کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: گواہوں کو اس وقت تک روکے رکھنے کا بیان جب تک کہ وہ زنا کو ثابت نہ کر دیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: مُجَالِدٌ أنبأ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: جَاءَتِ الْيَهُودُ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنْهُمْ زَنَيَا، قَالَ: " ائْتُونِي بِأَعْلَمِ رَجُلَيْنِ مِنْكُمْ " فَأَتَوْهُ بِابْنَيْ صُورِيَا، فَنَشَدَهُمَا: " كَيْفَ تَجِدَانِ أَمْرَ هَذَيْنِ فِي التَّوْرَاةِ؟ " قَالَا: نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ: إِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُمْ رَأَوْا ذَكَرَهُ فِي فَرْجِهَا مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ رُجِمَا، قَالَ: " فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَرْجُمُوهُمَا؟ " قَالَا: ذَهَبَ سُلْطَانُنَا، فَكَرِهْنَا الْقَتْلَ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّهُودِ فَجَاءُوا أَرْبَعَةً فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوْا ذَكَرَهُ فِي فَرْجِهَا مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہود ایک عورت اور مرد کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے کہ انہوں نے زنا کر لیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے دو سب سے بڑے عالموں کو بلاؤ۔“ تو صوریا کے دو بیٹوں کو لایا گیا، ان کو قسم دے کر پوچھا: ”تم تورات میں ان کا کیا حکم پاتے ہو؟“ انہوں نے کہا: تورات میں یہ ہے کہ جب چار گواہ یہ گواہی دے دیں کہ ہم نے اس کے ذکر کو اس کی فرج میں دیکھا ہے جیسے سرمچو سرمہ دانی میں ہوتا ہے تو رجم کیا جائے گا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”پھر تم رجم کیوں نہیں کرتے؟“ انہوں نے جواب دیا: ہمارے بڑے زنا کاری کرنے لگے تو ہم نے قتل کو ناپسند کیا۔ نبی ﷺ نے گواہوں کو بلایا اور چاروں نے اسی طرح بالکل صریح گواہی دی تو آپ ﷺ نے انہیں رجم کروا دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ: فَدَعَا بِالشُّهُودِ فَشَهِدُوا.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت، لیکن اس میں گواہوں کو بلانے اور گواہی کا ذکر نہیں ہے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، بِنَحْوٍ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ پہلے گزر چکا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، " أَنَّ نَاسًا، شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ فِي الزِّنَا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَكَذَا تَشْهَدُونَ أَنَّهُ، وَجَعَلَ يُدْخِلُ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ فِي أُصْبُعِهِ الْيُسْرَى، وَقَدْ عَقَدَهَا عَشْرًا.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لوگوں نے ایک شخص پر زنا کی گواہی دی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم اس طرح گواہی دیتے ہو؟ انہوں نے دس کا عقد بنا کر دائیں سبابہ انگلی کو بائیں میں داخل کیا۔