السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في الشتم دون القذف باب: تہمت (قذف) کے علاوہ دیگر گالم گلوچ کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17150
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْغِطْرِيفُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ ⦗٤٤١⦘ الْكُوفَةِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ سَأَلْتُمُونِي عَنِ الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ: يَا كَافِرُ يَا فَاسِقُ يَا حِمَارُ، وَلَيْسَ فِيهِ حَدٌّ، وَإِنَّمَا فِيهِ عُقُوبَةٌ مِنَ السُّلْطَانِ، فَلَا تَعُودُوا فَتَقُولُوا ".حافظ ثناء اللہ
اہل کوفہ کے ایک شیخ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم نے مجھ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا ہے جو دوسرے آدمی کو کہتا ہے: اے کافر! اے فاسق! اے گدھے! اس میں کوئی حد نہیں، اس میں تو صرف حاکم کی طرف سے سزا ہے، لہٰذا دوبارہ ایسی بات نہ کہنا۔“