لَوْلَا أَنِّي أَظُنُّ أَنَّكُمْ تُجِيعُونَهُمْ حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ أَتَى مَا حَرَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَقَطَعْتُ أَيْدِيَهُمْ، وَلَكِنْ وَاللهِ لَئِنْ تَرَكْتُهُمْ لَأُغَرِّمَنَّكَ فِيهِمْ غَرَامَةً تُوجِعُكَ، فَقَالَ: كَمْ ثَمَنُهَا؟ لِلْمُزَنِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِمِائَةٍ، قَالَ: فَأَعْطِهْ ثَمَانَمِائَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ مزینہ قبیلے کی اونٹنی چوری ہوئی، حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے اس کو ذبح کیا اور اعتراف کیا، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف (آدمی) بھیجا اور ذکر کیا کہ تیرے غلام نے اونٹنی چوری کی ہے اور اس نے ذبح کیا اور اس کا اعتراف کیا، تو کثیر بن صلت کو حکم دے کہ وہ اس کے ہاتھ کاٹے، پھر انہوں نے کہا: جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو پہنچا، یعنی چوری کی تو میں اس کا ہاتھ کاٹوں گا، لیکن اللہ کی قسم! اگر آپ ان کو چھوڑ دو گے تو میں ان سے ضرور چٹی لوں گا، پھر پوچھا: اس اونٹنی کی قیمت کتنی تھی؟ حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس کو چار سو درہم میں بھی نہیں دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اس کو آٹھ سو دے۔