أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ ⦗٤٨١⦘ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاتھ پر وہ ہے جو اس نے پکڑا یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے۔“
وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ بِهَمَذَانَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الطِّيبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ سَهْلٍ اللَّبَّادُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَخِي الْمِسْوَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الْخَلَّالُ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ قَاضِي مِصْرَ، ثنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْمِسْوَرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَغْرَمُ السَّارِقُ إِذَا أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ " وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ: " لَا يَغْرَمُ صَاحِبُ السَّرِقَةِ " فَهَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَنِ الْمُفَضَّلِ، فَرُوِيَ عَنْهُ هَكَذَا، وَرُوِيَ عَنْهُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعْدٍ وَرُوِيَ عَنْهُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَخِيهِ الْمِسْوَرِ، فَإِنْ كَانَ سَعْدٌ هَذَا ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَلَا نَعْرِفُ بِالتَّوِارِيخِ لَهُ أَخًا مَعْرُوفًا بِالرِّوَايَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِسْوَرُ، وَلَا ⦗٤٨٢⦘ يَثْبُتُ لِلْمِسْوَرِ الَّذِي يُنْسَبُ إِلَيْهِ سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ سَمَاعٌ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَلَا رُؤْيَةٌ، فَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يَثْبُتْ لَهُ سَمَاعٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِنَّمَا يُقَالُ: إِنَّهُ رَآهُ، وَمَاتَ أَبُوهُ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِنَّمَا أَدْرَكَ أَوْلَادُهُ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَلَمْ يَثْبُتْ لَهُمْ عَنْهُ رِوَايَةٌ وَلَا رُؤْيَةٌ، فَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَا نَعْرِفُهُ وَلَا نَعْرِفُ أَخَاهُ، وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”چور سے تاوان نہ لیا جائے، جب اس پر حد قائم کی جائے۔“ ایک روایت ابو عبداللہ سے ہے کہ ”چور سے تاوان نہ لیا جائے“۔
اس حدیث میں مفضل سے اختلاف کیا گیا ہے: ان سے اسی طرح روایت کی گئی، اور ان سے یونس کے واسطے سے زہری سے، انہوں نے سعد سے روایت کی گئی، اور ان سے یونس کے واسطے سے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے بھائی مسور سے روایت کی گئی۔ اگر یہ سعد، ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کے بیٹے ہیں تو تاریخوں سے ہمیں ان کا کوئی ایسا بھائی معلوم نہیں جو روایت میں معروف ہو اور اسے مسور کہا جاتا ہو، اور اس مسور کا، جس کی طرف سعد بن محمد بن مسور بن ابراہیم منسوب ہیں، اپنے دادا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے نہ سماع ثابت ہے اور نہ دیکھنا، لہٰذا یہ منقطع ہے۔ اور ابراہیم بن عبدالرحمن کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، صرف یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انہیں دیکھا ہے، اور ان کے والد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فوت ہوئے، تو ان کی اولاد نے ان کے والد عبدالرحمن کی وفات کے بعد ہی زمانہ پایا، لہٰذا ان کے لیے ان سے نہ روایت ثابت ہے نہ دیکھنا، پس یہ منقطع ہے۔ اور اگر یہ کوئی اور ہیں تو ہم نہ انہیں جانتے ہیں اور نہ ان کے بھائی کو۔ اور کسی کے لیے اپنے بھائی کے مال میں سے کچھ حلال نہیں سوائے اس کے جو وہ خوش دلی سے دے۔
اس حدیث میں مفضل سے اختلاف کیا گیا ہے: ان سے اسی طرح روایت کی گئی، اور ان سے یونس کے واسطے سے زہری سے، انہوں نے سعد سے روایت کی گئی، اور ان سے یونس کے واسطے سے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے بھائی مسور سے روایت کی گئی۔ اگر یہ سعد، ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کے بیٹے ہیں تو تاریخوں سے ہمیں ان کا کوئی ایسا بھائی معلوم نہیں جو روایت میں معروف ہو اور اسے مسور کہا جاتا ہو، اور اس مسور کا، جس کی طرف سعد بن محمد بن مسور بن ابراہیم منسوب ہیں، اپنے دادا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے نہ سماع ثابت ہے اور نہ دیکھنا، لہٰذا یہ منقطع ہے۔ اور ابراہیم بن عبدالرحمن کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، صرف یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انہیں دیکھا ہے، اور ان کے والد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فوت ہوئے، تو ان کی اولاد نے ان کے والد عبدالرحمن کی وفات کے بعد ہی زمانہ پایا، لہٰذا ان کے لیے ان سے نہ روایت ثابت ہے نہ دیکھنا، پس یہ منقطع ہے۔ اور اگر یہ کوئی اور ہیں تو ہم نہ انہیں جانتے ہیں اور نہ ان کے بھائی کو۔ اور کسی کے لیے اپنے بھائی کے مال میں سے کچھ حلال نہیں سوائے اس کے جو وہ خوش دلی سے دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْكَرَابِيسِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " هُوَ ضَامِنٌ لِلسَّرِقَةِ مَعَ قَطْعِ يَدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ چور کا تاوان کے ساتھ ہاتھ بھی کاٹا جائے گا۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " يَضْمَنُ الِسَرِقَةَ اسْتَهْلَكَهَا أَوْ لَمْ يَسْتَهْلِكْهَا، وَعَلَيْهِ الْقَطْعُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ چور چوری کے مال کا ضامن ہے، چاہے وہ مال اس کے پاس موجود ہو یا موجود نہ ہو، اور اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا۔