کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مسلمانوں کا دارالحرب کے علاوہ مشرکین سے جنگ کے دوران کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر دینا، یا اسے خاص طور پر دشمن سمجھ کر ارادتاً قتل کر دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ هَزِيمَةً تُعْرَفُ فِيهِمْ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ: أَيْ عِبَادَ اللهِ أُخْرَاكُمْ، فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: أَبِي أَبِي فَواللهِ مَا انْحَجَزُوا عَنْهُ حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: غَفَرَ اللهُ لَكُمْ قَالَ عُرْوَةُ: فَوَاللهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ فَرْوَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ،.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ احد کے دن مشرکین شکست کھا گئے تو ابلیس چیخا: ”اے اللہ کے بندو! پیچھے دیکھو۔“ مسلمان سمجھ نہ سکے اور آپس میں پیچھے مڑ کر مارنا شروع کر دیا۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما نے اپنے والد کو دیکھا اور چیخنے لگے: ”میرا باپ! میرا باپ!“ لیکن اللہ کی قسم! وہ نہیں رکے اور انہیں قتل کر دیا، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ تمہیں معاف فرمائے۔“ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیشہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ میں خیر باقی رہی یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: الْيَمَانُ أَبُو حُذَيْفَةَ، وَاسْمُهُ حُسَيْلُ بْنُ جُبَيْرٍ حَلِيفٌ لَهُمْ مِنْ بَنِي عَبْسٍ، أَصَابَهُ الْمُسْلِمُونَ زَعَمُوا فِي الْمَعْرَكَةِ لَا يَدْرُونَ مَنْ أَصَابَهُ، فَتَصَدَّقَ حُذَيْفَةُ بِدَمِهِ عَلَى مَنْ أَصَابَهُ قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَخْطَأَ بِهِ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَئِذٍ فَتَوَشَّقُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ يَحْسَبُونَهُ مِنَ الْعَدُوِّ، وَإِنَّ حُذَيْفَةَ لَيَقُولُ: أَبِي أَبِي، فَلَمْ يَفْقَهُوا قَوْلَهُ حَتَّى فَرَغُوا مِنْهُ، قَالَ حُذَيْفَةُ: يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ، وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَتْ حُذَيْفَةَ عِنْدَهُ خَيْرًا.
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ یمان سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد تھے اور ان کا نام حسیل بن جبیر تھا، یہ بنو عبس کے حلیف تھے۔ وہ جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے، پتا نہیں چلا کہ انہیں کس نے شہید کیا تھا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کا خون معاف کر دیا۔
موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اس دن خطا کھا گئے اور ان کی تلواریں دشمن سمجھ کر آپس میں ٹکرانے لگیں۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ چیخے: میرے والد! میرے والد! لیکن کسی نے نہ سنا اور انہیں شہید کر دیا، تو انہوں نے فرمایا: ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ [سورة يوسف: 92] ”اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔“ تو نبی ﷺ نے ان کی دیت ادا فرمائی، اور اس سے آپ ﷺ کے ہاں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مقام اور بڑھ گیا۔
موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اس دن خطا کھا گئے اور ان کی تلواریں دشمن سمجھ کر آپس میں ٹکرانے لگیں۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ چیخے: میرے والد! میرے والد! لیکن کسی نے نہ سنا اور انہیں شہید کر دیا، تو انہوں نے فرمایا: ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ [سورة يوسف: 92] ”اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔“ تو نبی ﷺ نے ان کی دیت ادا فرمائی، اور اس سے آپ ﷺ کے ہاں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مقام اور بڑھ گیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُطَرِّفٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ شَيْخًا كَبِيرًا، فَرُفِعَ فِي الْآطَامِ مَعَ النِّسَاءِ يَوْمَ أُحُدٍ، فَخَرَجَ يَتَعَرَّضُ الشَّهَادَةَ، فَجَاءَ مِنْ نَاحِيَةِ الْمُشْرِكِينَ فَابْتَدَرَهُ الْمُسْلِمُونَ ⦗٢٢٨⦘ فَتَوَشَّقُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ، وَحُذَيْفَةُ يَقُولُ: أَبِي أَبِي، فَلَا يَسْمَعُونَهُ مِنْ شُغْلِ الْحَرْبِ حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ، وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ بِدِيَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے والد بہت بوڑھے تھے، احد کے دن انہیں عورتوں کے ساتھ قلعوں میں اوپر پہنچا دیا گیا تھا، وہ شہادت کی تلاش میں نکلے اور مشرکین کی جانب سے آئے تو مسلمان ان کی طرف لپکے اور اپنی تلواروں سے انہیں مارنے لگے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے: ”میرے والد! میرے والد!“ لیکن لڑائی میں مشغول ہونے کی وجہ سے وہ ان کی بات نہ سن سکے یہاں تک کہ انہیں قتل کر دیا، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ ”اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔“ تو نبی ﷺ نے ان کے بارے میں دیت کا فیصلہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، قَالَ: وَأَمَّا أَبُو حُذَيْفَةَ فَاخْتَلَفَ عَلَيْهِ أَسْيَافُ الْمُسْلِمِينَ فَقَتَلُوهُ وَلَا يَعْرِفُونَهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَبِي أَبِي، فَقَالُوا: وَاللهِ إِنْ عَرَفْنَاهُ وَصَدَقُوا، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ، وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَدِيَهُ فَتَصَدَّقَ بِهِ حُذَيْفَةُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَزَادَهُ ذَلِكَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ پر تلواریں مختلف ہوگئیں اور وہ مسلمانوں کے ہاتھوں ہی شہید ہوگئے، وہ انہیں پہچانتے نہ تھے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ چلاتے بھی رہے: ”میرے والد! میرے والد!“ تو وہ لوگ کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم نے انہیں نہیں پہچانا، اور انہوں نے سچ کہا، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» ”اللہ تمہیں معاف فرمائے، وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے“، پھر نبی ﷺ نے اپنی طرف سے دیت دینا چاہی تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے مسلمانوں پر ہی صدقہ کر دی، تو اس سے رسول اللہ ﷺ کے ہاں ان کا مقام اور بڑھ گیا۔