حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ⦗٢٣١⦘ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ يَقُولُ: الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ، وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا، حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَتِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفِي رِوَايَةِ الزَّعْفَرَانِيِّ أَنْ وَرَّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیت عاقلہ کے لیے ہے اور عورت کو خاوند کی دیت سے کچھ نہیں ملے گا۔ ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے آپ کو خبر دی کہ ”نبی ﷺ نے اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کی دیت سے حصہ دیا تھا“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رجوع کر لیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَتَبَ إِلَى الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ أَنْ يُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ أَشْيَمُ قُتِلَ خَطَأً.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ”وہ اشیم ضبابی رضی اللہ عنہ کی دیت سے ان کی بیوی کو حصہ دیں،“ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اشیم رضی اللہ عنہ کو خطا قتل کیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، وَأَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَا: أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عَائِذُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ بْنُ دُعْمُوصٍ النُّمَيْرِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَعَمِّي قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ دِيَةُ أَبِي عِنْدَ هَذَا، فَمُرْهُ فَلْيُعْطِنِي، قَالَ: " أَعْطِهِ دِيَةَ أَبِيهِ " وَكَانَ قُتِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِأُمِّي مِنْهَا شَيْءٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ " وَكَانَ دِيَةُ أَبِيهِ مِائَةَ بَعِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قرہ بن دعموص نمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرا چچا نبی ﷺ کے پاس آئے، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے والد کی دیت اس کے پاس ہے، اسے کہیے کہ مجھے دے دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اس کے والد کی دیت دے دو۔“ وہ جاہلیت میں قتل کیا گیا تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اس میں میری ماں کا بھی حصہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور دیت 100 اونٹ تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِيَّانَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ مُعَاوِيَةَ ابْنِ عَمِّ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلَابَةَ فَوَجَدْتُ فيهِ: هَذَا مَا اسْتَذْكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِت الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ مِن قَضَاءٍ قَضَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ الدِّيَةَ بَيْنَ الْوَرَثَةِ مِيرَاثٌ عَلَى كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
حجاج صواف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو قلابہ کے چچا زاد معاویہ کی کتاب میں پڑھا جو ابو قلابہ رحمہ اللہ کی کتابوں میں سے تھی، میں نے اس میں پایا، یہ رسول اللہ ﷺ کے وہ فیصلے ہیں جو محمد بن ثابت نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے یاد کروائے کہ: ”دیت کی میراث کتاب اللہ میں جو میراث بیان ہوئی ہے اسی کے مطابق تقسیم ہوگی۔“