کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: تہمت (قذف) کے علاوہ دیگر گالم گلوچ کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَشْهَلِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا مُخَنَّثُ، فَاجْلِدُوهُ عِشْرِينَ، وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا يَهُودِيُّ، فَاجْلِدُوهُ عِشْرِينَ " تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ الْأَشْهَلِيُّ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَهُوَ إِنْ صَحَّ مَحْمُولٌ عَلَى التَّعْزِيرِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی کسی کو کہے: اے مخنث! تو اسے بیس کوڑے مارو اور جب کسی کو یہودی کہے تو اسے بھی بیس کوڑے مارو۔“
اسے بیان کرنے میں ابراہیم اشہلی منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں، اور اگر یہ صحیح ہو تو اسے تعزیر پر محمول کیا جائے گا۔
اسے بیان کرنے میں ابراہیم اشہلی منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں، اور اگر یہ صحیح ہو تو اسے تعزیر پر محمول کیا جائے گا۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَصْحَابِهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، " فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ: يَا خَبِيثُ يَا فَاسِقٌ قَالَ: لَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ مَعْلُومٌ، يُعَزِّرُ الْوَالِي بِمَا رَأَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص دوسرے کو «فَاسِق» یا «خَبِيث» کہہ دے تو اس پر کوئی مقرر حد نہیں، ہاں، ولی (حاکم) اپنی رائے کے مطابق تعزیراً سزا دے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْغِطْرِيفُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ ⦗٤٤١⦘ الْكُوفَةِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ سَأَلْتُمُونِي عَنِ الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ: يَا كَافِرُ يَا فَاسِقُ يَا حِمَارُ، وَلَيْسَ فِيهِ حَدٌّ، وَإِنَّمَا فِيهِ عُقُوبَةٌ مِنَ السُّلْطَانِ، فَلَا تَعُودُوا فَتَقُولُوا ".
حافظ ثناء اللہ
اہل کوفہ کے ایک شیخ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم نے مجھ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا ہے جو دوسرے آدمی کو کہتا ہے: اے کافر! اے فاسق! اے گدھے! اس میں کوئی حد نہیں، اس میں تو صرف حاکم کی طرف سے سزا ہے، لہٰذا دوبارہ ایسی بات نہ کہنا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " يُعَاقِبَانِ عَلَى الْهِجَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو رجاء عطاردی کہتے ہیں کہ ہجو بیان کرنے پر عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما سزا دیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي قُتَيْلَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَاهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ يَجْلِدُ مَنْ يَفْتَرِي عَلَى نِسَاءِ أَهْلِ الْمِلَّةِ " وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَهُوَ مَحْمُولٌ إِنْ ثَبَتَ عَلَى التَّعْزِيرِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کو کوڑے مارا کرتے جو اہل ملت کی عورتوں پر جھوٹ بولتے تھے، یہ منقطع ہے۔ اگر ثابت بھی ہو تو یہ تعزیر پر محمول ہوگا۔