کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو کسی دوسرے شخص پر اپنی ہی بیوی کے ساتھ زنا کی تہمت لگائے۔
حدیث نمبر: 17153
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، ثنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُمَانٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَجُلٍ: مَا تَأْتِي امْرَأَتَكَ إِلَّا زِنًا أَوْ حَرَامًا، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: قَذَفَنِي، فَقَالَ: قَذَفَكَ بِأَمْرِ يَحِلُّ لَكَ " هَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک آدمی نے دوسرے کو کہا کہ تو تو اپنی بیوی کے ساتھ زنا اور حرام کام ہی کرتا ہے، تو اس نے یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتائی اور کہا: اس نے مجھ پر تہمت لگائی ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس نے تہمت ایسے کام کی لگائی ہے جو تیرے لیے حلال ہے۔