حدیث نمبر: 16492
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ، أَنْبَأَ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، ثَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ، فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " أَلَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَتْلِ صَاحِبِكُمْ؟ " قَالُوا: ⦗٢٣٢⦘ يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّمَا هُمْ يَهُوَدُ، وَقَدْ يَجْتَرِئُونَ عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری خیبر میں قتل ہو گیا۔ اس کے اولیاء نبی ﷺ کے پاس آ گئے اور سارا واقعہ سنایا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اپنے صاحب کے قتل پر گواہی دیتے ہو؟“ تو انہوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! وہاں کوئی مسلم نہیں تھا اور یہودی بڑے بڑے گناہوں پر جرات کر جاتے ہیں“ اور مکمل حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 16493
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدَ شُرَيْحٍ رَجُلَانِ فَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ هَذَا لَهَزَهُ بِمِرْفَقِهِ فِي حَلْقِهِ فَمَاتَ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَتَلَهُ؟ قَالَ الْأَعْمَشُ: فَلَمْ يُجِزْهُ. قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْوَلِيدِ: قَالَ أَصْحَابُنَا: قَدْ يَكُونُ الضَّرْبُ وَلَا يَمُوتُ مِنْهُ، فَلَمَّا لَمْ يَقُولَا: قَتَلَهُ، لَمْ يَحْكُمْ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس دو آدمیوں نے گواہی دی کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس نے اس کی گردن پر مکا مارا اور وہ مر گیا، انہوں نے پوچھا کہ کیا تم اس کے قتل پر گواہی دیتے ہو؟ شیخ ابو الولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مارنے پر گواہی دی تھی، یہ نہیں کہا کہ قتل کیا، اس لیے ان پر حکم نہیں لگایا گیا۔